Column

ریڈیو: گم گشتہ یادوں کی بازگشت

’’ ریڈیو: گم گشتہ یادوں کی بازگشت‘‘
شہرِ خواب ۔۔۔۔
صفدر علی حیدری
انسانی زندگی میں کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو وقت کے ساتھ خاموش نہیں ہوتیں، بلکہ یادوں کی تہوں میں اتر کر ہمیشہ کے لیے زندہ ہو جاتی ہیں۔ یہ آوازیں محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتیں بلکہ ایک پورے عہد، ایک پورے احساس اور ایک پورے وجود کی نمائندگی کرتی ہیں۔ ریڈیو بھی ایک ایسی ہی آواز ہے ۔ ایک ایسی آواز جو نہ صرف فضا میں سفر کرتی ہے بلکہ انسان کے باطن میں اتر کر اسے اس کے ماضی، اس کی شناخت اور اس کے وجود سے جوڑ دیتی ہے ۔ اسی اہمیت کے پیش نظر ہر سال 13فروری کو دنیا بھر میں ’’ ریڈیو کا عالمی دن‘‘ منایا جاتا ہے، تاکہ اس عظیم ایجاد کے کردار، اس کی معنویت اور اس کے انسانی زندگی پر اثرات کو تسلیم کیا جا سکے۔
ریڈیو محض ایک سائنسی ایجاد نہیں بلکہ انسانی تنہائی کے خلاف ایک خاموش بغاوت ہے۔ یہ وہ ذریعہ ہے جس نے فاصلے کو بے معنی بنا دیا، خاموشی کو آواز دی، اور انسان کو اس کے وجود کے احساس سے روشناس کرایا۔ جب پہلی بار آواز نے فضا کی لہروں پر سفر کیا ہوگا، تو یہ محض ایک سائنسی تجربہ نہیں تھا بلکہ یہ انسانی شعور کی توسیع تھی۔ یہ اس بات کا اعلان تھا کہ انسان اب صرف اپنے جسم تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کی آواز اس کے وجود سے آزاد ہو کر بھی زندہ رہ سکتی ہے۔
ایک وقت تھا جب کسی گھر میں ریڈیو کا ہونا محض ایک سہولت نہیں بلکہ ایک اعزاز سمجھا جاتا تھا۔ یہ گھر کے وقار، اس کی شناخت اور اس کے شعور کی علامت ہوتا تھا۔ خاص طور پر نیشنل کمپنی کا دو بینڈ والا ریڈیو ایک خواب کی مانند ہوتا تھا۔ اس کی مضبوط ساخت، اس کی سنجیدہ خاموشی اور پھر اس میں سے ابھرتی ہوئی آواز، یہ سب کسی جادو سے کم نہیں تھا۔ جب اسے آن کیا جاتا تو پہلے ایک مدھم سی سرسراہٹ سنائی دیتی، گویا فضا اپنی خاموشی کو توڑنے سے پہلے اجازت لے رہی ہو۔ پھر اچانک ایک واضح آواز ابھرتی، ’’ یہ ریڈیو پاکستان ہے‘‘، اور یوں محسوس ہوتا جیسے فاصلے سمٹ گئے ہوں اور دنیا ایک نقطے پر آ گئی ہو۔
اس ریڈیو کی ایک خاص بات یہ تھی کہ یہ راولپنڈی اسٹیشن کو نہایت صفائی سے پکڑ لیتا تھا۔ اس زمانے میں نشریات کا صاف سنائی دینا بھی ایک نعمت سے کم نہیں تھا۔ لوگ اینٹینا کو مختلف زاویوں پر گھماتے، کبھی کھڑکی کے پاس رکھتے، کبھی صحن میں لے جاتے، تاکہ آواز صاف ہو جائے۔ یہ محض ایک تکنیکی عمل نہیں تھا بلکہ یہ اس خواہش کا اظہار تھا کہ انسان آواز سے جڑنا چاہتا ہے، وہ اس خاموشی کو توڑنا چاہتا ہے جو اس کے اور دنیا کے درمیان حائل ہے۔یہ وہ دور تھا جب ٹیلی ویژن عام نہیں تھا۔ اگر کہیں تھا بھی تو ہر گھر کی دسترس میں نہیں تھا، اور نہ ہی ہر میچ یا ہر پروگرام اس پر نشر ہوتا تھا۔ کرکٹ، جو اس خطے کے لوگوں کے لیے محض ایک کھیل نہیں بلکہ ایک جذبہ ہے، اکثر صرف ریڈیو پر سنا جاتا تھا۔ ہمیں میدان نظر نہیں آتا تھا، مگر ہم ہر منظر دیکھ رہے ہوتے تھے۔ کمنٹیٹر کی آواز میں جوش ہوتا تھا، اس کے الفاظ میں زندگی ہوتی تھی، اور اس کی بیان کردہ ہر تفصیل ہمارے ذہن میں ایک مکمل تصویر بنا دیتی تھی۔
جب وہ کہتا، ’’ گیند باز دوڑتا ہوا آیا، گیند پھینکی، بلے باز نے شاٹ کھیلا‘‘۔۔۔ تو ہم اس شاٹ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوتے تھے، حالانکہ ہماری آنکھوں کے سامنے کچھ نہیں ہوتا تھا۔ یہ ریڈیو کی سب سے بڑی طاقت تھی، یہ انسان کے تخیل کو زندہ رکھتا تھا۔ یہ انسان کو ایک فعال شریک بناتا تھا، نہ کہ محض ایک خاموش ناظر۔
ریڈیو صرف کھیل کا ذریعہ نہیں تھا بلکہ یہ جذبات کا بھی امین تھا۔ اس پر نشر ہونے والے گانے ہمارے دل کی آواز بن جاتے تھے۔ ہم اپنے پسندیدہ گانوں کے لیے خطوط لکھتے تھے۔ یہ خطوط محض الفاظ نہیں ہوتے تھے بلکہ ان میں ہماری خواہشیں، ہماری امیدیں اور ہماری پہچان شامل ہوتی تھی۔ جب کبھی ہمارا نام ریڈیو پر لیا جاتا، یا ہماری فرمائش کا گانا نشر ہوتا، تو یہ لمحہ ہمارے لیے کسی معجزے سے کم نہیں ہوتا تھا۔ ہمیں یوں محسوس ہوتا جیسے ہماری آواز بھی اس فضا کا حصہ بن گئی ہے، جیسے ہم بھی اس خاموش مکالمے میں شامل ہو گئے ہیں۔
یہ وہ وقت تھا جب انتظار کا بھی ایک حسن تھا۔ ہم پروگرام کے وقت کا انتظار کرتے تھے، ہم اپنی فرمائش کے نشر ہونے کا انتظار کرتے تھے، ہم اس آواز کا انتظار کرتے تھے جو ہمیں ہماری تنہائی سے نکال کر ایک وسیع دنیا سے جوڑ دیتی تھی۔ یہ انتظار محض وقت کا گزرنا نہیں تھا بلکہ یہ ایک روحانی تجربہ تھا، ایک ایسا تجربہ جو ہمیں صبر، امید اور تعلق کا احساس دیتا تھا۔
ریڈیو دراصل انسان کی اس بنیادی خواہش کا مظہر ہے کہ وہ سنا جائے اور وہ سن سکے۔ یہ انسان کے وجود کی توسیع ہے۔ جب انسان بولتا ہے اور اس کی آواز فضا میں سفر کرتی ہے، تو وہ محض الفاظ ادا نہیں کر رہا ہوتا بلکہ وہ اپنے وجود کو پھیلا رہا ہوتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو وقت اور مکان کی حدود سے آزاد کر رہا ہوتا ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں ریڈیو نے نہ صرف معلومات فراہم کیں بلکہ قومی شعور کو بھی تشکیل دیا۔ ریڈیو پاکستان کی آواز نے جنگوں کے دوران قوم کو حوصلہ دیا، آفات کے دوران رہنمائی فراہم کی، اور امن کے وقت ثقافت اور ادب کو فروغ دیا۔ یہ آواز محض ایک نشریہ نہیں تھی بلکہ یہ قوم کی اجتماعی روح کی نمائندگی تھی۔
وقت گزرتا گیا، اور دنیا بدلتی گئی۔ ٹیلی ویعن آیا، پھر انٹرنیٹ آیا، پھر سوشل میڈیا آیا۔ تصویر نے آواز کو پیچھے چھوڑنے کی کوشش کی، مگر آواز کبھی ختم نہیں ہوئی۔ ریڈیو نے خود کو نئے دور کے مطابق ڈھال لیا۔ ایف ایم ریڈیو، آن لائن ریڈیو اور پوڈکاسٹ کی صورت میں یہ آج بھی زندہ ہے۔ یہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ آواز کی طاقت تصویر سے زیادہ دیرپا ہوتی ہے، کیونکہ تصویر آنکھ کو متاثر کرتی ہے، مگر آواز روح کو چھو لیتی ہے۔
آج جب ہم ریڈیو کا عالمی دن مناتے ہیں، تو یہ محض ایک ایجاد کو خراج تحسین پیش کرنا نہیں بلکہ یہ اپنی یادوں، اپنی شناخت اور اپنے وجود کو تسلیم کرنا ہے۔ یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ کبھی ایک سادہ سا ریڈیو ہمارے لیے پوری دنیا تھا۔ یہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ترقی کے اس شور میں بھی بعض آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو خاموشی سے انسانیت کی خدمت کرتی رہتی ہیں۔
شاید آج بھی کہیں کسی کمرے کے کونے میں رکھا ہوا ایک پرانا ریڈیو خاموش پڑا ہو، مگر اس کی خاموشی میں بھی ایک آواز چھپی ہوئی ہے۔ ایک ایسی آواز جو ہمیں پکار رہی ہے، ہمیں ہمارے ماضی کی طرف بلا رہی ہے، اور ہمیں یہ یاد دلا رہی ہے کہ ہم محض جسم نہیں بلکہ آواز بھی ہیں۔
کیوں کہ انسان خود بھی ایک ریڈیو ہے ۔ ایک ایسا ریڈیو جو اپنے اندر بے شمار آوازیں لیے ہوئے ہے۔ کچھ آوازیں وہ دنیا کو سناتا ہے، اور کچھ آوازیں وہ صرف خود سنتا ہے۔ اور شاید زندگی کا اصل مقصد بھی یہی ہے ، اپنی آواز کو پہچاننا، اور اسے اس فضا میں آزاد کر دینا جہاں وہ ہمیشہ کے لیے زندہ رہ سکے۔

جواب دیں

Back to top button