دہشتگردی کا خاتمہ جلد ہوگا

دہشتگردی کا خاتمہ جلد ہوگا
اسلام آباد کی مسجد و امام بارگاہ میں حالیہ خودکُش دھماکے نے ایک بار پھر پاکستان کو ایک بڑے سانحے سے دوچار کیا ہے۔ اس حملے کے نتیجے میں 33افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جب کہ درجنوں زخمی ہیں، جن میں سے کئی کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔ اس سانحے کے پس منظر میں ایک افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک افغانستان سے پاکستان تک پھیل چکا ہے، جہاں سے حملہ آوروں کو تربیت دی جاتی ہے اور ان کی ذہن سازی کی جاتی ہے۔ اس واقعے کے بعد وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور دیگر حکام کی جانب سے جن بیانات کا اظہار کیا گیا ہے، وہ اس واقعے کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔ حملے کی منصوبہ بندی اور اس کے ماسٹر مائنڈ کا تعلق افغانستان میں موجود داعش سے بتایا جارہا ہے، جس کا اثر پاکستان کے لیے انتہائی سنگین ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس حملے کی تمام تر منصوبہ بندی افغانستان میں کی گئی تھی اور دہشت گردوں کو وہاں سے تربیت فراہم کی گئی تھی۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، خودکش حملہ آور کا تعلق افغانستان سے تھا اور وہ سات بار وہاں جاچکا تھا۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کے اندر بھی دہشت گردوں کے سہولت کاروں کا نیٹ ورک موجود ہے، جو دہشت گردوں کی رہنمائی اور ان کی مدد کرتے ہیں۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے گزشتہ روز آپریشنز کے دوران کئی سہولت کاروں کو گرفتار کیا ہے، جن میں افغان باشندے بھی شامل ہیں۔ اس دوران نوشہرہ، پشاور، راولپنڈی اور کراچی میں دہشت گردوں کے معاونین کی گرفتاریوں کی خبریں آئی ہیں۔ یہ بات حقیقت ہے کہ گزشتہ چند سال میں پاکستان میں دہشت گردی کی لہر میں کمی آئی تھی، خاص طور پر وہ دور جب پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشنز کو موثر بنایا تھا، لیکن، حالیہ عرصے میں دہشت گردی کی نئی لہر نے یہ ظاہر کر دیا ہے کہ کچھ کمزوریاں موجود ہیں، جن سے دہشت گرد فائدہ اٹھا رہے ہیں۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے یہ اعتراف کیا کہ اسلام آباد میں موجود 93داخلی راستوں میں سے بیشتر پر سیکیورٹی کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور اس وقت اسلام آباد پولیس کی اکثریت 50سال سے زائد عمر کے اہلکاروں پر مشتمل ہے۔ اسی طرح، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے یہ واضح کیا کہ دہشت گردوں کا نیٹ ورک دوبارہ منظم ہوچکا اور یہ کہ ماضی میں دہشت گردوں کے خلاف کیے گئے آپریشنز کی کامیابیوں کے باوجود ایک حکومت کی کمزوری کی وجہ سے دہشت گرد دوبارہ پاکستان کی سرزمین پر واپس آچکے ہیں۔ یہ بیان ایک سنگین سوال اٹھاتا ہے: کیا پاکستان میں دہشت گردوں کے خلاف مستقل اور جامع حکمت عملی کی کمی ہے؟ حکومت کا کہنا ہے کہ بھارت پس پردہ رہ کر پاکستان میں دہشت گردی کی حمایت کررہا ہے۔ وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی فنڈنگ کررہا ہے اور اس نے دہشت گردوں کے بجٹ میں تین گنا اضافہ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی اس سرگرمی کا عالمی سطح پر جواب دیا جانا چاہیے تاکہ اس کے اثرات کو روکا جا سکے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ دہشت گردوں کی حمایت کرنے والے ممالک یا گروہ، جیسے بھارت، عالمی سطح پر اپنی کارروائیوں کے نتائج کا سامنا کریں گے۔ پاکستان کے لیے یہ ضروری ہوچکا ہے کہ وہ اپنی سیکیورٹی حکمت عملی میں عالمی سطح پر تعاون حاصل کرے، تاکہ ان دہشت گرد گروپوں کی سرکوبی کی جاسکے، جو پاکستان میں تخریب کاری کے لیے کام کر رہے ہیں۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے خلاف متعدد آپریشنز میں حصہ لیا ہے اور اس دوران بہت سے اہلکاروں نے اپنی جانیں قربان کی ہیں۔ اسلام آباد کے حالیہ خودکُش حملے میں بھی ایک سیکیورٹی اہلکار شہید ہوا جبکہ تین دیگر زخمی ہوئے۔ یہ قربانیاں سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور عزم کو ظاہر کرتی ہیں، لیکن دہشت گردوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد یہ بھی ضروری ہے کہ عوامی تعاون کو فروغ دیا جائے تاکہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کیا جاسکے۔ اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ خودکش دھماکے نے پاکستان کو ایک بار پھر دہشت گردی کے چیلنج سے روبرو کردیا ہے۔ اس سانحے میں افغانستان میں موجود دہشت گرد گروپوں کی مداخلت اور بھارت کے پس پردہ کردار کے دعوے اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے، جس کا حل عالمی سطح پر تعاون کی صورت میں ہی ممکن ہے۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی داخلی سیکیورٹی حکمت عملی کو مزید مضبوط کرے اور اپنے ہمسایہ ممالک سے اس مسئلے پر مشترکہ کوششیں کرے۔ علاوہ ازیں، سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے، عوامی سطح پر دہشت گردوں کے خلاف جدوجہد کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ پاکستان میں امن قائم کیا جا سکے۔ پاک افواج دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مصروفِ عمل ہیں۔ ان شاء اللہ جلد اس ناسور کو جڑ سے اُکھاڑ کر پھینک دیا جائے گا۔
T20ورلڈ کپ
پاکستان کا فاتحانہ آغاز
آئی سی سی ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کے افتتاحی میچ میں پاکستان نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد نیدرلینڈز کو 3وکٹوں سے شکست دے کر ٹورنامنٹ میں اپنے سفر کا آغاز کامیابی سے کیا۔ فہیم اشرف کی شاندار بیٹنگ اور ٹیم کی مجموعی محنت نے ایک یادگار فتح کی بنیاد رکھی۔ نیدرلینڈز کے خلاف پاکستان کی بیٹنگ شروع میں مشکلات کا شکار رہی۔ جلد ہی ٹیم کے 6اہم کھلاڑی پویلین لوٹ چکے تھے۔ بابر اعظم اور سلمان علی آغا جیسے تجربہ کار کھلاڑیوں کا جلد آئوٹ ہونا، ٹیم کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر گیا۔ جب سات وکٹیں گر گئیں، تو ایک وقت ایسا آیا کہ لگنے لگا تھا کہ پاکستان کو اس میچ میں شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تاہم، فہیم اشرف نے اس وقت میدان میں آ کر ایک جرأت مندانہ اننگز کا آغاز کیا۔ انہوں نے صرف 11گیندوں پر 29رنز بنائے، جن میں 3چھکے اور 2چوکے شامل تھے۔ ان کی دھواں دھار بیٹنگ نے نہ صرف میچ کا پانسہ پلٹ دیا بلکہ پاکستانی ٹیم کو ورلڈ کپ میں فتح سے ہمکنار بھی کیا۔ فہیم کی اننگز اس بات کا غماز تھی کہ کسی بھی کھلاڑی کے لیے حالات بدلنے کے لیے صرف عزم اور قابلیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ قبل ازیں، نیدرلینڈز نے پاکستان کے سامنے 147رنز کا ہدف رکھا تھا، نیدرلینڈز کے اوپنرز مائیکل لیوٹ اور میکس اوڈووڈ نے ایک اچھا آغاز فراہم کیا، لیکن پاکستان کے بولرز نے شاندار کم بیک کیا اور نیدرلینڈز کو 147رنز پر آئوٹ کردیا۔ سلمان مرزا کی شاندار بولنگ اور پاکستان کے دیگر بولرز جیسے شاہین آفریدی، محمد نواز اور صائم ایوب کی محنت نے میچ کو پاکستان کے حق میں کر دیا۔ نیدرلینڈز کی ٹیم نے ایک موقع پر ایسا لگ رہا تھا کہ وہ 160یا 170رنز کا اسکور کر لیں گے، لیکن پاکستانی بائولرز نے آخری 6وکٹیں صرف 20رنز کے عوض حاصل کیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی شاندار بولنگ کے بعد نیدرلینڈز کے لیے اسکور کرنا مشکل ہوگیا۔ پاکستان کی بولنگ نے اس میچ میں اپنی اہمیت ثابت کی، جس کے نتیجے میں فتح ممکن ہو سکی۔پاکستان کی اس فتح کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ٹیم نے بحران سے نکل کر میچ جیتا۔ فہیم اشرف کی جرات مندانہ اننگز اور پاکستان کے بائولرز کا شاندار کم بیک اس بات کا غماز ہے کہ پاکستانی ٹیم ٹورنامنٹ میں کسی بھی چیلنج کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس فتح نے نہ صرف ٹیم کا حوصلہ بڑھایا بلکہ یہ ثابت کیا کہ پاکستان کے پاس مشکلات کو چیلنج کرنے اور ان پر قابو پانے کی صلاحیت ہے۔ مجموعی طور پر، پاکستان کی یہ فتح ایک اہم سبق دیتی ہے کہ کھیل میں کبھی بھی ہمت نہیں ہارنی چاہیے اور کامیابی حاصل کرنے کے لیے صرف ایک اچھا موقع چاہیے ہوتا ہے۔





