
آٹھ فروری احتجاج بیانات تک محدود
سی ایم رضوان
گزشتہ روز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے نواحی علاقے ترلائی کلاں میں امام بارگاہ، مسجد خدیجہ الکبریٰ میں خودکش دھماکا ہوا۔ انتہائی افسوس اور دکھ کے ساتھ 33شہداء اور ڈیڑھ سو سے زائد زخمیوں کے خاندانوں سے شراکت غم اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین کے لئے صبر جمیل اور زخمیوں کی جلد از جلد صحت یابی کی دعا کے ساتھ ساتھ یہ امر باعث اطمینان ہے کہ اس اندوہناک سانحہ کے چند گھنٹے بعد ہی نہ صرف حملہ آور کی شناخت کر لی گئی بلکہ اس کے چار سہولت کار اور اس کا افغانی ماسٹر مائنڈ بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان گرفتاریوں کے لئے سکیورٹی فورسز کو باقاعدہ آپریشن کرنا پڑا۔ جس میں ایک اہلکار شہید اور متعدد زخمی بھی ہوئے۔ اس سے قبل پولیس نے چھاپہ مار کر اس حملہ آور کے 2بھائیوں، ایک بہنوئی عثمان اور ایک خاتون کو بھی گرفتار بھی کیا تھا۔ پتہ چلا ہے کہ اس خود کش بمبار کی شناخت دھماکے والی جگہ سے ملنے والے شناختی کارڈ پر درج نام یاسر سے ہوئی، یہ بھی اطلاع ہے کہ وہ پچھلے عرصہ میں 5ماہ تک افغانستان میں مقیم رہا۔ شناختی کارڈ پر مستقل پتہ عباس کالونی، شیرو جنگی چارسدہ روڈ پشاور جبکہ موجودہ پتہ گنج محلہ قاضیاں پشاور لکھا ہوا ہے جبکہ سہولت کاروں اور ہینڈلرز کی گرفتاری نوشہرو سے ہوئی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حملہ آور کا اپنے بہنوئی عثمان سے مسلسل رابطہ رہتا تھا۔ جس سے تفتیش جاری ہے۔ اطلاع ہے کہ خود کش بمبار نے افغانستان میں اسلحہ چلانے اور خودکش حملے کی تربیت حاصل کی تھی، داعش کے خراسانی گروپ نیٹ ورک نے اس دہشت گرد کو اپنا حصہ قرار دیا ہے تاہم پشاور اور نوشہرہ میں حملہ آور کے نیٹ ورک اور سہولت کاروں کی تلاش شروع اور دیگر مختلف پہلوں پر تحقیقات جاری ہیں۔ آج سے چار پانچ سال پیچھے جائیں تو انکشاف ہوتا ہے کہ تب اس نوعیت کے دہشت گردانہ واقعات کا سراغ ہی نہ لگایا جا سکتا تھا مگر اب ہماری ایجنسیوں کی کامیابی کا یہ واضح اعلان ہے کہ چند گھنٹوں میں اس دہشت گردانہ کارروائی کا مرتکب پورا نیٹ ورک پکڑ لیا گیا ہے اور سکیورٹی ایجنسیوں نے سارا کھوج لگا لیا ہے کہ یہ دہشت گرد اس صوبہ کے دارالحکومت میں مقیم تھا جس صوبہ کے متعدد صوبائی حکمران پچھلے کئی سال سے دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن کی مخالفت کرتے آئے ہیں جبکہ موجودہ وزیر اعلی اب دو روز قبل ہی شرمسار ہو کر اپنا بیانیہ تبدیل کر لیا ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشن کی مخالف اس جماعت کے بانی نے اب آج آٹھ فروری کو ملک گیر احتجاج، پہیہ جام اور شٹر ڈائون ہڑتال کی کال دے رکھی ہے۔ اپنے تئیں اس احتجاج کو منفرد اور کامیاب بنانے کے لئے پی ٹی آئی کی تشکیل کردہ تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وفد نی گزشتہ روز جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کی جس کے بعد اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جے یو آئی نے 8فروری کے اپنے جلسے منسوخ کرنے اور اپوزیشن کی پہیہ جام ہڑتال کی حمایت کا اعلان کر دیا۔ یعنی اس احتجاج کو جے یو آئی کے احتجاج سے جو ملکی سطح کی وسعت ملنے کا واقعاتی امکان تھا اس کو بھی خود مولانا کے پاس جا کر اور ان کو احتجاج سے روک کر رد کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے یہ بھولا بھالا اور پھوکا سا اعلان کر دیا کہ جے یو آئی جلسے کرنا چاہتی تھی، ہم پہیہ جام کرنا چاہتے تھے اس لئے مولانا کو جلسے نہ کرنے کا کہا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے بھی جھٹ سے ان کی اپیل منظور کرتے ہوئے کہہ دیا کہ ہم اپوزیشن کی پہیہ جام کی حمایت میں 8فروری کو اپنے جلسے جلوس منسوخ کرتے ہیں، ہم اپنے جلسے جلوس آٹھ فروری کے بعد کریں گے۔ مولانا نے کہا کہ ہمارا مینڈیٹ چرایا گیا لیکن اس بات میں چھپی حقیقت یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا مینڈیٹ تو کے پی کے میں خود پی ٹی آئی نے ہی چرایا ہے۔ اس لئے وہ نئے الیکشن کا مطالبہ کرتے ہیں۔ اس موقع پر اسد قیصر نے کہا کہ وزیر اعظم ایوان میں آکر انسداد دہشتگردی کی پالیسی دیں، نیشنل ایکشن پلان پر عمل چاہتے ہیں مگر ہماری بات کو سنجیدہ نہیں لیا جا رہا ہے۔ بات اسد قیصر کی درست ہے کہ ان کی بات کو سنجیدہ نہیں لیا جا رہا ورنہ قومی سلامتی کے خلاف ان کی جماعت کے بیانیہ اور کے پی کے میں ان کی دہشت گردوں کے خلاف نرم حکومتی پالیسی کو اگر سنجیدہ لیا جاتا تو ایک حساس صوبے پر ان کو حکومت کرنے کا کوئی حق نہ دیا جاتا۔
آج کا پی ٹی آئی کا ملک گیر احتجاج بھی ان کے پچھلے احتجاجوں کی طرح محض ایک صوبہ کے پی کے تک جزوی طور پر محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس پارٹی کے اندر حددرجہ بدنظمی، صوبوں اور شہروں کی سطح پر گروہ بندی اور باہمی انتشار کی انتہا ہے۔ کسی بھی اجتماعی پروگرام سے پہلے ان گروہوں کے مابین اس حد تک سرپھٹول ہوتی ہے کہ پروگرام شروعات سے قبل ہی فلاپ ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر آج کے آٹھ فروری احتجاج پر گزشتہ روز پی ٹی آئی کے پارلیمانی رہنماں کا ایک اجلاس ہوا جس میں پرانی حکمت عملی پر عملدرآمد پر اتفاق رائے ہوا تو پارٹی کے ایک صوبائی سطح کے رہنما جنید اکبر برہم ہو گئے اور واضح طور پر یہ موقف اختیار کیا کہ اگر واقعی کچھ کرنا ہے تو پی ٹی آئی کے تمام اراکین اسمبلی مستعفی ہو جائیں اور بانی پی ٹی آئی کی رہائی کے لئے اسلام آباد لانگ مارچ کے لئے نکلیں۔ اجلاس میں سب سے زیادہ توجہ صوبے میں سڑکیں بند کرنے کی حکمت عملی پر مرکوز رہی۔ اس حکمت عملی کی بھی رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک نے واضح طور پر مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سڑکوں کی بندش سے صوبے کے عوام متاثر ہوں گے۔ شاہد خٹک کے مطابق خیبر پختونخوا کے عوام نے انہیں مینڈیٹ دیا ہے لہٰذا اس امر کا خیال رکھا جائے کہ ہمارے کسی بھی اقدام سے عوام کو مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ایم این اے عاطف خان نے بھی شاہد خٹک کی حمایت کی اور اجلاس میں یہ بات زور پکڑ گئی کہ عوامی سہولت اور روزمرہ زندگی کو نقصان پہنچائے بغیر ہی احتجاجی حکمت عملی تیار کی جائے۔ اجلاس میں اڈیالہ جیل کے باہر اور دیگر مظاہروں میں شرکت نہ کرنے والوں کی فہرست بنانے کا بھی معاملہ زیر بحث آیا، جس پر شاہد خٹک نے سفارش کی کہ ہر رکن کی موجودگی اور تعاون کو یقینی بنایا جائے۔ تاہم صدر پی ٹی آئی خیبرپختونخوا جنید اکبر اجلاس کے دوران سخت برہم دکھائی دیئے اور کہا کہ پارٹی پر کام اور ورکرز کا دبا ہے اور ہر رکن کو اپنے موقف کو واضح کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ سب کوششوں کے باوجود پارٹی کو اچھا نہیں کہا جاتا، اس لئے یکجہتی اور بھرپور کارروائی ضروری ہے۔ بعد ازاں شاہد خٹک نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اجلاس میں ہر کسی نے اپنی رائے کا اظہار کیا اور انہوں نے یہ واضح کیا کہ لاک ڈائون یا سڑکوں کی بندش سے عوام کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس لئے اس پر زور نہیں دیا گیا۔
آٹھ فروری کے آج کے پی ٹی آئی کے اعلان کردہ احتجاج کے محض بیانات کی حد تک محدود ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ گزشتہ چند دنوں سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی سرگرمیاں اور بیانات معتدل ہو گئے ہیں جس پر سیاسی حلقوں نے یہ سوال کرنا شروع کر دیا ہے کہ کیا پارٹی کے سخت بیانیے اور نوجوان کارکنوں کے درمیان مقبول رہنے والے سہیل آفریدی بھی اب مقتدر حلقوں کو پیارے ہو گئے ہیں؟ سہیل آفریدی کی حالیہ ملاقاتیں، پرو اسٹیبلشمنٹ بیانات اور صوبائی اپیکس کمیٹی کی سربراہی کے بعد یہ سوال سیاسی مبصرین اور پارٹی کے اندرونی حلقوں میں زور پکڑ رہا ہے۔ ان کے بیانات اور رویے میں پچھلے سخت لہجے کی نسبت نرمی بھی دیکھی جا رہی ہے جسے پارٹی کے دیرینہ ارکان بھی محسوس کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی میں سہیل آفریدی مخالف گروپ کے لوگ تو ان پر عمران خان کے بیانیے سے ہٹنے کا الزام تک لگا رہے ہیں۔ پارٹی کے اندر آفریدی مخالف گروپ جسے بعض لوگ علی امین گنڈا پور گروپ بھی کہتے ہیں سہیل آفریدی پر تنقید کرتا ہے۔ نظر بھی یہی آ رہا ہے کہ وزیر اعلیٰ نامزد ہونے کے بعد سہیل آفریدی کا لہجہ سخت تھا اور انہوں نے بانی کی ترجیحات کے مطابق مقتدر حلقوں پر کھل کر تنقید بھی کی تھی۔ انہوں نے عمران خان سے ملاقات یا ہدایت کے بغیر کسی سے ملاقات نہ کرنے کا اعلان بھی کیا تھا اور صوبے میں جاری آپریشنز کی بھی شدید مخالفت کی تھی تاہم باجوڑ میں جرگے کی ناکامی کے بعد آپریشن بھی ہوا جبکہ تیراہ میں ضلعی انتظامیہ کی سربراہی میں جرگہ کر کے مقامی آبادی کو رضا کارانہ نقل مکانی پر آمادہ بھی کیا گیا۔ سہیل آفریدی نے متاثرین کی مکمل سپورٹ کا اعلان بھی کیا۔ گزشتہ ہفتے ضلع خیبر میں جرگے کے دوران انہوں نے قبائل کو لے کر اسلام آباد مارچ کا اعلان بھی کیا اور اگلے روز وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کر کے مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔ ملاقات میں مالی امور اور امن و امان کی صورتحال پر بھی بات ہوئی۔ وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد سہیل آفریدی نے صوبائی اپیکس کمیٹی اجلاس کی سربراہی بھی کی جس میں کور کمانڈر پشاور بھی شریک تھے۔ اجلاس میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے فوج اور سول انتظامیہ کے ساتھ کھڑے ہونے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا۔ حیران کن امر ہے کہ چند روز قبل تک ریاست سے افغانستان کے خلاف دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے کے ثبوت مانگنے والے سہیل آفریدی اس اجلاس میں یکسر مختلف نظر آئے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے اصلی موقف سے کنارہ کشی کرتے ہوئے امن کو اولین ترجیح قرار دیا اور کہا کہ سول حکومت اور فوج ایک پیج پر ہیں لہٰذا ثابت یہی ہوتا ہے کہ سہیل آفریدی مقتدر حلقوں کے قریب ہو گئے ہیں لیکن پارٹی میں ان کے حوالے سے شدید تحفظات پیدا ہو گئے ہیں۔
اب سوال دو ہیں کہ یا تو بانی سمیت ساری جماعت نے مقتدرہ سے ڈیل کر لی ہے یا پھر پارٹی میں موجود چند بااثر گروہوں نے ڈیل کی ہے اور وہ علیحدہ علیحدہ کھیل رہے ہیں اور عام پارٹی کارکن اپنی راہ مکمل طور پر گم کر بیٹھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آٹھ فروری کا احتجاج پیدا ہونے سے پہلے ہی دم توڑ گیا ہے۔







