انسان کی اصل خوشی

انسان کی اصل خوشی
امتیاز احمد شاد
انسان صدیوں سے خوشی کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ یہ تلاش کبھی دولت کے پیچھے دوڑ میں نظر آتی ہے، کبھی طاقت اور شہرت کی خواہش میں، اور کبھی رشتوں، محبت اور سکون کی جستجو میں۔ جدید دور میں سہولتیں بڑھنے کے باوجود انسان کے دل کا اضطراب کم نہیں ہوا، بلکہ بعض اوقات یہ مزید گہرا محسوس ہوتا ہے۔ اس صورتِ حال میں یہ سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے کہ انسان کی اصل خوشی آخر کس چیز میں ہے؟ کیا خوشی کا تعلق صرف مادی آسائشوں سے ہے یا اس کی جڑیں انسان کے باطن میں پیوست ہیں؟
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ خوشی کا دارومدار دولت پر ہے۔ بہتر آمدنی، بڑا گھر، آرام دہ گاڑی اور جدید سہولتیں بلاشبہ زندگی کو آسان بناتی ہیں، مگر یہ سب چیزیں صرف وقتی مسرت فراہم کرتی ہیں۔ تاریخ اور روزمرہ مشاہدہ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ بے شمار ایسے افراد موجود ہیں جن کے پاس سب کچھ ہونے کے باوجود دل کا سکون ناپید ہے۔ اس کے برعکس بہت سے لوگ محدود وسائل کے ساتھ بھی مطمئن اور خوش دکھائی دیتے ہیں۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ خوشی کا تعلق صرف دولت سے نہیں بلکہ انسان کے طرزِ فکر سے ہے۔
انسان کی اصل خوشی کا پہلا اور بنیادی ستون اندرونی سکون ہے۔ جب انسان اپنے ضمیر کے ساتھ مطمئن ہو، اپنے اعمال پر شرمندگی کے بجائے اطمینان محسوس کرے اور دل میں حسد، خوف اور لالچ کی آگ کم ہو، تو حقیقی خوشی جنم لیتی ہے۔ اندرونی سکون وہ دولت ہے جو نہ تو خریدی جا سکتی ہے اور نہ ہی کسی سے چھینی جا سکتی ہے۔ یہ سکون خود احتسابی، سچائی اور اعتدال کے راستے پر چلنے سے حاصل ہوتا ہے۔
دوسرا اہم عنصر بامعنی انسانی رشتے ہیں۔ انسان فطری طور پر سماجی مخلوق ہے اور تنہائی اسے اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ خاندان کی محبت، دوستوں کی رفاقت، اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہونا انسان کو زندگی سے جوڑے رکھتا ہے۔ آج کے تیز رفتار دور میں اگرچہ رابطے بڑھ گئے ہیں، مگر دلوں کے فاصلے بھی بڑھتے جا رہے ہیں۔ اصل خوشی ان رشتوں میں ہے جہاں مفاد کے بجائے خلوص ہو اور دکھاوے کے بجائے اپنائیت۔
زندگی میں مقصد کا ہونا بھی خوشی کے لیے ناگزیر ہے۔ وہ انسان جو صبح کسی مقصد کے تحت بیدار ہوتا ہے، اس کی زندگی میں توانائی اور امید برقرار رہتی ہے۔ مقصد کا مطلب صرف بڑی کامیابیاں یا بلند عہدے نہیں، بلکہ یہ احساس بھی ہو سکتا ہے کہ ہم کسی کے کام آ رہے ہیں یا اپنی صلاحیتوں کو مثبت سمت میں استعمال کر رہے ہیں۔ بے مقصد زندگی انسان کو بیچینی اور احساسِ محرومی میں مبتلا کر دیتی ہے۔
شکر گزاری خوشی کی ایک اور مضبوط بنیاد ہے۔ جو انسان موجود نعمتوں پر شکر ادا کرنا سیکھ لیتا ہے، وہ محرومی کے احساس سے بچ جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم اکثر اپنی توجہ ان چیزوں پر مرکوز رکھتے ہیں جو ہمارے پاس نہیں ہوتیں، اور جو نعمتیں ہمارے پاس موجود ہوتی ہیں انہیں نظر انداز کر دیتے ہیں۔ شکرگ زاری کا رویہ انسان کو حال میں جینا سکھاتا ہے اور یہی حال اصل خوشی کا مقام ہے۔
خود کو قبول کرنا بھی خوشی کی راہ میں ایک اہم قدم ہے۔ ہر انسان خامیوں اور خوبیوں کا مجموعہ ہے، مگر ہم اکثر خود کا موازنہ دوسروں سے کر کے احساسِ کمتری میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ جب انسان اپنی حقیقت کو تسلیم کر لیتا ہے اور اپنی بہتری کے لیے کوشش کرتا ہے، تو اس کے دل میں سکون پیدا ہوتا ہے۔ خود سے جنگ ختم ہو جائے تو خوشی کی راہ ہموار ہو جاتی ہے۔
روحانی پہلو کو نظر انداز کر کے خوشی کا تصور ادھورا رہتا ہے۔ چاہے اسے مذہب کا نام دیا جائے یا روحانیت کا، انسان کو کسی اعلیٰ حقیقت سے جڑنے کی ضرورت رہتی ہے۔ یہ تعلق انسان کو صبر، امید اور حوصلہ عطا کرتا ہے، خاص طور پر مشکل حالات میں۔ روحانی وابستگی انسان کو یہ احساس دلاتی ہے کہ زندگی صرف مادی دائرے تک محدود نہیں۔
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ خوشی کوئی ایسی منزل نہیں جس تک پہنچ کر سفر ختم ہو جائے، بلکہ یہ ایک مسلسل عمل ہے۔ خوشی لمحوں میں بکھری ہوتی ہے، کسی کی مسکراہٹ میں، کسی کی مدد کرنے میں، کسی خاموش دعا میں یا کسی سادہ سے لمحہ سکون میں۔ جو انسان ان لمحوں کو پہچان لیتا ہے اور انہیں قیمتی سمجھتا ہے، وہی اصل معنوں میں خوش ہے۔ انسان کی اصل خوشی باہر نہیں، اس کے اندر ہے، بس شرط یہ ہے کہ وہ اسے تلاش کرنے کا ہنر سیکھ لے۔






