ایک اور بگ بینگ
ایک اور بگ بینگ
تحریر : صفدر علی حیدری
فنا ہر چیز کا مقدر ہے ۔ ہر موجود، چاہے وہ مادی ہو یا غیر مادی، ایک دن اپنی آخری حدود کو پہنچ کر ختم ہو جائے گا۔ یہ ایک تلخ مگر لازمی حقیقت ہے جسے انسان کے مادی وجود نے ہمیشہ ہچکچاہٹ کے ساتھ دیکھا ہے۔ ہم ہر دن کی زندگی میں اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہیں، مگر کائنات کے ہر ذرّے کی حرکت ہمیں بار بار یہ باور کراتی ہے کہ زوال اور فنا، نظامِ ہستی کے بنیادی اصول ہیں۔
ہم جس دنیا میں سانس لے رہے ہیں، اس کی بنیاد ہی تغیر پر ہے، اور تغیر کا آخری پڑا فنا ہے۔ ایک دن زوال کی چکی سب کچھ پیس ڈالے گی اور ہر شے اپنے انجام کی طرف بڑھ جائے گی۔ یہ محض الفاظ نہیں، بلکہ کائنات کا ایک محکم قانون ہے، ایسا قانون جس سے نہ کسی ایٹم کے الیکٹران کو مفر ہے اور نہ ہی اربوں میل پر پھیلی ہوئی کہکشائوں کو۔ انسان نے ہمیشہ خود کو اس کائنات کا مرکز سمجھا۔ اسے یہ گمان ہوا کہ شاید یہ بساط ہمیشہ یونہی قائم رہے گی۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ جس کائنات کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں، وہ خود ایک عظیم سفر پر ہے جس کا انجام "عدم” ہے۔ ستارے جو آج ہمیں تابناک نظر آتے ہیں، وہ دراصل اپنی توانائی کے آخری ذخائر خرچ کر رہے ہیں۔ سورج، جو حیات کا ضامن ہے، وہ بھی وقت کے ایک ایسے بندھن میں بندھا ہے جہاں ایک دن اسے بے نور ہونا ہے۔ سائنس اس عمل کو انٹروپی (Entropy)کہتی ہے، ہر نظام رفتہ رفتہ بکھرنے اور اپنی ترتیب کھونے کی طرف مائل ہوتا ہے۔
یہ حقیقت، اگرچہ انسانی شعور کے لیے خوفناک ہے، مگر اس میں ایک اخلاقی اور فلسفیانہ سبق بھی مضمر ہے: ہر موجود کا ایک انجام ہے، اور یہ انجام محض طبعی عمل نہیں بلکہ اس بات کی نشان دہی ہے کہ کائنات کا کوئی خالق ہے جس نے اسے ایک خاص مقصد کے تحت ایک خاص وقت کے لیے تخلیق کیا۔ جب وہ مقصد پورا ہو جائے گا، تو یہ سارا کارخانہ سمیٹ لیا جائے گا۔
ہماری کائنات کا ہر عنصر، چاہے وہ ذرات کی سطح پر ہو یا کہکشائوں کے سہارے، ایک وقت پر اپنی تخلیقی توانائی کے آخری ذخائر استعمال کر رہا ہے۔
زمین کی تمام سر سبزیاں، سمندروں کی موجیں، پہاڑوں کی چٹانیں، اور انسانی تمدن کی بلندیاں سب عارضی ہیں۔ سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ ہر نظام میں حرارت اور توانائی کی منتقلی کے نتیجے میں ترتیب کھوئی جاتی ہے، اور بالآخر ہر چیز اپنی ابتدائی کیفیت سے مختلف ہو جاتی ہے۔
یہی وہ قانونی اور فطری حقیقت ہے، جو قرآن پاک نے بار بار بیان کی ہے: ’’ کل من علیھا فان‘‘، یعنی ہر وہ چیز جو اس زمین پر ہے، فنا ہونے والی ہے۔
انسان کی فطرت میں غرور، تکبر، اور خود پسندی شامل ہیں۔ وہ اپنے محدود وجود کو ابدیت کا حصہ سمجھ بیٹھتا ہے۔ لیکن جب اسے یہ شعور حاصل ہو جاتا ہے کہ اس کا وجود اور اس کے اختیارات محض چند روزہ ہیں، تو اس کے رویوں میں عاجزی اور ذمہ داری پیدا ہوتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کی اخلاقی بنیادیں مضبوط ہوتی ہیں، اور وہ سمجھتا ہے کہ جو باقی رہے گا وہ صرف وہی چیز ہے جو "خالص” ہوگی: نیک اعمال، بلند کردار اور انسانیت کی خدمت۔جدید سائنس جس "بگ بینگ” کے نظریے پر فخر کرتی ہے، وہ دراصل کائنات کے آغاز کی کہانی ہے۔ ایک عظیم دھماکہ ہوا اور وقت، مادہ اور مکان (Space)وجود میں آ گئے۔ لیکن قرآن ہمیں اس کے دوسرے رخ کی طرف متوجہ کرتا ہے، جسے ہم "دوسرا بگ بینگ” کہہ سکتے ہیں۔ اگر ایک عظیم دھماکہ کائنات کو پھیلانے کے لیے کافی تھا، تو ایک اور عظیم کائناتی لرزہ اسے سمیٹنے کے لیے بھی کافی ہوگا۔
انسان اس حقیقت کو قبول کر سکتا ہے کہ کائنات پھیل رہی ہے، مگر وہ اس ہولناک لمحے کے بارے میں سوچنے سے کتراتا ہے جب یہ پھیلائو رک جائے گا اور ہر چیز واپس اپنے مرکز کی طرف ہولناکی کے ساتھ لپکنے لگے گی۔ وہ دن جب آسمان پگھلی ہوئی دھات بن جائے گا، زمین اپنے اندر کے تمام بوجھ باہر نکال پھینکے گی، اور سمندر اپنی تمام لہروں کے ساتھ زمین کے سینے پر زور لگائیں گے، یہی اصل "دوسرا بگ بینگ” ہوگا، ایک ایسا لمحہ جو حساب و کتاب کے نئے دور کا پیش خیمہ ہے۔
یہ تصور انسانی ذہن پر ایک نفسیاتی دبائو بھی ڈالتا ہے: ایک لمحہ جس میں ماضی کی تمام کامیابیاں، عمارات، طاقتیں، اور علم محض دھول اور خاک کی مانند ہو جائیں گے۔ اس لمحے میں انسان اپنے اعمال اور زندگی کی قدر و قیمت کو سمجھنے پر مجبور ہوگا۔
انسان نے زمین پر بلند و بالا عمارتیں بنائیں، سمندروں کے سینے چاک کیے، اور خلائوں میں کمندیں ڈالیں، مگر یہ سب محض عارضی ہیں۔ زوال کی چکی جب چلے گی تو یہ عالیشان شہر، یہ ایٹمی طاقتیں، یہ ٹیکنالوجی کے شاہکار،allمحض ریت کے ذروں کی طرح بکھر جائیں گے۔
یہی وہ لمحہ ہے جب انسان کا غرور اور تکبر ٹوٹ جائے گا۔ اسے احساس ہوگا کہ سب کچھ عارضی ہے اور باقی صرف وہی چیز رہ سکتی ہے جو ابدیت کے اصولوں کے مطابق خالص اور غیر مادی ہے: نیک اعمال، بلند اخلاق، اور اللہ کے ساتھ تعلق۔
یہی وہ سبق ہے جو قرآن پاک بار بار دیتا ہے: دنیا ایک امتحان گاہ ہے، اور ہمیں اپنے اعمال اور کردار کے معیار کے مطابق تیار ہونا ہے۔
قیامت کے دن کی تصویر کشی جہاں کائناتی زوال کو دکھاتی ہے، وہاں انسانی نفسیات کی بھی تفصیل ملتی ہے۔ وہ دن جب ماں اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی، جب ہر انسان نفسی نفسی کے عالم میں ہوگا، وہاں ہر شخص کو یہ احساس ہوگا کہ دنیا میں جو سہارا اور رشتے وہ اہمیت دیتا تھا، وہ سب مادی اور فنا پذیر ہیں۔
اس لمحے انسانی آنکھیں "حدید”( تیز) ہو جائیں گی۔ وہ سب کچھ دیکھ لے گا جسے وہ دنیا میں افسانہ سمجھتا تھا۔ انسان پکار اٹھے گا:”کاش میں مٹی ہوتا!”، یہ جملہ فنا کے اس درجے کی تمنا ہے جہاں انسان اپنے وجود کے مکمل خاتمے کی آرزو کرتا ہے۔ لیکن حقیقت میں فنا کے اس لمحے میں بقا کی شکل نیک اعمال اور جزا و سزا کے ذریعے سامنے آتی ہے۔
یہ نفسیاتی کشمکش، انسانی غرور اور اخلاقی شعور کے درمیان ایک لرزہ خیز میدان پیدا کرتی ہے۔
اس بات سے ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ زندگی محض وقتی تسکین، مادی حصول یا غرور کا نام نہیں۔ اگر سب کچھ فنا ہونے والا ہے، تو پھر ہماری کوششوں اور جدوجہد کا مقصد کیا ہے؟ جواب یہ ہے کہ یہ دنیا ایک امتحان گاہ ہے، جہاں انسان کو اپنے بہترین ورژن (Version)کو پیش کرنا ہے۔
دنیا کا رویہ آج بھی وہی ہے جو صدیوں پہلے تھا۔ لوگ آج بھی مادی تسکین کو اصل بقا سمجھتے ہیں۔ وہ سائنس کے بحثوں میں تو الجھتے ہیں مگر اس "عظیم دھماکے”کی تیاری نہیں کرتے جو ان کے اعمال کا نامہِ اعمال کھول دے گا۔یہی وہ مقام ہے جہاں علم، سائنس، اور مذہبی شعور ایک ساتھ مل کر انسانی شعور کو بیدار کر سکتے ہیں۔ انسان کو یہ شعور حاصل ہونا چاہیے کہ اصل بقا مادی نہیں بلکہ روحانی اور اخلاقی ہے۔
اس سے ہم تین اہم سبق اخذ کیے جا سکتے ہیں: مادی دنیا زوال پذیر ہے، ہر شے فنا کے لیے مقدر ہے۔ بلند و بالا عمارتیں، ایٹمی طاقتیں، اور جدید ٹیکنالوجی بھی وقت کے دھارے میں کھو جائیں گی۔ حقیقی بقا صرف خالق کی ذات اور اعمال صالح میں ہے، انسان کا حقیقی معیار اس کی نیک نیتی، اخلاق اور اعمال سے جڑا ہے۔ باقی سب عارضی۔ قیامت کا، دوسرا بگ بینگ، عدلِ الٰہی کا آغاز ہے۔ یہ کائنات کا خاتمہ نہیں، بلکہ اعمال کی جزا و سزا اور حقیقی بقا کی صورت ہی۔ انسانی زندگی کا ہر لمحہ، ہر فیصلہ، اسی عظیم لمحے کی، انسان نے ہمیشہ اپنی دنیا کو ایک شہرِ خواب کی طرح تعمیر کیا۔ خوابوں میں وہ بلند و بالا، طاقتور، اور ابدی تھا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ شہر، یہ خواب، یہ سب عارضی ہیں۔ زوال کے لمحے میں انسان کو وہی حقیقت سمجھ آتی ہے جو فلسفہ، سائنس، اور قرآن ہمیں بتاتے ہیں: فنا ناگزیر ہے، بقا محض اعمال اور خالص نیتی میں ہے، اور وقت کا ہر لمحہ، ہر سانس، اسی عظیم امتحان کی تیاری ہے۔
اگر ہم اس شعور کے ساتھ زندگی گزاریں، تو ہمارے اعمال اور کردار کا شہر نہ فنا پذیر ہوگا اور نہ ہی مادی محدودیت کا تابع۔ یہی وہ شہرِ خواب ہے جو حقیقت میں انسان کے اندر پایا جاتا ہے ۔ ایک شہر جو مادی نہیں بلکہ معنوی، نیک اور ابدی ہے۔
صفدر علی حیدری





