سانحہ اسلام آباد

محمد مبشر انوار(ریاض)
سانحہ اسلام آباد
الامان الحفیظ، ابھی بلوچستان کے زخم ہرے تھے، رس رہے تھے کہ آج ایک اور قیامت کا منظر، اسلام آباد میں پیش آگیا، جو ریاست پاکستان کے مطابق 31شہریوں کی جان لے گیا جبکہ 100سے زائد شہری زخمی ہوئے۔ ریاست پاکستان کے مطابق اس لئے کہا ہے کہ اس سے قبل، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کی جانب سے سوشل میڈیا پر ، زیادہ جانی نقصان کا اظہار کیا گیا تھا جبکہ شہریوں کے بیانات کے مطابق بھی، اس خود کش دھماکے میں زیادہ افراد کی جانیں گئی ہیں لیکن ریاست پاکستان کے اعلان کے بعد ڈپٹی کمشنر کے سوشل میڈیا پر بیانات سرے سے غائب ہو گئے اور ریاست پاکستان کے بیان کے مطابق جانی نقصان کم ہوا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس طرح نقصان کم دکھانے سے، فائدہ کیا ہوگا؟ غیر جانبدار ذرائع یا موقع پر موجود، افراد اصل حقائق نہیں جانتے؟ ہسپتالوں میں لائی گئی لاشیں یا زخمیوں کی تعداد بھی چھپائی جائے گی یا سینہ گزٹ پر یہ حقائق گردش کریں گے؟ کیا سینہ گزٹ پر اعتبار کیا جا سکتا ہے اور کیوں قومی میڈیا پر ان خبروں کو رکوایا گیا ہے؟ کیا قومی میڈیا پر ان خبروں کو رکوانے سے حقائق بدل جائیں یا خوف و ہراس کی فضا بدل جائیگی یا جو شہری اپنی جانوں سے گئے ہیں، وہ واپس آ جائیں گے یا ان کے لواحقین کا غم کم ہو جائے گا؟ یقینی طور پر ان سب باتوں سے کوئی چیز نہیں بدلے گی، صرف ایک احساس جو ارباب اختیار کو ہو گا کہ ممکن ہے اس طرح قوم کا غم کم ہو جائے یا وہ اپنے نقصان کو بھول جائے، اور یہ احساس بھی صرف اور صرف ارباب اختیار کو ہی ہو گا، جس کا نہ تو حالات پر اثر ہو گا اور نہ ہی عوام پر۔ تسلیم کہ قوم، ایسے سانحات کی عادی ہوتی جارہی ہے اور ایسے سانحات کو صرف عذاب الٰہی ہی نہیں بلکہ قومی رہنماؤں کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ بھی سمجھ رہی ہے لیکن ابھی تک، اس کے خلاف اٹھ نہیں رہی اور نہ حکمرانوں سے جواب طلب کر رہی ہے کہ ایسے سانحات پاکستان میں کیوں ہو رہے ہیں اور ان سانحات میں ملوث افراد یا ریاستوں کے خلاف کوئی بھرپور کارروائی کیوں نہیں ہورہی؟امکان اور توقع تھی کہ بلوچستان میں رچائے اس بہیمانہ ظلم کے خلاف ،اب تک ایک مربوط اور ٹھوس کارروائی کا آغاز ہو چکا ہو گا لیکن شو مئی قسمت کہ دہشت گردوں نے دو قدم آگے بڑھ کر،اس امکان کو بھی مشکوک کردیا بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ ارباب اختیار کو ایک واضح پیغام دے دیا کہ ریاست پاکستان بلوچستان میں کارروائی کیا کرے گی،پہلے اپنے دارالحکومت کی فکر کرے کہ دہشت گردوں کی رسائی اسلام آباد تک ہے۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے یا دنیا کی بہترین ایجنسی،کا کیا کردار ہے،اس پر سوال تو اٹھیں گے،گو کہ اس حقیقت میں بھی قطعا کوئی کلام نہیں کہ ایجنسی اپنی حتی المقدور کوشش کرتی ہے اور عموما کئی ایک ایسے یا اس جیسے سانحات کو قبل ازوقت دبوچ بھی لیتی ہے لیکن ایسی کارروائیوں کے بعد،ایجنسی کی کامیابیوں پر سوال اٹھ جاتا ہے کہ ایسے سانحات پاکستانیوں کا ہی نصیب کیوں؟
بدقسمتی یہ ہے کہ ماضی میں ،انہی عناصر کو ،ہماری ایجنسیوں نے پالا پوسا ہے،ان عناصر کو پاکستان کی دوسری ڈیفنس لائن کا نام دے کر ،ان کو ساری دنیا سے ٹکر لے کر محفوظ بنایا ہے ،صرف اس لئے کہ جب یہ کامیاب ہو کر اقتدار میں آئیں گے تو پاکستان کی شمال مغربی سرحد محفوظ ہو گی لیکن نتیجہ کیا نکلا؟آج وہی ہمارے لئے مستقل درد سر بنے، ہمارے امن و امان کو تاراج کرنے میں لگے ہیں،حد تو یہ ہے کہ گزشتہ مئی میں جب پاکستان اور بھارت کے درمیان ،جنگ کے شدید ترین خطرات تھے،افغان حکومت کے عہدیداران خفیہ طور پر بھارت سے اپنے تعلقات کی پینگیں بڑھا رہے تھے۔ مقتدرہ کو حیرت تو ہوتی ہو گی کہ موجودہ افغان حکوت کے برسر اقتدار آنے پر،جس طرح کہا گیا تھا کہ افغانوں کی فتح،اللہ کی نصرت ہے اور کابل میں کھڑے ہو کر TEA IS FANTASTICکہا گیا تھا،اس چائے کے اثرات کہاں گئے؟افغانوں کی فتح میں پاکستان کا کردار کیا رہا اور اس کا ثمر آج کیا مل رہا ہے؟تسلیم کہ نیٹو کا چھوڑا ہوا اسلحہ ان عناصر کے ہاتھ لگا ہے لیکن یہ اثاثہ تو ہمارا تھا،آج یہ ہمارے خلاف کیوں ہوا اور ہمارے ازلی دشمن کے ساتھ کیوں اور کیسے مل گیا؟ایک لمحہ کے لئے سوچئے کہ اس کی وجہ ہماری وہ پالیسیاں نہیں رہی کہ ایک طرف جب ہم ان اثاثوں کو پروان چڑھا کر،ان کا خوف دلا کر،مغرب سے ان کی بیخ کنی کی خاطر ڈالر سمیٹ رہے تھے،دوسری طرف ان عناصر کی تربیت ہی ایسی کی جارہی تھی کہ وہ اسلحہ یا کشت و خون کے بغیر نہیں رہ سکتے،جو آج وہ پاکستان کے ساتھ کررہے ہیں کہ ان کو سکھایا ہی یہی گیا تھا،اب سرزمین خواہ کوئی بھی ہو،اس سے انہیں کیا فرق پڑتا ہے؟دوسری طرف آج مغرب،ہمارے ماضی کو جانتے ہوئی،اس دہشت گردی سے قائل ہی نہیں ہو رہا اور ہمیں ماضی کے طعنے دیتے ہوئے، اس دہشت گردی سے ہمیں نکالنے کے لئے آمادہ نہیں ہورہا،ممکن ہے آنے والے وقت میں حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے،قائل ہو جائے اور ہماری مدد کے لئے تیار بھی ہو جائے لیکن تب تک کتنی دیر ہو چکی ہو گی،یہ کوئی نہیں جانتا۔ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ تب ہم نے وقتی پالیسی بناتے ہوئے،ملکی معیشت کا انحصار،جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ بنتے ہوئے،جنگ پر ہی رکھا تھا جبکہ ملکی صنعت کا پہیہ ،اس پالیسی سے بری طرح تباہ ہو ا،دنیا اپنی صنعتی پیداوار کو وسعت دیتی رہی،اس میں اپنے صنعتکار کو سہولتیں فراہم کرتی رہی جبکہ ہم اپنے صنعتکار کے لئے مشکلات میں اضافہ کرتے رہے،اپنی صنعت کوکبھی ایک تو کبھی دوسرے بہانے سے بیمار کرتے رہے،جس کے اثرات آج ہماری معاشی حالت سے عیاں ہیں۔
آج سلامتی کونسل میں ہمارے مستقل مندوب کھڑے ہو کر، اس دہشت گردی کے متعلق حقائق سلامتی کونسل کے گوش گزار کر رہے ہیں اور سلامتی کونسل کی انسداد دہشت گردی سے، مطالبہ کرر ہے ہیں کہ فی الفور BLA کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے کر پاکستان کو اس کی سرکوبی کا پروانہ تھمایا جائے کہ اس وقت یہ تنظیم نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے امن کے لئے شدید خطرہ ہے۔ بلوچستان میں اس تنظیم اور اس کے پشت پناہوں کے خلاف آپریشن ممکنہ طور پر شروع ہو چکا ہو گا لیکن جیسا پاکستانی مندوب کا سلامتی کونسل میں کہنا ہے کہ اس تنظیم کے پشت پناہوں میں، افغان سرزمین لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال ہو رہی ہے جبکہ بھارت، اسرائیل کے ایماء پر افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کر رہا ہے، لہذا پاکستان کو سلامتی کونسل سے اجازت درکار ہے کہ وہ اس تنظیم کے پشت پناہوں کو بھی کیفر کردار تک پہنچائے۔ کیا پاکستان کو اس کی اجازت ملے گی کہ پاکستان دہشت گردوں کے پشت پناہوں کے خلاف بھی براہ راست کارروائی کر سکے جبکہ دوسر ی طرف حیرت انگیز طور پر پاکستان غزہ پیس بورڈ کا حصہ ہے جس کے مقاصد، تفصیلات کے مطابق اور ٹرمپ کی خواہش کے مطابق اسرائیل کا تحفظ ہے، اس تنظیم کے خلاف کارروائی کے متضاد ہیںکہ اگر پاکستان اس تنظیم کی پشت پناہی بھارت اور اسرائیلی ایماء پر سمجھتا ہے تو پھر کیسے اسرائیل، پاکستان کو اس تنظیم کے خلاف کارروائی کی اجازت دلوا سکتا ہے؟ یا حاصل کرنے دے سکتا ہے؟ پاکستان کو اس معاملے کو انتہائی ہوش مندی سے ہینڈل کرنے کی ضرورت ہے کہ اس وقت پاکستان بری طرح شکنجے میں پھنسا ہوا ہے اور جس طرح دہشت گرد، پاکستان میں ایک بار پھر روبہ عمل ہورہے ہیں، یہ کسی بڑے مقصد کی طرف نشاندہی کر رہا ہے اور بدقسمتی سے زیادہ گمان یہی ہے کہ بلوچستان میں ہونے والی کارروائی کو بڑے کینوس پر ایک ریہرسل کے طور پر دیکھا جارہا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ معاملات مزید الجھتے ہیں، یا ایران کو تقسیم کرنے کا مرحلہ آتا ہے تو کس طرح پاکستانی بلوچستان کو باغی، پاکستان سے کاٹ سکتے ہیں ( خاکم بدہن) اور کیسے ایران اور افغان بلوچستان پر مشتمل گریٹر بلوچستان تشکیل دیا جا سکتا ہے، اسلام آباد جیسی کارروائی ، یقینی طور پر ارباب اختیار کی توجہ ہٹانے کے لئے اور پیغام کی حیثیت رکھتی ہے، کیا پاکستانی فورسز اس چیلنج سے نبرد آزما ہو پائیں گی؟؟؟






