Column

پنجاب کے سرکاری ملازمین کا احتجاج

پنجاب کے سرکاری ملازمین کا احتجاج

تحریر: رفیع صحرائی

10 فروری کو لاہور کی سڑکیں ایک بار پھر سرکاری ملازمین کی آواز سے گونجنے والی ہیں۔ یہ شور محض تنخواہوں کا نہیں، بلکہ اعتماد، وقار اور وعدوں کی پاسداری کا ہے۔ اگیگا پنجاب اور مرکزی قائد رحمان علی باجوہ کی قیادت میں مختلف محکموں کے ملازمین احتجاج کے لیے متحد ہو رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ حکومت کے خلاف بغاوت نہیں، بلکہ ’’ ماں ریاست‘‘ سے ایک شائستہ مگر مضبوط مکالمہ کی کوشش ہے۔ ایسا مکالمہ جس میں پنشن، لیو انکیشمنٹ، گریجویٹی اور ڈسپیریٹی الانس جیسے معاملات پر انصاف کی درخواست کی جا رہی ہے۔ دیکھا جائے تو پنجاب کے سرکاری ملازمین کا کوئی بھی مطالبہ نیا یا ناجائز نہیں ہے۔ وہ صرف اپنے واپس لیے گئے حقوق اور ان شرائط کی پاسداری چاہتے ہیں جن شرائط پر انہیں سرکاری ملازمت دی گئی تھی۔

2024ء کے انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے ابھی یادوں میں تازہ ہیں۔ نگران دور میں پاکستان مسلم لیگ ن کی صوبائی قیادت نے ملازمین کے سروں پر دستِ شفقت رکھا تھا۔ ان کے بعض مطالبات اس وقت تسلیم بھی ہوئے تھے مگر اقتدار کے بعد پالیسیوں کی سمت بدلتی دکھائی دی۔ ملازمین کے مطابق، جن شرائط پر انہیں بھرتی کیا گیا تھا، انہی شرائط میں یک طرفہ تبدیلی ان کے لیے سب سے بڑا صدمہ ہے۔ وہ پوچھتے ہیں: اگر معاہدہ ہی بدل جائے تو اعتماد کیسے باقی رہے؟

پنجاب کے سرکاری ملازمین کے بنیادی مطالبات درج ذیل ہیں:

پنشن میں کی گئی کٹوتیوں کا خاتمہ۔

ڈسپیریٹی الائونس کی منظوری۔

لیو انکیشمنٹ کے پرانے طریقہ کار کی بحالی۔

گریجویٹی میں لگائی گئی کٹوتی کی واپسی۔

وفاق کے مساوی مراعات۔

یہ مطالبات صرف مالی فوائد نہیں بلکہ سروس اسٹرکچر کے تسلسل اور اصولی وعدوں کی پاسداری سے جڑے ہیں۔ ملازمین کا موقف ہے کہ اگر ریاست ہی اپنی طے کردہ شرائط بدل دے تو انصاف کی دہلیز کہاں تلاش کی جائے؟ اگر ریاست کے اندر کسی شخص یا گروہ کے ساتھ کوئی زیادتی ہو جائے تو ریاست اس کی مدد کو آ جاتی ہے لیکن ریاست ہی اگر اپنے شہریوں کی بڑی تعداد کے ساتھ زیادتی کرنے لگے تو اس کی فریاد کس سے کی جائے؟

حکومتیں جب عالمی مالیاتی اداروں کے دبا میں فیصلے کرتی ہیں تو ان کے اثرات براہِ راست نچلی سطح کے ملازمین پر پڑتے ہیں۔ کفایت شعاری کی پالیسیوں کا بوجھ اکثر ان لوگوں پر آتا ہے جو پہلے ہی محدود وسائل میں کام کر رہے ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا مالی نظم و ضبط کا سارا وزن انہی کندھوں پر ڈال دینا دانشمندی ہے؟ یہ سوال بھی اپنی جگہ بڑا اہم ہے کہ کفایت شعاری کا اصول عوامی نمائندگان پر کیوں لاگو نہیں ہوتا جن کی تنخواہ اور مراعات میں یکمشت پانچ چھ سو فیصد اضافہ کر دیا جاتا ہے۔

اگیگا کی قیادت کی جانب سے صوبے کے ادارہ جاتی سربراہان سے اپیل کی گئی ہے کہ ملازمین کو احتجاج سے نہ روکا جائے۔ دلیل سادہ ہے: آج ماتحت ملازمین اپنے افسران کے مستقبل کی بھی جنگ لڑ رہے ہیں۔ کل جب یہی افسر ریٹائر ہوں گے تو وہ بھی انہی پالیسیوں کا سامنا کریں گے۔ جن کا سامنا باقی ملازمین کر رہے ہیں۔ یہ ملازمین وہ لوگ ہیں جو فائلوں سے لے کر فیلڈ تک ریاستی مشینری کو رواں رکھتے ہیں۔ استاد، کلرک، ٹیکنیشن، پیرامیڈکس، فیلڈ ورکرز یہ سب وہ خاموش ستون ہیں جن کے بغیر نظام مفلوج ہو جاتا ہے۔ ان کی آواز کو لاٹھی یا دھونس سے دبانا وقتی حل تو ہو سکتا ہے، پائیدار نہیں۔

پنجاب کے ملازمین یہ بھی چاہتے ہیں کہ انہیں وفاق کے مساوی مراعات دی جائیں۔ یہ تقابل محض حسد نہیں بلکہ برابری کے اصول پر مبنی ہے۔ ایک ہی ملک کے اندر اتنا تفاوت کیوں؟ اس تفاوت کے شکار ملازمین کے دکھ پر ناراض ہونا نہیں بنتا۔ آگے بڑھ کر محرومیوں کے شکار ان لاکھوں ملازمین کے اشک پونچھیے، یہ آپ کو دل سے نکلی ہوئی دعائوں کے خزانے سے مالا مال کر دیں گے۔

احتجاج اکثر آخری راستہ ہوتا ہے، مگر یہ پہلا اشارہ بھی ہو سکتا ہے کہ مکالمے کی ضرورت ہے۔ اگر 10فروری کا اجتماع پرامن اور منظم رہا تو یہ حکومت کے لیے ایک سنجیدہ پیغام ہوگا کہ معاملہ وقتی ناراضی نہیں بلکہ دیرینہ تشویش ہے۔ وزیرِاعلیٰ پنجاب سے ملازمین کی اپیل جذباتی بھی ہے اور معقول بھی۔ پنجاب کو بسنت جیسے تہوار دے کر صرف چند دن کی خوشیوں سے نہیں، مستقل انصاف سے خوشحال کیجیے۔ انتخابی وعدوں کی تجدید کیجیے، پالیسیوں پر نظرِ ثانی کیجیے، اور ایک باعزت مکالمے کا آغاز کیجیے۔

ریاست ماں کی مانند ہوتی ہے۔ ماں اگر اپنی اولاد میں امتیاز برتے تو دلوں میں فاصلے بڑھتے ہیں۔ سرکاری ملازمین حکومت کے مخالف نہیں، بلکہ اسی نظام کے محافظ ہیں۔ ان کی بات سنیے، ان کے آنسو پونچھئے، اور ایسا حل نکالیے جو مالی حقیقتوں اور انسانی وقار، دونوں کا احترام کرے۔ یہ ملازمین بے ضرر اور مہذب ہیں۔ امنِ عامہ میں خلل ڈالنے یا توڑ پھوڑ کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ صرف اپنا احتجاج ریکارڈ کروانا چاہتے ہیں۔ اپنے کھوئے ہوئے حقوق کی بحالی کی فریاد کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی آواز پولیس کے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے شیلز سے دبانے کی کوشش نہ کیجیے گا کیونکہ

’’ مکالمہ ہمیشہ لاٹھی سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے اور انصاف ہمیشہ وقتی خاموشی سے زیادہ پائیدار ہوتا ہے‘‘۔

جواب دیں

Back to top button