قیامت کا پودا

قیامت کا پودا
علیشبا بگٹی
پلس پوائنٹ
قیامت کا پودا، صحرا کے سینے سے اُبھرتا ایک زندہ معجزہ ہے۔ یہ پودا برسوں تک سوکھا، بے جان، اور خاموش پڑا رہتا ہے، جیسے زندگی نے اس سے منہ موڑ لیا ہو۔ مگر جیسے ہی بارش کی چند بوندیں اسے چھوتی ہیں۔ وہ لمحوں میں جاگ اٹھتا ہے، سبز ہو جاتا ہے، اور زندگی ایک بار پھر اس کی رگوں میں دوڑنے لگتی ہے۔ سائنس کی دُنیا میں یہ Resurrection Plant اورSelaginella lepidophyllaکہلاتا ہے۔ ایسا نایاب پودا جو نمی کھو کر مکمل طور پر سوکھ جاتا ہے، لیکن پانی ملتے ہی دوبارہ زندہ ہو جاتا ہے۔ یہ حیرت انگیز صلاحیت cryptobiosisکہلاتی ہے۔ روحانیت کہتی ہے، یہ پودا ہمیں سکھاتا ہے کہ مایوسی، تنہائی اور خشک وقت چاہے جتنا بھی طویل ہو۔ اگر ایک بوندِ رحمت چھو جائے تو نئی زندگی جنم لیتی ہے۔ نباتات کی دنیا میں یہ موافقت، مزاحمت اور حیاتِ نو کی سب سے خوبصورت مثال ہے۔ کہ قدرت کبھی ہار نہیں مانتی، بس وقت کا انتظار کرتی ہے۔ یہ پودا صبر، امید اور رب کی رحمت پر یقین رکھنے والوں کے لیے قدرت کا خاموش پیغام ہے۔
کہتے ہیں ایک بادشاہ تھا۔ سلطنت وسیع، خزانے بھرے، لشکر طاقتور، مگر دل ویران۔ وہ ہر صبح محل کی کھڑکی سے باہر دیکھتا اور ایک ہی سوال خود سے کرتا: ’’ کیا طاقت ہمیشہ باقی رہتی ہے؟‘‘۔
ایک دن اس نے حکم دیا کہ دنیا کے دانائوں کو دربار میں بلایا جائے۔ شرط یہ رکھی کہ وہ ایسی بات کہیں جو غم میں تسلی دے اور غرور میں جھنجھوڑ دے۔ کئی اقوال آئے، کئی کتابیں پیش ہوئیں، مگر بادشاہ مطمئن نہ ہوا۔ آخر ایک درویش آیا۔ اس نے نہ کتاب دی، نہ تقریر کی، بس بادشاہ کو صحرا کی طرف چلنے کا کہا۔ صحرا میں پہنچ کر ایک سوکھا ہوا پودا بادشاہ کو دکھا کر کہا: ’’ اسے دیکھ لیں، وقت خود اس کا مفہوم سمجھا دے گا‘‘۔ مہینوں بعد بارش ہوئی۔ پھر بادشاہ کو صحرا لے کر گیا۔ بادشاہ نے دیکھا وہی سوکھا پودا سبز ہوگیا۔ بادشاہ سمجھ گیا۔ غم کے بعد خوشی بھی آتی ہے۔
فارسی میں ہے، شب اگر دراز است، صبح خواھد شد یعنی اگر رات لمبی بھی ہو، صبح ضرور آئے گی۔
انگریزی کہتی ہے، This too shall passیعنی یہ وقت بھی گزر جائے گا۔ اردو کہتی ہے، وقت ایک سا نہیں رہتا۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ روم جل گیا، مگر انسان باقی رہا۔ بغداد اجڑ گیا، مگر علم زندہ رہا۔ اندلس ختم ہوگیا، مگر تہذیب مٹ نہ سکی۔ ابنِ خلدون نے کہا تھا، ’’ زوال بھی تہذیب کے نظام کا حصہ ہے، حادثہ نہیں‘‘۔ یہی اصول فطرت کا ہے، کچھ مرنے کے لیے پیدا ہوتا ہے، تاکہ کچھ نئے سرے سے جنم لے سکے۔ اسلام بھی موت کے بعد زندگی کا فلسفہ دیتا ہے۔
قرآن بار بار ایک سوال پوچھتا ہے: ’’ کیا تم نے زمین کو مردہ نہیں دیکھا، پھر ہم نے اس میں جان ڈال دی؟‘‘۔
اسلام میں قیامت صرف آخری دن کا نام نہیں۔ یہ زوال کے بعد نئی ، نہ ختم ہونے والی زندگی کا پیغام ہے۔ یہ ہر زوال کے بعد کی واپسی کا استعارہ ہے۔
ارسطو نے کہا تھا کہ:’’Potential never dies, it only waits‘‘۔
وجود کبھی ختم نہیں ہوتا، بس معطل ہو جاتا ہے۔ یعنی صلاحیت کبھی مرتی نہیں، وہ صرف انتظار کرتی ہے۔ امکان فنا نہیں ہوتا، صرف وقت کا منتظر رہتا ہے۔
نفسیات کہتی ہے کہ شدید صدمے میں انسان emotional shutdownمیں چلا جاتا ہے۔ وہ ہنستا نہیں، روتا نہیں، خواب نہیں دیکھتا، مگر اندر کہیں زندگی محفوظ رہتی ہے۔ ایک مثبت لمس، ایک امید، ایک تعلق، اور انسان دوبارہ سبز ہو جاتا ہے۔
سائنس اسے cryptobiosisکہتی ہے، جہاں زندگی خود کو سمیٹ لیتی ہے، توانائی صفر کے قریب، مگر وجود برقرار۔ یہی اصول بیج، جراثیم، حتیٰ کہ ستاروں میں بھی ہے۔ کائنات مرنے سے زیادہ انتظار پر یقین رکھتی ہے۔ یہی آفاقی قانون ہے کہ Everything Returns، نیوٹن نے حرکت کا قانون دیا، یعنی ہر شے لوٹ آتی ہے۔ کائنات میں کوئی چیز ہمیشہ کے لیے گم نہیں ہوتی۔ ہر شی اپنے وقت پر پلٹ آتی ہے۔ جو بچھڑتا ہے، وہ کسی صورت واپس آتا ہے۔ واپسی کائنات کا بنیادی قانون ہے۔
اسی لیے کہتے ہیں جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔
رومی نے کہا:’’ Where there is ruin, there is hope for a treasure‘‘ ۔ یعنی جہاں ویرانی ہے، وہیں کسی خزانے کی امید بھی ہے۔
تباہی کے ملبے میں ہی کوئی قیمتی خزانہ دفن ہوتا ہے۔ ویرانی ہمیشہ محرومی نہیں، خزاں بہار کا پتہ بھی دیتی ہے۔ ٹوٹنا کبھی کبھی پانے کا آغاز ہوتا ہے۔
کائنات میں کوئی حالت مستقل نہیں، نہ عروج، نہ زوال۔ قیامت کا پودا ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ ہم کبھی نہیں ٹوٹیں گے۔ یہ بتاتا ہے کہ ٹوٹنا انجام نہیں۔
زندگی بعض اوقات ہمیں صحرا میں پھینک دیتی ہے، ہم سوکھ جاتے ہیں، سمیٹ جاتے ہیں، لوگ سمجھتے ہیں ہم ختم ہو گئے۔ مگر فطرت مسکرا کر کہتی ہے۔ ابھی بوند نہیں گری۔ اور جب گرتی ہے۔ تو قیامت بھی زندگی بن جاتی ہے۔ جیسے بگ بینگ سے یہ کائنات ایک نکتے سے نکلی۔
فریڈرک نطشے نے کہا تھا: ’’ He who has a why to live can bear almost any how‘‘۔
وہ شخص جس کے پاس جینے کی کوئی وجہ ہو، وہ تقریباً ہر طرح کی مشکل برداشت کر سکتا ہے۔ قیامت کا پودا اسی ’’ why‘‘ کا نباتاتی ورژن ہے۔ وہ برسوں ’’ کیوں‘‘ کے بغیر پڑا رہتا ہے، مگر مر نہیں جاتا۔ یہی نطشے کا Will to Powerہے، زندگی کا ضدی انکار کہ میں ختم نہیں ہوں۔
مایوسی انسان کا مسئلہ ہے، فطرت کا نہیں۔ انسان جانتا ہے کہ وہ جانتا ہے۔ اسی علم سے اس کی اذیت جنم لیتی ہے۔
ژاں پال سارتر کہتا ہے، کہ: ’’ Existence precedes essence‘‘۔
وجود ماہیت پر مقدم ہے۔ یعنی انسان پہلے وجود میں آتا ہے، پھر اپنی شناخت یا مقصد خود بناتا ہے۔
قیامت کا پودا پہلے ہے، پھر معنی پاتا ہے۔ کوئی الہامی مقصد نہیں، کوئی پہلے سے طے شدہ کام نہیں۔ البر کامیو اس سے ایک قدم آگے جاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کائنات خاموش ہے۔ صحرا سوال نہیں سنتا، جواب نہیں دیتا۔
سیمون دی بوواغ کہتی ہے: ’’One is not born, but rather becomes‘‘۔
یعنی انسان پیدا نہیں ہوتا، بلکہ بنتا ہے۔ قیامت کا پودا ہر بار دوبارہ بنتا ہے۔ زندگی مستقل شناخت نہیں، مسلسل تخلیق ہے۔
لائوزی کہتا ہے:’’Nature does not hurry, yet everything is accomplished‘‘۔
فطرت جلدی نہیں کرتی، پھر بھی سب کچھ مکمل ہو جاتا ہے۔ قیامت کا پودا جلدی نہیں کرتا۔ وہ وقت کے خلاف بغاوت نہیں کرتا، وہ وقت کے ساتھ ہم آہنگ ہے۔ کنفیوشس یہاں اخلاق جوڑتا ہے، برداشت، ضبط، توازن۔ یہ سب انسان کے لیے ہیں، فطرت کو ان کی ضرورت نہیں۔ ارسطو کہتا ہے، یہ Potentialityہے۔ جو Actualityکا انتظار کر رہی ہے۔ زندگی کا کمال یہی انتظار ہے۔ شوپنہاور کہتا ہے۔ کہ زندگی خواہش ہے، اور خواہش دکھ۔ قیامت کا پودا خوش نصیب ہے، وہ خواہش نہیں رکھتا۔ وہ مانگتا نہیں، بس قبول کرتا ہے۔ انسان یہی نہیں کر پاتا۔ اورویل کہتا ہے، نظام انسان کو سوکھا دیتا ہے۔ ہرمن ہیسے کہتا ہے کہ ہر انسان کو اپنی بارش خود تلاش کرنا ہوتی ہے۔
ٹونی موریسن کہتی ہے کہ محرومی کے بعد بھی روح بچی رہتی ہے۔ روسو کہتا ہے کہ انسان فطرت میں آزاد تھا۔ معاشرہ اسے خشک کر دیتا ہے۔ قیامت کا پودا ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ ہم ہمیشہ سبز رہیں گے۔ یہ سکھاتا ہے کہ سوکھ جانا انجام نہیں، خاموشی موت نہیں، اور انتظار کمزوری نہیں۔ صبر کے پیڑ پر اک دن پھول ضرور کھلتا ہے، پھل ضرور لگتا ہے۔
انسان اگر فطرت کو سمجھ لے تو پھر یقیناً زندہ رہنے اور زندگی میں کسی مقصد کے لئے مشکلات سے لڑتے رہنے کا حوصلہ ملتا ہے۔





