دہشت گردی در دہشت گردی

دہشت گردی در دہشت گردی
تحریر : روشن لعل
ترلائی، اسلام آباد میں ہونے والے خود کش دھماکے سے متعلق سامنے آنے والی خبروں کے مطابق، متعلقہ ادارے امام بارگاہ میں ہونے والی دہشت گردی کے مرکزی کرداروں کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ مزید اطلاعات یہ ہیں کہ سیکیورٹی ایجنسیوں نے خود کش دھماکے میں استعمال ہونے والی جیکٹ کی سلائی کرنے والے درزی کا سراغ لگانے کے بعد ، مبینہ خود کش دہشت گرد یاسر کے سہولت کار ، قریبی رشتہ داروں کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔ ترلائی امام بارگاہ کی دہشت گردی میں ملوث دہشت گردوں کا سراغ لگانے میں متعلقہ اداروں کے لوگوں نے اب تک جس کارکردگی کا مظاہر ہ کیا اس پر ان کے کام اور پیشہ ورانہ مہارت کی تعریف کی جارہی ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والی دہشت گردی کے بعد جہاں دہشت گردوں کا سراغ لگانے والے اداروں کی کارکردگی کو سراہا جا رہا ہے وہاں یہ سوال بھی سامنے آیا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کا مسلسل امکان ہونے کے باوجود پیشگی اقدامات کرتے ہوئے دہشت گردوں کو ان کے مذموم مقاصد حاصل کرنے سے روکنے میں اب تک کامیابی کیوں حاصل نہیں کی جا سکی۔ دہشت گردی کے حوالے سے اس طرح کے سوالات سامنے آنے کے بعد ذہن میں مختلف قسم کے خیالات در آئے ہیں۔
اس مرتبہ، دہشت گردوں نے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کو اس وقت لہو لہان کیا جب ایک عرصہ بعد بسنت کا خوشیوں بھرا تہوار منایا تو لاہور میں جا رہا تھا لیکن پورے ملک کے لوگوں کی نظریں خوشیاں مناتے اور پتنگیں اڑاتے ہوئے لاہوریوں پر مرکوز تھیں۔ لاہور اور پنجاب کے لوگ ایک عرصہ تک بسنت کی خوشیاں منانے سے محروم رہے کیونکہ بوکاٹا کا نعرہ لگانے کے لیے استعمال ہونے والی ڈور نے پتنگوں کے ساتھ عام شہریوں کے گلے بھی کاٹنے شروع کر دیئے تھے۔ جب گلے کاٹنے والی ڈور سے عام شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لیے بسنت پر پابندی عائد کی گئی تو کچھ ہوش مند لوگوں نے کہا تھا کہ سخت انتظامات کرتے ہوئے بسنت تہوار کو خون رنگ ہونے سے روکا جاسکتا ہے، لہذا پتنگ بازی پر پابندی عائد کرنے کی بجائے سخت انتظامات کرنے پر توجہ دی جائے۔ صرف پنجاب حکومت نہیں بلکہ عدالتوں نے بھی ہوش مند لوگوں کی بات ماننے کی بجائے کچھ میڈیائی نابغوں کا مشورہ مان کر بسنت اور پتنگ بازی پر پابندی عائد کرنے کو ترجیح دی۔ ایک عرصہ کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بہتر اور سخت انتظامات کرتے ہوئے بسنت پر عائد پابندی کو ختم کیا۔ مریم نواز کی طرف سے کیے گئے سخت اور بہتر انتظامات کے نتیجے میں بسنت کے دوران ماضی جیسے گلے میں ڈور پھرنے کے واقعات رونما نہیں ہوئے ۔ پنجاب حکومت نے لاہور میں بسنت منانے کے لیے سخت اور بہتر انتظامات کرتے ہوئے گلے میں ڈور پھرنے جیسے واقعات کو روکنے سے پہلے، پولیس کے کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ ( سی سی ڈی) کو بے رحم کارروائیاں کرنے کا اختیار دے کر صوبے میں جرائم کی شرح کو بھی کم کیا۔ ترلائی امام بارگاہ میں دہشت گردی کا واقعہ رونما ہونے کے بعد جو سوالات ذہن میں ابھر رہے ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بسنت کے دوران گلے میں ڈور پھرنے جیسے واقعات کو روکنے اور پنجاب میں عام جرائم کی شرح کم کرنے کے لیے جو سخت اور بے رحم اقدامات کی گئے ان کی طرف سے ویسے ہی انتظامات اور اقدامات دہشت گردی کی وارداتیں روکنے کے لیے ہوتے ہوئے کبھی نظر کیوں نہیں آئے۔
آرمی پبلک سکول پشاور کی دہشت گردی میں ڈیڑھ سو کے قریب معصوم بچوں کی ہلاکت کے بعد ملک میں دہشت گردی کے خلاف یہ اجتماعی بیانیہ سامنے آیا تھا کہ ملک کا آئین اور قانون نہ ماننے اور ریاست کے اندر اپنی ریاست بنانے والوں کو اچھے اور برے طالبان میں تقسیم کرنے کی بجائے آئندہ صرف دہشت گرد سمجھ کر نشانہ بنایا جائے گا ۔ اسی اجتماعی بیانیے کے تحت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مرتب کردہ بیس نکاتی نیشنل ایکشن پروگرام کچھ یوں تھا:(1)۔ دہشت گردوں کے خلاف کاروائی جاری رہے گی۔(2)، دو سال کی مدت کے لیے اسپیشل ٹرائل کورٹس( فوجی عدالتیں) بنیں گی اور مشکوک افراد کے خلاف کاروائی میں تیزی لائی جائے گی۔(3)، ملک میں کوئی نجی متوازی مسلح فورس متحرک نہیں ہوگی۔(4)، نیشنل کائونٹر ٹیر رازم اتھارٹی ( نیکٹا) کو مضبوط اور فعال بنا یا جائے گا۔(5)، نفرت انگیز مواد کو روکا جائے گا۔(6)، دہشت گردوں اور دہشت گردی میں ملوث اداروں میں مالی معاونت کے عمل کو روکا جائے گا۔(7)،کالعدم تنظیموں کو دوبارہ کام نہیں کرنے دیا جائے گا۔(8)، دہشت گردوں کے خلاف ایک متوازی فورس قائم کی جائے گی۔(9)، مذہبی تفرقہ بازی کے خلاف اقدامات کیے جائیں گے۔(10)، تمام مدارس کی رجسٹریشن کی جائے گی۔(11)، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر دہشت گردی اور دہشت گردوں کے اداروں کی تشہیر پر مکمل پابندی ہوگی۔) (12، فاٹا میں ایڈمنسٹریٹو اور ترقیاتی بحالی اور آئی ڈی پیز کی واپسی پر توجہ دی جائے گی۔(13) ، دہشت گردی کے اداروں کے رابطے کے نیٹ ورک کو ختم کیا جائے گا۔(14)، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر دہشت گردی کے خلاف سوچ کو ابھارا جائے گا۔(15)، پنجاب میں مسلح گروہوں کو قطعاً برداشت نہیں کیا جائے گا۔(16) ، کراچی میں جاری آپریشن کا منطقی طور پر خاتمہ کیا جائے گا۔(17)، بلوچستان گورنمنٹ کے اختیارات بڑھائے جائیں گے۔(18)، دہشت گردوں کے سرخیلوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔(19)، افغان مہاجرین کی رجسٹریشن کی جائے گی۔(20)، کریمنل جسٹس سسٹم کی بہتری کے لیے اقدامات اور صوبوں کی CID’sکو مضبوط بنایا جائے گا تاکہ دہشت گردوں کے مابین ہونے والی ہر حرکت اور گفتگو پر دھیان رکھا جاسکے۔
مندرجہ بالا بیس نکات میں سے آئینی ترامیم کے تحت فوجی عدالتوں کے قیام کے علاوہ کسی دوسرے نکتے پر کما حقہ عمل ہوتے نظر نہیں آیا۔ جو نیشنل ایکشن پروگرام دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے مرتب کیا گیا تھا اس پر عمل درآمد کس قدر غیر سنجیدگی سے کیا گیا اس کا اندازہ یوں لگایا جاسکتا ہے کہ مارچ 2015 ء میں نافذ کیے گئے اس پروگرام کے تحت کراچی میں 26اگست 2015ء کو پہلی گرفتاری ، آصف علی زرداری کے دوست اور معالج ڈاکٹر عاصم حسین کی ہوئی تھی۔ جس قسم کی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کی سرکوبی کے لیے بنائے نیشنل ایکشن پروگرام کے تحت ڈاکٹر عاصم کو گرفتار کیا گیا وہ غیر سنجیدگی یہاں گاہے بگاہے نظر آتی رہتی ہے۔ بیس نکاتی نیشنل ایکشن پروگرام کے تحت دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے اجتماعی طور پر جس عزم کا اظہار کیا گیا تھا وہ عزم سیاسی مقاصد کے نیچے دب کر رہ گیا۔ نیشنل ایکشن پروگرام کے نفاذ سے پہلے اور بعد میں بھی یہ ہوتا رہا کہ دہشت گردی کے کسی واقعہ کے بعد دکھائی دینے والی پھرتیاں پہلے آہستہ آہستہ معدوم ہوئیں اور پھر د ہشت گردی کا کوئی نیا واقعہ رونما ہونے کے بعد دوبارہ نظر آئیں ۔ جو کچھ پہلے ہوتا رہا ، اب مزید نہیں ہونا چاہیے ۔ خواہش ہے کہ ترلائی کی امام بارگاہ میں ہونے والی دہشت گردی کے بعد انسداد دہشت گردی کے ادارے اسی طرح متحرک رہیں جس طرح دہشت گردوں کا سراغ لگاتے ہوئے نظر آئے ہیں۔ صرف ایسا ہونے سے ہی دہشت گردی در دہشت گردی کے واقعات کو رونما ہونے سے روکا جاسکتا ہے۔





