سائنس، فلسفہ اور مذہب: انسانی شعور کے تین ستون
سائنس، فلسفہ اور مذہب: انسانی شعور کے تین ستون
شہر خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری
انسان محض گوشت اور ہڈیوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک ایسا وجود ہے جو عقل، قلب، اور روح کی تین بنیادی جہتوں پر مشتمل ہے۔ یہ تین ستون انسانی شعور، احساس، اور یقین کی بنیاد ہیں۔ عقل روشنی ہے، قلب کا سکون فلسفہ سے آتا ہے، اور روح کا یقین مذہب کے ذریعے جنم لیتا ہے۔ یہی تینوں ذرائع انسانی شعور کو مکمل کرتے ہیں اور ہمیں کائنات، وجود اور حقیقت کے اسرار تک لے جاتے ہیں۔
جب انسان شعور کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے تو ایک عمیق اضطراب اسے اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے: یہ کائنات کیا ہے؟ یہ کیسے وجود میں آئی؟ اور میں اس میں کیا ہوں؟ آسمان کی وسعت، ستاروں کی خاموشی، رات کی گہرائی، اور زندگی کے پیچیدہ موتی انسان کو غور و فکر کی طرف کھینچتے ہیں۔ یہی اضطراب علم، فلسفہ، اور روحانی رہنمائی کی بنیاد بنتا ہے، اور یہی انسانی شعور کا آغاز ہے۔
سائنس کا بنیادی مقصد کائنات کے مظاہر کو دیکھنا، سمجھنا، اور ان کے پیچھے چھپی قانونیت کو دریافت کرنا ہے۔ یہ مشاہدے، تجربے اور منطق پر قائم ہے، اور صرف قابلِ تصدیق اور تجربہ شدہ دعووں کو قبول کرتی ہے۔
جدید سائنس کے مطابق کائنات کا آغاز تقریباً 13.8ارب سال پہلے ایک عظیم دھماکے (Big Bang)سے ہوا۔ اس لمحے سے قبل وقت اور مکان کا کوئی وجود نہ تھا۔ توانائی اور مادہ اچانک نمودار ہوئے اور کائنات ایک انفجار کی مانند پھیلنے لگی۔ کہکشائیں وجود میں آئیں، ستارے بنے، اور انہی ستاروں میں وہ عناصر وجود میں آئے جن سے بعد میں زمین اور زندگی نے جنم لیا۔
زمین پر زندگی کا آغاز ایک طویل ارتقائی سفر کے ذریعے ہوا۔ سادہ خلیے، پیچیدہ جاندار، شعور رکھنے والے انسان ، یہ سب ایک مسلسل ارتقاء کی داستان ہیں جو اربوں سالوں میں لکھی گئی۔ سائنس اس پورے عمل کو طبیعی اور حیاتیاتی قوانین کے تحت بیان کرتی ہے اور انسان کو کائنات کی ساخت اور حرکت کا علم دیتی ہے۔
لیکن سائنس کی حدود بھی ہیں: یہ صرف "کیسے” کو جانچتی ہے، مگر "کیوں” کو نہیں۔ یہ بتاتی ہے کہ ستارے کیسے بنتے ہیں، مگر یہ نہیں بتاتی کہ وہ کیوں موجود ہیں۔ یہ زندگی کے مراحل کو وضاحت دیتی ہے، مگر زندگی کے مقصد کو نہیں بتا سکتی۔ جیسے البرٹ آئن سٹائن نے کہا:”مذہب کے بغیر سائنس لنگڑی ہے اور سائنس کے بغیر مذہب اندھا ہے”۔ سائنس عقل کو روشنی دیتی ہے، مگر قلب اور روح کے لیے تنہا ناکافی ہے۔
جہاں سائنس مظاہر کی وضاحت کرتی ہے، وہاں فلسفہ انسان کے دل کی بے چینی کو سنبھالتا ہے۔ فلسفہ سوال اٹھاتا ہے: وجود کیا ہے؟ حقیقت کیا ہے؟ شعور کیا ہے؟ انسان کا مقصد کیا ہے؟ یہ صرف معلومات کا مجموعہ نہیں، بلکہ غور و فکر کی ایک روحانی مشق ہے۔
قلب اعداد و شمار سے مطمئن نہیں ہوتا؛ اسے زندگی کے پیچھے چھپے فلسفے، خیر و شر کی تمیز، اور وجود کی معنویت کی ضرورت ہوتی ہے۔ فلسفہ انسان کو اپنے وجود کی گہرائیوں میں جھانکنے کی دعوت دیتا ہے اور اس کے شعور کو بیدار کرتا ہے۔ سقراط نے کہا:”غیر آزمودہ زندگی جینے کے قابل نہیں ہوتی”۔ یہ فلسفہ کی روح کی عکاسی کرتا ہے: سوال کرنے کی جرات اور غور و فکر کی عظمت۔
فلسفہ منزل کے مکمل جواب نہیں دیتا، مگر راستہ دکھاتا ہے۔ عقل اپنی حدوں سے ٹکراتی ہے اور قلب معنی کی تلاش میں روشنی پاتا ہے۔
جہاں سائنس مشاہدے پر اور فلسفہ عقل پر انحصار کرتا ہے، وہاں مذہب وحی اور یقین پر قائم ہوتا ہے۔ مذہب انسان کو بتاتا ہے کہ کائنات کا ایک خالق ہے، جو اس کا منتظم اور نگہبان ہے۔ یہ کائنات کسی اندھے حادثے کا نتیجہ نہیں، بلکہ ایک حکمت اور ارادہ رکھنے والی ہستی کا مظہر ہے۔
قرآن میں ارشاد ہے:”اور ہم نے آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، بے مقصد پیدا نہیں کیا”۔
انسان کی تخلیق کے مقصد کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا:”میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا”( سورہ الذاریات، آیت: 56)۔
عبادت صرف ظاہری رسومات نہیں، بلکہ خالق کی معرفت، اس کی مرضی کے مطابق زندگی گزارنا، اور اخلاقی ذمہ داری کو قبول کرنا ہے۔ مذہب عقل اور فلسفہ کی خاموشی میں روح کا یقین اور سکون فراہم کرتا ہے۔
سائنس عقل کو روشن کرتی ہے، فلسفہ قلب کو معنی عطا کرتا ہے، اور مذہب روح کو یقین بخش دیتا ہے۔ یہ تینوں ستون انسانی شعور کی مکمل تصویر پیش کرتے ہیں۔ اگر سائنس نہ ہو تو انسان کائنات کو نہیں سمجھ سکتا۔ اگر فلسفہ نہ ہو تو وہ اس کے معنی کو نہیں پہچان سکتا۔ اگر مذہب نہ ہو تو وہ اس کے مقصد کو نہیں جان سکتا۔
اقبالؒ نے کہا
خرد نے کہہ بھی دیا ’ لا الٰہ‘ تو کیا حاصل
دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں
یہ تینوں ذرائع مل کر انسان کے شعور کو مکمل کرتے ہیں: آنکھ دیکھتی ہے، عقل سمجھتی ہے، اور روح یقین کرتی ہے۔ انسانی جسم چھوٹا ہے، مگر شعور وسیع اور بے حد ہے۔ انسان محض کائنات کا حصہ نہیں، بلکہ اس کا ناظر اور فکری شریک بھی ہے۔ شعور کی یہ گہرائی انسان کے وجود کو اتفاق یا حادثے سے بالاتر کر کے حکمت اور مقصد کے ساتھ مربوط کرتی ہے۔
سائنس، فلسفہ اور مذہب تینوں مل کر انسان کو علم، شعور اور یقین عطا کرتے ہیں۔ سائنس بتاتی ہے کہ کائنات کیسے بنی، فلسفہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ یہ کیوں بنی، اور مذہب بتاتا ہے کہ اسے کس نے اور کس مقصد کے لیے بنایا۔
یہ امتزاج انسان کو نہ صرف کائنات سمجھنے کی طاقت دیتا ہے بلکہ اسے اپنے وجود، ذمہ داری، اور روح کی گہرائیوں کا شعور بھی عطا کرتا ہے۔ علم، معنی، اور یقین کے ذریعے انسان خود کو اور کائنات کو پہچانتا ہے، اور یہی انسانی وجود کا سب سے بڑا مقصد ہے۔





