سکرین کے اسیر بچے اور خاموش معاشرہ

سکرین کے اسیر بچے اور خاموش معاشرہ
تحریر : جاوید اقبال
کسی ماں کی یہ شکایت کہ اس کا بیٹا موبائل فون چھن جانے پر بے قابو ہو جاتا ہے، یا کسی استاد کا یہ اعتراف کہ کلاس میں بیٹھے بچے جسمانی طور پر موجود مگر ذہنی طور پر کہیں اور ہوتے ہیں یہ اب انفرادی واقعات نہیں رہے۔ یہ اس عہد کی اجتماعی کہانی ہے جس میں سکرین نے بچپن پر خاموشی سے قبضہ جما لیا ہے۔ ایسے میں امریکا کی عدالتوں میں سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف شروع ہونے والے مقدمات محض قانونی کارروائی نہیں بلکہ ایک عالمی انتباہ ہیں۔ جب ریاستیں یہ سوال پوچھنی لگیں کہ کیا بچوں کی ذہنی صحت کو منافع کی بھینٹ چڑھا دیا گیا ہے، تو پاکستان جیسے نوجوان معاشرے کے لیے یہ لمحہ فکریہ بن جاتا ہے کیونکہ یہاں سوال ابھی پوچھا ہی نہیں گیا۔
امریکا میں سوشل میڈیا کی بڑی کمپنیوں میٹا، ٹک ٹاک، سنیپ چیٹ اور یوٹیوب کے خلاف جو قانونی جنگ شروع ہو رہی ہے، وہ محض ایک عدالتی کارروائی نہیں بلکہ اکیسویں صدی کے سب سے بڑے سماجی بحران کا باضابطہ اعتراف ہے۔ لاس اینجلس میں شروع ہونے والی پہلی سماعت اس بات کی علامت ہے کہ مغربی دنیا اب اس سوال سے فرار اختیار نہیں کر سکتی کہ آیا منافع کے لیے بنائے گئے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے جان بوجھ کر بچوں اور نوعمروں کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچایا ہے یا نہیں۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق ان مقدمات میں وہی قانونی حکمتِ عملی اختیار کی جا رہی ہے جو ماضی میں تمباکو کمپنیوں کے خلاف استعمال کی گئی تھی یعنی یہ ثابت کرنے کی کوشش کہ مصنوعات کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا کہ صارف لت کا شکار ہو جائے، چاہے اس کے نتائج کتنے ہی تباہ کن کیوں نہ ہوں۔
یہ خبر پاکستانی قاری کے لیے محض ایک غیر ملکی واقعہ نہیں، بلکہ ایک آئینہ ہے ایسا آئینہ جس میں ہمیں اپنا معاشرہ، اپنے بچے، اپنی ریاست اور اپنی غفلت صاف نظر آتی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ امریکا میں کیا ہو رہا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان میں کیا نہیں ہو رہا؟
پاکستان ایک نوجوان ملک ہے۔ آبادی کا بڑا حصہ 30سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ یہی نوجوان ہماری امید بھی ہیں اور ہماری سب سے بڑی آزمائش بھی۔ مگر بدقسمتی سے ہم نے اس نسل کو ایک ایسے ڈیجیٹل ماحول کے حوالے کر دیا ہے جس کی کوئی نگرانی ہے، نہ سمت، نہ اخلاقی فریم ورک۔ ٹک ٹاک، انسٹاگرام، یوٹیوب شارٹس اور سنیپ چیٹ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ گلی محلوں، سکولوں، کالجوں اور گھروں میں ایک ہی منظر نظر آتا ہے، سر جھکا ہوا، آنکھیں اسکرین پر جمی ہوئی، انگلیاں مسلسل سکرولنگ میں مصروف۔
یہ صرف وقت کا ضیاع نہیں، یہ ایک نفسیاتی عمل ہے اور یہی وہ نکتہ ہے جسے امریکی عدالتوں میں موضوعِ بحث بنایا جا رہا ہے۔ جدید سوشل میڈیا پلیٹ فارمز محض رابطے کے ذرائع نہیں رہے۔ یہ پیچیدہ الگورتھمز پر مبنی مشینیں ہیں جو انسانی نفسیات کو سمجھ کر اس کی کمزوریوں پر ضرب لگاتی ہیں۔ لائیک، شیئر، ویوز، نوٹیفکیشنزیہ سب دراصل دماغ میں ڈوپامین کے اخراج کا سبب بنتے ہیں، وہی کیمیکل جو نشے کے عادی افراد میں حرکت میں آتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں نہ کوئی سرنج نظر آتی ہے، نہ سگریٹ، صرف ایک سکرین ہے، جو بظاہر بے ضرر دکھائی دیتی ہے۔
پاکستان میں والدین اکثر یہ شکایت کرتے سنائی دیتے ہیں کہ ان کا بچہ موبائل کے بغیر نہیں رہ سکتا، پڑھائی میں دل نہیں لگتا، چڑچڑا ہو گیا ہے، تنہائی پسند بنتا جا رہا ہے۔ مگر ہم میں سے کتنے لوگ یہ سوال پوچھتے ہیں کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ کیا یہ محض والدین کی تربیت کی ناکامی ہے، یا اس کے پیچھے ایک منظم ڈیجیٹل صنعت کھڑی ہے جو بچوں کی توجہ کو سرمایہ بنا چکی ہے؟
امریکا میں اب یہی سوال عدالتوں میں پوچھا جا رہا ہے۔ ریاستی حکومتیں، سکول ڈسٹرکٹس اور والدین یہ موقف اختیار کر رہے ہیں کہ سوشل میڈیا کمپنیاں بخوبی جانتی تھیں کہ ان کی مصنوعات بچوں کے لیے نقصان دہ ہیں، مگر اس کے باوجود انہوں نے نہ صرف انہیں روکنے کی کوشش نہیں کی بلکہ مزید لت انگیز فیچرز متعارف کرائے۔’’ انفائنائٹ سکرول‘‘، ’’ آٹو پلے‘‘، اور ذاتی نوعیت کی سفارشات یہ سب کچھ حادثاتی نہیں، بلکہ دانستہ ڈیزائن ہے۔
اب ذرا پاکستان کی طرف آئیے۔ یہاں صورتحال اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے، مگر ردِعمل کہیں کمزور۔ ہمارے پاس نہ تو بچوں کی ڈیجیٹل حفاظت سے متعلق کوئی جامع قانون ہے، نہ ہی سوشل میڈیا کمپنیوں سے جواب طلبی کا موثر نظام۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA)کا کردار زیادہ تر پابندی لگانے تک محدود ہے کبھی کسی ایپ کو بند کر دیا جاتا ہے، کبھی کسی اکائونٹ کو۔ مگر یہ اقدامات مسئلے کی جڑ پر ضرب نہیں لگاتے۔ سوال یہ نہیں کہ ٹک ٹاک بند ہو یا نہ ہو، سوال یہ ہے کہ ٹک ٹاک بچوں کے ذہن کے ساتھ کیا کر رہا ہے؟
ہمارے ہاں ڈیجیٹل خواندگی (Digital Literacy)کا فقدان ہے۔ والدین خود اس دنیا سے ناواقف ہیں جس میں ان کے بچے جی رہے ہیں۔ سکولوں میں نصاب ابھی تک روایتی مضامین کے گرد گھومتا ہے، جبکہ بچوں کی اصل تربیت اسکرین کے ذریعے ہو رہی ہے۔ ہم بچوں کو یہ نہیں سکھاتے کہ آن لائن مواد کو کیسے پرکھا جائے، سوشل میڈیا پر خود اعتمادی کیسے برقرار رکھی جائے، یا اس ڈیجیٹل ہجوم میں اپنی شناخت کیسے محفوظ رکھی جائے۔
اس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ ذہنی صحت کے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ڈپریشن، اینگزائٹی، اعتماد کی کمی، جیسے مسائل یہ سب اب صرف مغرب کے مسائل نہیں رہے۔ پاکستان کے شہروں اور حتیٰ کہ دیہی علاقوں میں بھی یہ علامات نظر آ رہی ہیں۔ نوعمر لڑکیاں غیر حقیقی خوبصورتی کے معیار سے خود کو موازنہ کر کے احساسِ کمتری کا شکار ہو رہی ہیں، جبکہ لڑکے غیر ضروری مقابلے اور توجہ کی بھوک میں مبتلا ہیں۔
امریکا میں ان مقدمات کی ایک اور اہم جہت یہ ہے کہ انہیں تمباکو کمپنیوں کے خلاف ماضی کی قانونی جنگ سے تشبیہ دی جا رہی ہے۔ ایک وقت تھا جب سگریٹ نوشی کو بھی ذاتی انتخاب قرار دیا جاتا تھا۔ کمپنیاں کہتی تھیں کہ ہم نے کسی کو زبردستی سگریٹ نہیں پکڑائی۔ مگر بعد میں یہ ثابت ہوا کہ انہوں نے نہ صرف نقصان کو چھپایا بلکہ لت کو بڑھانے کے لیے مصنوعات میں تبدیلیاں کیں۔ آج سوشل میڈیا کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہو رہا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس بار ہدف بچے ہیں وہ طبقہ جو خود اپنے فیصلوں کے نتائج کو سمجھنے کی مکمل صلاحیت نہیں رکھتا۔
پاکستان میں افسوسناک بات یہ ہے کہ ہم ابھی تک اس بحث کے آغاز پر بھی نہیں پہنچے۔ یہاں اکثر یہ کہہ کر بات ختم کر دی جاتی ہے کہ’’ یہ والدین کی ذمہ داری ہے‘‘۔ بلاشبہ والدین کی ذمہ داری ہے، مگر کیا یہ ریاست کی ذمہ داری نہیں کہ وہ اپنے کمزور شہریوں کا تحفظ کرے؟ کیا یہ تعلیمی اداروں کی ذمہ داری نہیں کہ وہ بچوں کو صرف امتحان پاس کرنے کے لیے نہیں بلکہ زندگی سمجھنے کے لیے تیار کریں؟ اور کیا یہ میڈیا کی ذمہ داری نہیں کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے اٹھائے؟
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں بچوں کا بچپن سکرین کے پیچھے گم ہو رہا ہے۔ کھیل کے میدان ویران ہو رہے ہیں، گفتگو مختصر ہوتی جا رہی ہے، اور توجہ کا دورانیہ چند سیکنڈ تک محدود ہو چکا ہے۔ یہ سب کچھ اتفاقیہ نہیں۔ یہ ایک عالمی رجحان ہے، مگر ہر ملک اس کا سامنا اپنی بساط کے مطابق کر رہا ہے۔ امریکا عدالتوں کے ذریعے جواب مانگ رہا ہے، یورپ قوانین بنا رہا ہے، مگر پاکستان ابھی تک تماشائی بنا ہوا ہے۔
یہ کالم کسی ایک کمپنی، ایک ایپ یا ایک ملک کے خلاف نہیں۔ یہ ایک اجتماعی خود احتسابی کی دعوت ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ڈیجیٹل دنیا اب ہماری زندگی سے الگ نہیں کی جا سکتی، مگر اسے بے لگام بھی نہیں چھوڑا جا سکتا۔ بچوں کے لیے عمر کے مطابق کنٹرول، شفاف الگورتھمز، ذہنی صحت کے تحفظ کے اصول، اور کمپنیوں کی جواب دہی یہ سب اب عیاشی نہیں، ضرورت بن چکے ہیں۔
آخر میں سوال وہی ہے جو امریکا کی عدالتوں میں گونج رہا ہے، مگر پاکستان میں ابھی خاموش ہے۔
کیا ہم اپنے بچوں کو محض صارف سمجھ کر ایک منافع خور نظام کے حوالے کر سکتے ہیں، یا ہم انہیں انسان سمجھ کر ان کے مستقبل کا دفاع کریں گے؟
کیوں سکرین کے اسیر بچے شاید چیخ نہ سکیں۔
مگر تاریخ خاموش معاشروں کو کبھی معاف نہیں کرتی۔
جاوید اقبال





