یومِ یکجہتی کشمیر اور ہماری قومی ذمہ داری

یومِ یکجہتی کشمیر اور ہماری قومی ذمہ داری
تحریر: عبدالرحمان سلفی
5فروری محض ایک دن نہیں، بلکہ مظلوم کشمیریوں کے ساتھ ہماری غیر متزلزل وابستگی کا اعلان ہے۔ بھارت نے 78سال سے کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حق، حقِ خودارادیت سے محروم کر رکھا ہے۔ 5اگست 2019ء کے بعد سے مقبوضہ وادی کو ایک جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جہاں بھارتی فوج کشمیریوں پر ظلم و ستم کے نئے ہتھکنڈے آزما رہی ہے۔ نوجوانوں کی جبری گمشدگیاں، ماورائے عدالت قتل، خواتین کی عصمت دری، مساجد کی بے حرمتی اور اظہارِ رائے پر مکمل قدغن جیسے اقدامات بھارتی ریاستی دہشت گردی کا واضح ثبوت ہیں۔
مودی سرکار نے عالمی برادری کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ کشمیر میں حالات معمول پر آ چکے ہیں، مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ کشمیر آج بھی ایک جلتا ہوا لاوا ہے، جہاں ہر روز بھارتی جبر کے خلاف نئی تاریخ رقم کی جا رہی ہے۔ کشمیریوں کے جنازے آج بھی پاکستانی پرچم میں لپٹے ہوتے ہیں، ان کی زبانوں پر آج بھی ’’ کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے نعرے گونج رہے ہیں، اور ان کے دل آج بھی پاکستان کے ساتھ دھڑک رہے ہیں۔
پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کی جدوجہد کا حامی اور ان کے حقوق کا وکیل رہا ہے۔ اس سال بھی ملک بھر میں کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے مختلف تنظیموں کی جانب سے مظاہرے، ریلیاں اور سیمینار منعقد کیے جا رہے ہیں۔ دیگر جماعتوں کی طرح جمیعت اہلحدیث اور اس کی ذیلی تنظیمیں بھی اس حوالے سے بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔ اہلحدیث یوتھ فورس پاکستان اور تحریک طلباء اہلحدیث پاکستان کے کارکنان علامہ ہشام الٰہی ظہیر کی کال پر یومِ یکجہتی کشمیر جوش و خروش کے ساتھ منا رہے ہیں۔
اسی سلسلے میں فیصل آباد میں اہلحدیث یوتھ فورس کے زیراہتمام ایک خصوصی یکجہتی کشمیر کانفرنس منعقد ہو رہی ہے، جہاں کشمیریوں کے حق میں موثر آواز بلند کی جائے گی اور نوجوانوں کو سفارتی و ابلاغی محاذ پر مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کے عملی نکات دئیے جائیں گے۔ دوسری جانب گوجرانوالہ میں تحریک طلباء اہلحدیث کے تحت بھی ایک بڑا پروگرام منعقد کیا جا رہا ہے، جہاں طلبہ و نوجوانوں کو کشمیر کے لیے اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا جائے گا اور عملی اقدامات پر زور دیا جائے گا۔
اس کے علاوہ بھی ملک کے مختلف شہروں میں اہلحدیث یوتھ فورس، تحریک طلباء اہلحدیث اور جمعیت اہلحدیث کے پلیٹ فارم سے کئی پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں، جن میں مظلوم کشمیریوں کے لیے آواز بلند کی جا رہی ہے۔ یہ تمام سرگرمیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستانی قوم کشمیریوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گی۔
یہ وقت محض رسمی بیانات دینے کا نہیں، بلکہ عملی اقدامات اٹھانے کا ہے۔ ہمیں سفارتی، ابلاغی اور سماجی سطح پر مسئلہ کشمیر کو عالمی ضمیر کے جھنجھوڑنے کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم سوشل میڈیا، عالمی فورمز، تعلیمی اداروں اور عوامی سطح پر اس مسئلے کو اجاگر کریں اور دنیا کو باور کرائیں کہ کشمیر آج بھی انصاف کا متلاشی ہے۔
یہ دن ہمیں اس عہد کی تجدید کا موقع دیتا ہے کہ ہم ہر ممکن حد تک کشمیری بھائیوں کی حمایت جاری رکھیں گے۔ حق کی جیت اور باطل کی شکست تاریخ کا اصول ہے، اور وہ دن دور نہیں جب ظلم کی سیاہ رات ختم ہوگی اور کشمیر کے مظلوموں کو آزادی کی روشنی نصیب ہوگی۔ ان شاء اللہ وہ دن دور نہیں جب کشمیر بنے گا پاکستان!






