جرمنی میں افغان قونصل خانوں کا دوہرا چیلنج

جرمنی میں افغان قونصل خانوں کا دوہرا چیلنج
تحریر : قادر خان یوسف زئی
جرمنی کے اصولی نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو افغان قونصل خانوں کے معاملے میں بنیادی ترجیح دوہری ہے۔ ایک طرف جرمن ریاست اپنی سرزمین پر امنِ عامہ، داخلی سلامتی اور قانون کی عملداری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتی، اور دوسری طرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر آنے والوں کے لیے کم از کم اتنا راستہ ضرور باقی رہنا چاہیے کہ وہ قانونی شناخت اور ضروری کاغذات کے بغیر غیر یقینی میں نہ دھکیلے جائیں۔ یہی وہ باریک لکیر ہے جس پر برلن چلنا چاہتا ہے، اور اسی لیے قونصلر نظام میں افغان طالبان سے منسوب عملے کی آمد محض ایک سفارتی خبر نہیں بلکہ ’’ ریاستی رسک مینجمنٹ‘‘ کا سوال بن جاتی ہے۔ جرمن ذرائع ابلاغ عامہ کی رپورٹ کے مطابق افغا ن مہاجرین کو اپنی دستاویزات کی تکمیل کیلئے قونصل خانے میں افغان رجیم کی جانب سے مزید عملے کی تعیناتی نے تحفظات کی نئی لہر کو جنم دیا ہے کیونکہ اب وہ اس رجیم کے سامنے ہوں گے جن سے بھاگ کر انہوں نے جرمنی میں پناہ حاصل کی ہوئی ہیں۔ دوسری جانب قونصل خانوں میں سابق افغان حکومت کے تعینات عملے کی تشویش بھی سامنے آچکی ہے۔جرمنی کی ریاستی نفسیات کی ایک واضح بنیاد اصول ، قانون کی حکمرانی، دستاویزات کی صداقت، اور سکیورٹی چیک کے قابلِ بھروسہ معیار ہے۔ جب کسی قونصل خانے کا کنٹرول ایسے گروہ کے نمائندوں کے پاس چلا جائے جسے جرمنی باضابطہ طور پر اسی اعتماد کی سطح پر نہ رکھتا ہو جس پر وہ معمول کی ریاستوں کو رکھتا ہے، تو جرمن اداروں کے لیے دو خدشات فوراً جنم لیتے ہیں۔ اول یہ کہ جاری ہونے والی دستاویزات کی تصدیق اور قانونی حیثیت کیسے پرکھی جائے، اور دوم یہ کہ اس ادارہ جاتی رابطے کے ذریعے کسی فرد یا نیٹ ورک کو جرمنی کے اندر اثرانداز ہونے کا غیر ضروری موقع نہ مل جائے۔ اسی لیے جرمنی کا محتاط رویہ اکثر انسانی ہمدردی کے انکار کے طور پر نہیں، بلکہ اپنی ریاستی ذمہ داریوں کے تحت ممکنہ خطرات کو کم کرنیکی کوشش کے طور پر سامنے آتا ہے۔
یہ احتیاط محض نظری نہیں۔ جرمن فیڈرل کریمنل پولیس آفس (BKA)کی 2024ء سے متعلق جاری کردہ معلومات کے مطابق جن ’’ شناخت شدہ ‘‘ مجرمانہ مشتبہ افراد کا ریکارڈ سامنے آیا، ان میں’’ عارضی مہاجرین‘‘ ( جیسے پناہ کے متلاشی، پناہ یافتہ، یا عارضی رہائشی حیثیت رکھنے والے) 8.8%تھے، جبکہ مجموعی طور پر 35.4%مشتبہ افراد غیر جرمن شہری تھے۔ اس نوعیت کے اعداد و شمار جرمن ریاست کو یہ جواز دیتے ہیں کہ وہ امیگریشن، پناہ، اور دستاویزی نظام میں سکیورٹی و ویٹنگ کے عمل کو سخت اور شفاف رکھے۔ کیونکہ داخلی سلامتی کے سوال پر کوئی حکومت ’’ نیک نیتی‘‘ کو کافی نہیں سمجھتی، اسے قابلِ تصدیق شواہد اور قابلِ نفاذ طریقہ کار درکار ہوتے ہیں۔
لیکن اسی تصویر کا دوسرا رخ بھی جرمنی کے لیے اہم ہے۔ بی کے اے کے مطابق عارضی مہاجرین خود بھی جرائم کا نشانہ بنتے ہیں، اور 2024ء میں ان کے خلاف جرائم کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ اور پناہ گزین مراکز کو نشانہ بنانے والے واقعات کا ذکر سامنے آیا۔ یہ حقیقت جرمن ریاست کو یاد دلاتی ہے کہ سکیورٹی کے نام پر عمومی بدگمانی کی فضا بڑھانا خود ایک سکیورٹی رسک بن سکتا ہے، کیونکہ سماجی تنا، انتہاپسندی اور بستیوں پر حملے ریاستی نظم کو مزید چیلنج کرتے ہیں۔ یوں جرمن اصولیت کا تقاضا یہ بنتا ہے کہ قانون کی سختی اور شہری آزادیوں؍ انسانی تحفظ میں توازن برقرار رہے۔ ورنہ ریاست اپنی ہی زمین پر’’ دو متوازی حقیقتیں‘‘ پیدا کر دیتی ہے۔ ایک سخت قانون، دوسری عدم تحفظ کی نفسیات۔
افغان قونصل خانوں کا معاملہ اسی توازن کو مشکل بنا رہا ہے، کیونکہ پناہ گزینوں کو روزمرہ قانونی ضرورتوں کے لیے انہی قونصلر خدمات کی طرف جانا پڑتا ہے جن کے بارے میں وہ عدم تحفظ محسوس کرتے ہیں۔ جرمنی میں افغان قونصل خانوں کا کنٹرول افغان طالبان حکام سنبھال رہے ہیں او مزید اہلکار بھیجنے کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ جرمن نقطہ نظر سے یہ ایک پیچیدہ سوال ہے۔ اگر قونصل خانے فعال رہیں تو دستاویزات تک رسائی آسان ہو سکتی ہے، مگر ساتھ ہی ممکنہ طور پر ایسے چینلز بھی کھل سکتے ہیں جن پر جرمن ادارے مکمل اعتماد نہیں کرتے۔ اور اگر قونصلر نظام محدود یا غیر موثر ہو جائے تو پھر دستاویزاتی خلا پیدا ہوگا جس کا نتیجہ غیر قانونی رہائش، بلیک مارکیٹ دستاویزات، یا انتظامی بدنظمی کی صورت نکل سکتا ہے۔ لہٰذا جرمنی کے لیے’’ کم نقصان والا راستہ‘‘ وہی ہے جس میں خدمات کی ضرورت بھی پوری ہو اور خطرات بھی کم ہوں۔ یہی ریاستی حکمت عملی کی اصل روح ہے۔اسی اصولی فریم میں جرمن اداروں کی سخت ویٹنگ کی منطق بھی سمجھ آتی ہے۔ جرمنی میں افغانوں کے داخلہ؍ قبولیت کے سلسلے میں سکیورٹی جانچ کے عمل اور ’’ سکیورٹی انٹرویوز‘‘ کی نوعیت پر جرمن میڈیا ( مثلاً ٹاگس شائو ؍ پینوراما) نے رپورٹ کیا ہے کہ وفاقی پولیس اور آئین کے تحفظ کے ادارے (BfV)اسلام آباد میں بعض درخواست گزاروں کے تفصیلی انٹرویو کرتے رہے ہیں، اور داخلی سلامتی کو ترجیح دینے کا مقف جرمن وزارتِ داخلہ کی سطح پر بھی سامنے آیا۔ جرمن ریاست کے نزدیک یہ عمل اس لیے ’’ غیر متنازعہ‘‘ سمجھا جاتا ہے کہ پناہ صرف ہمدردی نہیں، ریاست اور معاشرے کے ساتھ ایک باقاعدہ قانونی معاہدہ ہے۔ جس میں ریاست یہ دیکھنے کی پابند ہے کہ کہیں وہ اپنے دروازے کے ساتھ اپنے لیے خطرہ تو نہیں کھول رہی۔ تاہم جرمنی اگر واقعی اصولی ہے تو اسے ایک اور اصول بھی برابر یاد رکھنا ہوگا۔ فردِ واحد کو اجتماعی جرم کی بنیاد پر مجرم نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔’’ عارضی مہاجرین‘‘ کے بارے میں اعداد و شمار پالیسی سازی اور وسائل کی تقسیم میں رہنمائی دے سکتے ہیں، مگر انصاف کا پیمانہ ہمیشہ انفرادی شواہد، شفاف کارروائی اور عدالت کے معیار پر قائم رہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جرمن ریاست کی ایک ذمہ داری یہ بھی بنتی ہے کہ وہ جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف قانون پوری قوت سے نافذ کرے، مگر ساتھ ہی قانونی طور پر رہنے والے، ٹیکس دینے والے، کام کرنے والے یا تعلیم حاصل کرنے والے پناہ گزینوں کے لیے ’’ نارمل زندگی‘‘ کی راہ بند نہ کرے۔ کیونکہ یہی سماجی انضمام (integration)کا بنیادی وعدہ ہے۔ قونصل خانوں کے گرد پیدا ہونے والی بے اعتمادی کا عملی حل بھی جرمن اصولیت سے ہی نکلتا ہے۔ دستاویزات کی تصدیق کے لیے سخت مگر قابلِ رسائی طریقے، حساس کیسز کے لیے محفوظ چینلز، اور ایسے انتظامی متبادل جن سے کسی ایک متنازع قونصلر ڈھانچے پر مکمل انحصار کم ہو۔ اس کے ساتھ ریاست کو یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ داخلی سلامتی صرف سرحدوں پر نہیں بنتی، یہ پولیسنگ، عدالتی رفتار، سماجی نگرانی، کمیونٹی انگیجمنٹ اور غلط معلومات کے مقابلے کی مجموعی حکمت عملی سے بنتی ہے۔ اگر جرمنی اس فریم کو برقرار رکھتا ہے تو وہ ایک ساتھ دو پیغامات دے سکے گا۔ جرم کرنے والے کے لیے زیرو ٹالرنس، اور قانون ماننے والے پناہ گزین کے لیے منصفانہ راستہ۔ اور یہی وہ اصولی بیانیہ ہے جو نہ جذباتی ہے نہ کمزور، بلکہ ریاستی ذمہ داری کے عین مطابق ہے۔






