Column

: آزادی کی نئی صبح کی نویدکشمیر

کشمیر: آزادی کی نئی صبح کی نوید

گزشتہ روز یومِ یکجہتیٔ کشمیر پاکستان سمیت دنیا بھر میں غیر معمولی جوش و خروش، عزم اور یکجہتی کے جذبے کے ساتھ منایا گیا۔ اسلام آباد سے مظفرآباد تک، کراچی سے گلگت تک اور لندن، نیویارک، برسلز سمیت عالمی دارالحکومتوں میں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے آواز بلند کی گئی۔ یہ دن ایک مرتبہ پھر اس حقیقت کی یاد دہانی بن کر ابھرا کہ مسئلہ کشمیر صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک زندہ انسانی المیہ اور عالمی ضمیر کا امتحان ہے۔ اسی تناظر میں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا یہ دوٹوک بیان کہ ’’ کشمیر جلد آزادی کی نئی صبح دیکھے گا جو اہلِ کشمیر کی اجتماعی خواہش اور مقدر ہے‘‘، نہایت بروقت، بامعنی اور حوصلہ افزا ہے۔ یہ بیان نہ صرف کشمیری عوام کے لیے امید کی کرن ہے بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان مسئلہ کشمیر پر اپنے اصولی موقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے گا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا مظفرآباد کا دورہ، جموں و کشمیر یادگارِ شہداء پر حاضری اور پھول رکھنا محض ایک رسمی عمل نہیں بلکہ کشمیری شہداء کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت اور کشمیری عوام کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا عملی اظہار ہے۔ کشمیر تحریک کے وہ شہداء جنہوں نے آزادی کی شمع روشن رکھنے کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، آج بھی جدوجہدِ آزادی کی روح ہیں۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ممتاز شخصیات اور سابق فوجیوں سے گفتگو کے دوران مقبوضہ کشمیر کے عوام سے مکمل یکجہتی کا اعادہ کیا اور اس امر پر زور دیا کہ بھارتی ریاستی جارحیت اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کشمیریوں کے حوصلے توڑنے میں ناکام رہی ہیں۔ سات دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط جبر، تشدد، سیاسی استحصال اور آبادیاتی تبدیلی کی کوششوں کے باوجود کشمیری عوام کی مزاحمت کمزور نہیں پڑی بلکہ مزید منظم اور مضبوط ہوئی ہے۔ ہندوتوا نظریے پر مبنی بھارتی پالیسیوں نے نہ صرف مقبوضہ کشمیر بلکہ پورے خطے کے امن کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، پیلٹ گنز کے ذریعے بچوں اور نوجوانوں کو معذور کرنا، میڈیا اور سیاسی سرگرمیوں پر قدغنیں، یہ سب وہ حقائق ہیں جن پر عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں بھی آواز اٹھا چکی ہیں۔ اس کے باوجود عالمی طاقتوں کی خاموشی سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ پاکستان کا موقف ابتدا سے واضح اور دوٹوک رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک بین الاقوامی تنازع ہے جس کا حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے ان قراردادوں کی حمایت کا اعادہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کسی بھی یک طرفہ، غیر قانونی یا جابرانہ حل کو قبول نہیں کرے گا۔ یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر یہی پیغام دنیا بھر میں دہرایا گیا کہ کشمیری عوام کو ان کا تسلیم شدہ حقِ خودارادیت دیا جانا ناگزیر ہے۔ فیلڈ مارشل کا یہ اعلان کہ پاکستان عالمی فورمز پر کشمیر کا مقدمہ پوری قوت سے اٹھاتا رہے گا، موجودہ عالمی سیاسی حالات میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ دنیا اس وقت طاقت کے توازن، مفادات کی سیاست اور جغرافیائی ترجیحات کے گرد گھوم رہی ہے، مگر ایسے میں اصولی موقف پر ثابت قدم رہنا ہی اخلاقی برتری کی علامت ہوتا ہے۔ پاکستان کی سفارتی کوششیں اس امر کی متقاضی ہیں کہ عالمی میڈیا، انسانی حقوق کے اداروں اور سول سوسائٹی کو مقبوضہ کشمیر کی زمینی حقیقت سے مسلسل آگاہ رکھا جائے۔ مظفرآباد کے دورے کے دوران فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر تعینات افسران اور جوانوں کے جذبے، پیشہ ورانہ معیار اور جنگی تیاریوں کی تعریف نہایت اہم پیغام رکھتی ہے۔ مشکل جغرافیائی اور آپریشنل حالات کے باوجود افواجِ پاکستان کا بلند حوصلہ، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ مہارت دشمن کے لیے واضح پیغام ہے کہ پاکستان اپنے دفاع اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ فیلڈ مارشل کا یہ کہنا کہ کسی بھی دشمنانہ قدم کا فوری، موثر اور بھرپور جواب دیا جائے گا، خطے میں طاقت کے توازن اور دفاعی تیاریوں کے حوالے سے پاکستان کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ بھارت کی جانب سے روایتی جارحیت کے ساتھ ساتھ ہائبرڈ وارفیئر، فالس فلیگ آپریشنز اور پروپیگنڈا مہمات ایک مسلسل چیلنج ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی مسلح افواج ہر سطح پر تیار ہیں۔ یومِ یکجہتی کشمیر ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ کشمیر کا مقدمہ صرف حکومت یا افواج کا نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ فریضہ ہے۔ سیاسی اختلافات، معاشی مشکلات اور داخلی چیلنجز کے باوجود کشمیر کے مسئلے پر قومی اتفاقِ رائے پاکستان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ یہی اتحاد عالمی سطح پر پاکستان کے مقف کو وزن اور اخلاقی جواز فراہم کرتا ہے۔ آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ کشمیر کی آزادی محض ایک جغرافیائی ہدف نہیں بلکہ ایک اخلاقی، انسانی اور تاریخی ذمے داری ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا بیان، مظفرآباد کا دورہ اور یومِ یکجہتی کشمیر پر قوم کا متحد پیغام اس امر کی نوید ہے کہ کشمیری عوام تنہا نہیں۔ اگر عالمی برادری نے اپنی قانونی اور اخلاقی ذمے داریاں نبھائیں تو وہ دن دور نہیں جب کشمیر واقعی آزادی کی نئی صبح دیکھے گا۔ ایک ایسی صبح جو اہلِ کشمیر کی اجتماعی خواہش بھی ہے اور ان کا مقدر بھی۔

بلوچستان: آپریشن ردّالفتنہ

ون مکمل، 216دہشتگرد ہلاک

بلوچستان میں آپریشن ردّالفتنہ ون کی کامیاب تکمیل پاکستان کی داخلی سلامتی کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے۔ پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت، مربوط اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہوئے دہشت گردی کے ایک بڑے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی سرپرستی میں سرگرم عناصر کے خلاف یہ آپریشن قومی عزم، پیشہ ورانہ مہارت اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کی واضح مثال ہے۔ یہ حقیقت قابلِ توجہ ہے کہ دہشت گردوں کا ہدف معصوم شہری، خواتین اور بچے تھے اور ان کا مقصد بلوچستان کے امن، ترقی اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا تھا۔ پنجگور اور ہرنائی سمیت مختلف علاقوں میں کی جانے والی انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کے نتیجے میں سلیپر سیلز کا خاتمہ ہوا اور دہشت گردوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول ڈھانچے کو توڑا گیا۔ غیر ملکی ساختہ اسلحہ اور لاجسٹک سپورٹ کے شواہد اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ پاکستان کو درپیش چیلنج صرف داخلی نہیں بلکہ بیرونی مداخلت سے جڑا ہوا ہے۔آپریشن کے دوران 216دہشت گردوں کا ہلاک ہونا سیکیورٹی فورسز کی فیصلہ کن حکمتِ عملی کا مظہر ہے، تاہم 36معصوم شہریوں اور 22بہادر جوانوں کی شہادت ایک دردناک حقیقت بھی ہے۔ یہ قربانیاں اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض عسکری نہیں بلکہ قومی آزمائش ہے۔ شہداء کی جرات اور فرض شناسی اعلیٰ عسکری روایات کی امین ہے اور پوری قوم ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ کھڑی ہے۔ صدرِ مملکت اور وزیرِاعظم کے بیانات قومی سطح پر یکجہتی اور عزم کی ترجمانی کرتے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کا عزم اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ قانون کی عملداری، انٹیلی جنس اصلاحات اور سرحدی سلامتی کو مزید مضبوط کیا جائے۔ اس کے ساتھ بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی، نوجوانوں کے مواقع اور عوامی اعتماد کی بحالی بھی اسی جنگ کا لازمی حصہ ہیں۔ آخرکار، آپریشن ردّالفتنہ ون اس پیغام کو مضبوط کرتا ہے کہ پاکستان تشدد پر امن، انتشار پر اتحاد اور بدامنی پر ترقی کو ترجیح دیتا ہے۔ ریاستی اداروں کی مشترکہ کوششیں، عوامی تعاون اور مستقل پالیسی تسلسل ہی وہ راستہ ہیں جن سے پائیدار امن ممکن ہے۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جدوجہد جاری رہے گی اور قوم اپنے شہداء کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دے گی۔ قومی اتفاقِ رائے، شفاف احتساب، موثر ابلاغ، اور متاثرہ علاقوں میں بحالی کے اقدامات امن کو دیرپا بنائیں گے، جبکہ دشمن عناصر کے عزائم ناکام ہوں گے اور ریاست عوام کے جان و مال کے تحفظ کی آئینی ذمے داری پوری قوت سے نبھاتی رہے گی اور قانون کی بالادستی ہر حال میں یقینی بنائی جائے گی۔

جواب دیں

Back to top button