Column

اسلام آباد: امام بارگاہ میں خودکُش حملہ، 33افراد شہید،

اسلام آباد: امام بارگاہ میں خودکُش حملہ، 33افراد شہید، 169زخمی

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، جسے ملک کا سب سے محفوظ علاقہ تصور کیا جاتا ہے، جمعہ کو ایک ایسے ہولناک سانحے سے دوچار ہوا جس نے پوری قوم کو سوگ میں مبتلا کر دیا۔ ترلائی کے مضافاتی علاقے میں واقع مسجد و امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ میں نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والا خودکُش دھماکا اس بات کی تلخ یاد دہانی ہے کہ دہشت گردی کا عفریت مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور یہ اب بھی نرم اہداف، عبادت گاہوں اور معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے سے باز نہیں آیا۔ اس خودکُش حملے میں 33نمازی شہید اور 169افراد زخمی ہوئے، جن میں کئی کی حالت تشویش ناک بتائی جارہی ہے۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے، ہر طرف دھواں، چیخ و پکار اور قیامت کا سماں تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکا اس وقت ہوا جب نمازی سجدے میں تھے، جو اس حملے کی بزدلی اور درندگی کو مزید واضح کرتا ہے۔ ابتدائی معلومات کے مطابق امام بارگاہ کی سیکیورٹی پر 6افراد مامور تھے، جن میں تین مسلح تھے۔ حملہ آوروں نے پہلے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں سیکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔ ایک حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب رہا جب کہ دوسرے خودکُش بمبار نے اندر داخل ہو کر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ دارالحکومت کے اتنے حساس علاقے میں، جو ریڈ زون سے محض 12سے 15کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، دہشت گرد اس قدر آسانی سے کیسے داخل ہوئے؟ یہ بات بھی تشویش ناک ہے کہ چند سال قبل بھی اسی امام بارگاہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی، جسے بروقت کارروائی کے ذریعے ناکام بنایا گیا۔ اس کے باوجود مکمل حفاظتی اقدامات نہ کیے جاسکے۔ حملے کے بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے خودکُش حملہ آور کا سر برآمد کیا، جس کی شناخت یاسر ولد بہادر خان، عمر 32سال، سکنہ پشاور محلہ قاضیاں کے طور پر ہوئی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق حملہ آور کا تعلق کالعدم تنظیم داعش سے تھا اور اس نے افغانستان میں دہشت گردی کی تربیت حاصل کی۔ وہ پانچ ماہ افغانستان میں قیام کے بعد واپس آیا اور متعدد بار وہاں کا سفر کرچکا تھا۔ حملہ آور کی والدہ اور دو بھائیوں سمیت چار افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے جب کہ اس کی ٹریول ہسٹری اور نیٹ ورک پر تفتیش جاری ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چودھری کے مطابق شواہد کی بنیاد پر اعلیٰ سطح پر تحقیقات ہورہی ہیں اور تمام معلومات متعلقہ اداروں سے شیئر کی جاچکی ہیں۔ ہفتے کو اس حملے کے داعش افغانی ماسٹر مائنڈ سمیت 4سہولت کاروں کی مختلف شہروں سے گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ہیں۔ حکومتی مقف ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں اور بھارت کے پراکسی نیٹ ورکس کا گٹھ جوڑ کارفرما ہے۔ حالیہ واقعات اس بیانیے کو مزید تقویت دیتے ہیں، خاص طور پر جب بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف بڑی کارروائیاں کی گئیں۔ واقعے کے فوراً بعد اسلام آباد کے تمام سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حکم پر 25ایمبولینسز اسلام آباد روانہ کی گئیں جبکہ پمز، پولی کلینک، فیڈرل جنرل اسپتال اور بے نظیر اسپتال میں زخمیوں کو منتقل کیا گیا۔ گنجائش ختم ہونے پر بعض زخمیوں کو راولپنڈی کے اسپتالوں میں بھیجا گیا۔ صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، بلاول بھٹو زرداری اور دیگر سیاسی و مذہبی رہنمائوں نے اس سانحے کی شدید مذمت کی۔ وزیراعظم نے واضح الفاظ میں کہا کہ ملک میں بے امنی پھیلانے والوں کو کوئی چھوٹ نہیں دی جائے گی اور مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ عبادت گاہوں، بالخصوص مساجد و امام بارگاہوں کو نشانہ بنانا محض دہشت گردی نہیں بلکہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو تباہ کرنے کی دانستہ کوشش ہے۔ ملت جعفریہ پاکستان، شیعہ علماء کونسل اور مجلس وحدت مسلمین کے رہنماں نے درست طور پر مطالبہ کیا کہ اس سانحے کی شفاف، غیر جانبدار اور باریک بینی سے تحقیقات کی جائیں اور سہولت کاروں کو بھی کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ مجلس وحدت مسلمین کی جانب سے تین روزہ سوگ اور احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ عوام اس ظلم کے خلاف خاموش نہیں رہیں گے، مگر احتجاج کے ساتھ ریاستی سطح پر ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔ اسلام آباد سانحہ ایک بار پھر یہ ثابت کرتا ہے کہ دہشت گردی صرف بندوق اور دھماکے کا نام نہیں، بلکہ یہ ریاستی رٹ، سماجی ہم آہنگی اور قومی حوصلے پر حملہ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ انٹیلی جنس نظام کو مزید موثر بنایا جائے، سرحدی نگرانی سخت کی جائے اور اندرونی سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں کی جائیں۔ عبادت گاہوں میں خون بہنا پوری قوم کے ضمیر پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ اگر ریاست اس امتحان میں پوری قوت، شفافیت اور مستقل مزاجی سے کامیاب ہوگئی تو دہشت گردی واقعی دم توڑ دے گی۔ قوم کو متحد رہنا ہوگا، کیونکہ یہی اتحاد دہشت گردی کے خلاف سب سے بڑی طاقت ہے۔

بجلی ٹیرف اصلاحات

وفاقی حکومت کی جانب سے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں کمی اور فکسڈ چارجز میں رد و بدل کا حالیہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کو توانائی کے شعبے میں شدید مالی دبائو، گردشی قرضے اور عوامی شکایات جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ ان حالات میں حکومت کا یہ اقدام وقتی نہیں بلکہ ایک جامع اور طویل المدتی اصلاحاتی حکمتِ عملی کا حصہ دکھائی دیتا ہے، جس کا مقصد بجلی کے نظام کو پائیدار بنانا اور مختلف صارفین کے لیے منصفانہ ریلیف فراہم کرنا ہے۔ مجوزہ تبدیلیوں کے تحت زیادہ بجلی استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے لیے فی یونٹ ٹیرف میں واضح کمی کی گئی ہے، جو اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ مہنگی بجلی نے متوسط طبقے کو بری طرح متاثر کیا۔ 400سے 700 یونٹ اور اس سے زائد بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لیے فی یونٹ ایک روپے سے زائد کمی نہ صرف گھریلو بجٹ میں سہولت فراہم کرے گی بلکہ بجلی چوری کے رجحان کو بھی کم کرنے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ فکسڈ چارجز سے متعلق حکومتی فیصلہ اگرچہ بظاہر سخت محسوس ہوتا ہے، تاہم اس کے پیچھے ایک واضح مالی منطق موجود ہے۔ بجلی کے ترسیلی اور تقسیماتی نظام کے اخراجات صارف کے استعمال سے قطع نظر مسلسل ہوتے ہیں، جنہیں پورا کرنا ریاست کی ذمے داری ہے۔ فکسڈ چارجز کو تمام پروٹیکٹڈ اور نان پروٹیکٹڈ صارفین پر لاگو کرنے کا مقصد اسی نظام کو مالی طور پر مستحکم بنانا ہے تاکہ مستقبل میں اچانک اور بھاری ٹیرف اضافوں سے بچا جا سکے۔اہم بات یہ ہے کہ بجلی کم استعمال کرنے والے صارفین کے لیے فکسڈ چارجز نسبتاً کم رکھے گئے ہیں جبکہ زیادہ استعمال کرنے والوں سے زیادہ حصہ لیا جا رہا ہے، جو ایک حد تک سماجی توازن اور آمدن کے مطابق بوجھ کی عکاسی کرتا ہے۔ اس سے بجلی کے شعبے میں سبسڈی کے غیر موثر نظام کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔ حکومت کا سب سے قابلِ تحسین اقدام صنعتی اور کمرشل شعبے کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی کی تجویز ہے۔ صنعتی صارفین کے لیے فی یونٹ پانچ روپے تک کمی ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے، جس سے پیداوار بڑھے گی، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور برآمدات کو فروغ ملے گا۔ بالآخر اس کے ثمرات عام شہری تک مہنگائی میں کمی کی صورت میں پہنچ سکتے ہیں۔ یہ بھی خوش آئند امر ہے کہ پاور ڈویژن نے یہ تجاویز نیپرا کے سامنے شفاف طریقے سے پیش کی ہیں، جہاں باقاعدہ سماعت کے بعد حتمی فیصلہ ہوگا۔ یہ عمل حکومتی پالیسی سازی میں ادارہ جاتی توازن اور شفافیت کو ظاہر کرتا ہے۔ مجموعی طور پر بجلی کے ٹیرف میں یہ اصلاحات مشکل مگر ناگزیر فیصلوں کی عکاس ہیں۔ اگر ان پر درست انداز میں عملدرآمد کیا گیا تو یہ اقدامات نہ صرف عوام کو بتدریج ریلیف فراہم کریں گے بلکہ توانائی کے شعبے کو مالی بحران سے نکالنے میں بھی کلیدی کردار ادا کریں گے۔

جواب دیں

Back to top button