Abdul Hanan Raja.Column

8فروری، دہشتگردی اور عون کی جوانمردی

8فروری، دہشتگردی اور عون کی جوانمردی
عبدالحنان راجہ
8فروری کی ناکام ہڑتال کسی طور گزشتہ انتخابات کو سند جواز فراہم نہیں کرتی جس طرح بے پناہ مقبولیت اقدار و کردار کے بغیر اہلیت ثابت نہیں کرتی۔ المیہ یہ رہا کہ ملک کے دو راہنمائوں نے مقبولیت پائی اور شعور کے ابلاغ کا دعوی بھی کیا، ذوالفقار علی بھٹو اور عمران خان۔ مگر انتہائی معذرت کے ساتھ کہ وہ اس شعور سے اپنے لیے حصہ نہ پا سکے۔ بقول مجیب الرحمٰن شامی "ہر دو مقبول راہنما مخالفین کو برداشت کرنے پر آمادہ نہ ہوئے، ذوالفقار علی بھٹو مخالفین کو انجام تک پہنچانے پہنچاتے خود وہاں پہنچ گئے "۔ کپتان نے بھی تاریخ سے سبق نہیں سیکھا کہ مقبولیت نے انہیں سیکھنے سکھانے سے آزاد کر دیا۔ خبط عظمت نے انہیں اپنے شعور کو بیداری کا موقع ہی نہ دیا کردار کے غازی تو پہلے ہی نہ تھے سو گفتار پر گزارا رکھا۔ سیاست میں انہوں نے فہم، دانش اور برداشت کو اپنے قریب بھی نہ پھٹکنے دیا اور پھر قیادت کا ورثہ بھی تیار نہ کر سکے جو مشکل حالات میں پارٹی سنبھالتے، جاندار، ٹھوس اور متفقہ فیصلے لیتے اور قیادت کے لیے راستے تلاش مگر اب صورتحال یہ کہ وہ ہر بات اور فیصلہ کے لیے ملاقات کے محتاج جبکہ PTIکی دوسرے درجہ کی قیادت باہمی انتشار کا شکار۔ حکومت نے بہت دیر سے PTIکی اس کمزوری کو بھانپا کہ وہ جو ہمہ وقت احتجاج احتجاج کرتے نہیں تھکتے تھے اب ایک ملاقات کے لیے مجبور تین ماہ بعد وہی PTIجو برس ہا برس سے بات چیت تک پر آمادہ نہ تھی نے حکومتی شرائط پر ملاقات کے لیے گھٹنے ٹیک دئیے ان کے دعوے اور احتجاج کے سب دعوے ہوا میں اڑ گئے حال یہ کہ اڈیالہ کے باہر چند سو کارکنان بھی جمع نہیں ہو پاتے۔ اب تو ان کے شیر دل وزیر اعلیٰ نے اپنے صوبے میں وفاق اور عسکری قیادت کے ساتھ تعاون بھی شروع کر کے پی ٹی آئی سوشل میڈیا اور بھگوڑوں کے لیے خود کو پیش کر دیا۔ سہیل آفریدی کے اس فیصلہ کو پی ٹی آئی کی پسپائی کی بجائے مثبت انداز میں لینا زیادہ مناسب ہو گا کہ حکومتیں ٹکرائو اور انتشار سے نہیں چلتیں۔ کے پی کی پس ماندگی ڈھکی چھپی بات نہیں گزشتہ دس بارہ سالوں میں وہاں تعمیر و ترقی تو ہوئی نہیں صرف شعور بیداری پر توجہ دی گئی اور اب وہی شعور ان کے گلے کہ وزیر اعلی سے کارکردگی بارے سوال پوچھا جانے لگا پے۔ سہیل آفریدی کے ایک اور فیصلے کو بھی سراہا جانا ضروری کہ انہوں نے پاکستانی اقدار کی ترجمانی کرتے ہوئے تعلیمی اداروں میں ثقافتی تقریبات اور جشن کے نام پر بیہودگی ہلہ گلہ اور ڈانس وغیرہ پر پابندی لگا دی۔ تعلیمی اداروں میں اس اقدام کی ضرورت بہت پہلے سے تھی پنجاب اور سندھ کو بھی یہ اقدام لینا چاہیے کہ نسل نو کو روایات و اقدار اور اسلامی اصولوں سے دور کر کے ملک اور دین کی کون سی خدمت کی جا رہی ہے۔
اس میں شک نہیں کہ بات چیت اور برداشت سیاست کا پہلا اصول مگر بدقسمتی یہ کہ کپتان کا ان دونوں سے کوئی علاقہ نہیں۔ تیز گیند باز ہونے کے ناطے وہ سیاسی و تنظیمی معاملات بھی بزور بازو ( سوشل میڈیا بدتہذیبی) سے چلانا چاہتے رہے۔ مقبول راہنما کے اس طرز عمل نے ہماری معاشرتی اقدار کو اتنا بری طرح مجروح کیا کہ اولاد والدین کے سامنے آن کھڑی ہو گئی اور اخلاقیات کا جنازہ سر عام نکلنے لگا۔ اقتدار سے علیحدگی کے بعد تو کپتان کا رویہ اور اشتعال عروج پر اور اسی دھن میں وہ شیخ مجیب کو اپنا آئیڈیل قرار دے بیٹھے۔ تلخ حقیقت یہ کہ باوجود مقبولیت کے وہ آج پابند سلاسل، پارٹی دربدر اور بقول ان کے دو تہائی مقبولیت رہائی کی سبیل کر سکی اور نہ کوششوں کے باوجود موثر و منظم احتجاج کہ جو اقتدار کے ایوانوں میں زلزلہ بپا کرتا۔ چند دانش مند راہنمائوں کہ جن کی پارٹی میں شنوائی ہے اور نہ مقام، کے سوا کسی کا اپنی زبان و بیان پر قابو نہیں۔ سچی بات تو یہ ہے کہ پی ٹی آئی زبان کی کمائی کھا رہی پے۔ حالات اور زمینی حقائق کے مطابق خبر پی ٹی آئی کو ہضم نہیں ہوتی اور یوٹیوبروں اور بھگوڑوں کی طرح سال ہا سال تک ہم جھوٹا چورن بیچنے سے رہے تو کھلاڑیوں کی طرف سے تحفے میں کبھی پھول پائے نہیں سوائے تلخ و کسیلی باتوں کے۔ مگر تخیلاتی دنیا میں رہنے سے حقیقت نہیں بدلتی اور سچ تو یہ بھی کہ کھلاڑیوں کی بڑی تعداد حقیقت کی دنیا کو خیر آباد کہہ چکی۔ انہیں کسی دلیل، منطق اور بات سے رام کیا جا سکتا ہے اور نہ وہ صائب حقیقت کو تسلیم کرنے کو تیار۔ ان کے اپنے راہنما شفیع جان فکری و تنظیمی ٹوٹ پھوٹ کا برملا اظہار کر چکے اب پیچھے رہ ہی کیا جاتا ہے۔ سانحہ ترلائی نے دلوں کو مغموم اور آنکھوں کو اشک بار کر دیا کہ نظریوں میں نفرت انسان کو حیوان سے بدتر بنا دیتی ہے مگر نفرتوں کے ماحول اور انسانیت دشمنوں کے نرغے میں عون محمد جیسے جوان بھی ہیں جو ہمارے ماتھے کا جھومر اور شان، کہ انسانیت بچانے کے لیے اس نے اپنی جان پیش کر دی۔ حکومت کو عون محمد کی قربانی کا اعتراف اعزاز کے ساتھ کرنا چاہیے کہ قومی اعزازات پر حاشیہ برداروں اور مفاد پرستوں پر لٹانے کے لیے نہیں۔ ملک قوم اور ملت کے لیے قربانی دینے والے ہی اس کے اصل حق دار۔ برادرم غلام علی نے علامہ امامی سے اظہار تعزیت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں قابل عمل بات کی کہ دہشت گردی کے خلاف ڈاکٹر قادری کے فتویٰ کو قومی سلامتی کے اداروں سے لیکر تعلیمی و تبلیغی اداروں تک عام کیا جائے تا کہ قوم ادارے اور امت فتنہ خوارج اور دہشت گردی کے خلاف بنیان مرصوص بن اور ان کی نظریاتی و فکری آبیاری ہو سکے۔ ادھر اتنے بڑے سانحہ کے باوجود تحریک جعفریہ کے سربراہ علامہ حسین مقدسی و دیگر نے وارثان کربلا کی سنت پر کاربند رہے کہ دشمن کی چال اور نفرتوں کی آگ کو پھیلنے سے بچانے کے لیے انہوں نے پرتشدد احتجاج اور اس کے نتیجہ میں عدم استحکام کی کسی بھی کوشش کو مسترد کر دیا۔ وزیر داخلہ سے گفتگو میں انہوں نے فرقہ واریت کی نرسریوں کو بند کرنے کی بات کی کہ اس کے بغیر تفرقہ و انتشار کا خاتمہ ممکن نہیں۔
پاکستان پائندہ باد !

جواب دیں

Back to top button