پاکستان، قازقستان میں

پاکستان، قازقستان میں
ایم او یوز اور معاہدے
پاکستان اور قازقستان کے درمیان حالیہ ایم او یوز اور معاہدوں نے دونوں ملکوں کے تعلقات میں نئے امکانات کو جنم دیا ہے۔ دو سال کے اندر دو طرفہ تجارت کو ایک ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کے ساتھ، دونوں ممالک نے 37یادداشتوں برائے مفاہمت (MOUs)اور معاہدوں پر دستخط کئے ہیں، جو نہ صرف اقتصادی تعاون کو فروغ دیں گے بلکہ خطے میں اسٹرٹیجک شراکت داری کو بھی مضبوط کریں گے۔ یہ معاہدے تعلیم، دفاع، ٹرانسپورٹ، توانائی اور نجی شعبے کے روابط سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فعال کرنے کے لیے اہم سنگ میل ثابت ہوں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے دستخط تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں کو عملی شکل دینے کے لیے پُرعزم ہے اور مشترکہ کوششوں سے اپنے اہداف حاصل کرے گا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں قازق صدر قاسم جومارت توقایووف اور ان کے وفد کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ دورہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو نئی جہت دینے کے لیے بہت اہم ہے۔ یہ یاد دہانی بھی اہم ہے کہ 23سال بعد قازقستان کے کسی صدر کا یہ پہلا سرکاری دورہ پاکستان ہے، جو تعلقات کی مضبوطی اور اعتماد کی علامت ہے۔ صدر قاسم جومارت توقایووف کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں دونوں رہنماں نے اقتصادی، سیاسی، دفاعی اور عوامی روابط کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اس ملاقات میں یہ بھی طے پایا کہ پاک قازقستان اسٹرٹیجک پارٹنر شپ کے قیام کے ذریعے دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنیاد فراہم کی جائے گی۔ اس موقع پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور سابق وزیر خزانہ اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی شریک ہوئے، جس سے ملاقات کی اہمیت اور سطح کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس اقدام کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ صرف سرکاری یا سیاسی تعلقات تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا دائرہ نجی شعبے، تجارتی فورمز اور عوامی روابط تک پھیلا ہوا ہے۔ پاکستان، قازقستان بزنس فورم کے انعقاد پر زور دیا گیا، جس کا مقصد دونوں ممالک کے تاجروں اور سرمایہ کاروں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف دوطرفہ تجارت میں اضافہ کریں گے بلکہ خطے میں اقتصادی تعاون اور استحکام کے لیے بھی مددگار ثابت ہوں گے۔ تجارتی تعلقات کے حوالے سے دو سال کے منصوبے کے تحت، دونوں ممالک نے 1ارب ڈالر تک تجارت کو بڑھانے کا عزم کیا ہے۔ یہ ایک حقیقت پسندانہ لیکن پُرجوش ہدف ہے،
کیونکہ حالیہ برسوں میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں خاطرخواہ اضافہ نہیں ہوا۔ تاہم اس معاہدے اور دستخط شدہ یادداشتوں کے ذریعے اقتصادی تعاون کو مستحکم بنیاد فراہم کرنے کا عزم ظاہر ہوتا ہے۔ توانائی، زراعت، انفرا اسٹرکچر، ٹرانسپورٹ اور ٹرانزٹ ٹریڈ میں تعاون کے امکانات اس معاہدے سے بہت روشن نظر آتے ہیں۔ مزید برآں، یہ دورہ اور معاہدے خطے میں سیاسی اور دفاعی ہم آہنگی کو بھی فروغ دیں گے۔ پاکستان اور قازقستان کے درمیان مضبوط دفاعی تعلقات، فوجی تعاون اور تربیتی پروگراموں کا فروغ دونوں ممالک کے سکیورٹی مفادات کے لیے نہایت اہم ہے۔ یہ تعلقات نہ صرف دوطرفہ سطح پر بلکہ خطے میں استحکام اور امن کے لیے بھی فائدہ مند ہیں۔ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے ساتھ، عوامی اور ثقافتی روابط کو فروغ دینا بھی اس شراکت داری کا ایک اہم پہلو ہے۔ دونوں ممالک کی حکومتیں تعلیم، صحت، اور سوشل ویلفیئر کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔ نوجوانوں کی تربیت، اعلیٰ تعلیم کے مواقع اور ثقافتی تبادلے خطے میں ایک مثبت ماحول بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ پاکستان اور قازقستان کے تعلقات کی تاریخ اور مستقبل دونوں ہی اہم ہیں۔ موجودہ معاہدوں اور یادداشتوں کے دستخط کے بعد یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ آنے والے برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ 23سال بعد قازقستان کے صدر کا پاکستان کا دورہ اس بات کا مظہر ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ اور مضبوط تعلقات قائم رکھنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔ یہ معاہدے اور تعاون صرف اقتصادی یا سیاسی سطح پر نہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی تعلقات کو مضبوط بنانے کا سبب بنیں گے۔ نجی شعبے کے سرمایہ کار، تاجروں اور کاروباری اداروں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور دونوں ممالک کے درمیان کاروباری رابطے فروغ پائیں گے۔ یہ اقدام نہ صرف دوطرفہ تجارت کے فروغ کے لیے اہم ہے بلکہ خطے میں اقتصادی ترقی اور خوش حالی کے لیے بھی مثبت اثرات مرتب کرے گا۔ آخر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان اور قازقستان کے تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہورہے ہیں۔ دستخط شدہ یادداشتیں اور معاہدے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، سیاسی، دفاعی اور عوامی تعلقات کو مضبوط بنیاد فراہم کریں گے۔ پاکستان کا مقصد نہ صرف تجارت کو بڑھانا ہے بلکہ خطے میں استحکام، تعاون اور مثبت تعلقات کو فروغ دینا بھی ہے۔ اس نئے دور کے ساتھ، پاکستان اور قازقستان نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کریں گے بلکہ عالمی سطح پر اپنے اقتصادی اور سیاسی اثر و رسوخ کو بھی بڑھائیں گے۔ یہ معاہدے پاکستان اور قازقستان کے تعلقات میں تاریخ ساز اہمیت کے حامل ہیں اور مستقبل قریب میں دونوں ممالک کے لیے نئے تجارتی، اقتصادی اور سٹرٹیجک مواقع پیدا کریں گے۔
فیلڈ مارشل کا دہشتگردی کیخلاف عزم مصمم
چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورس، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا حالیہ دورہ کوئٹہ اس امر کی واضح علامت ہے کہ ریاستِ پاکستان بلوچستان میں امن و استحکام کے قیام کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔ اس دورے کے دوران انہیں صوبے کی موجودہ سیکیورٹی صورتحال اور اندرونی سلامتی سے متعلق جاری آپریشنز پر جامع بریفنگ دی گئی، جس میں حالیہ دہشت گرد حملوں اور ان کے پس منظر کا تفصیلی جائزہ بھی شامل تھا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ کسی بھی دہشت گرد یا اس کے سہولت کار کو قانون کے مطابق سخت کارروائی کے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا۔ ان کا یہ بیان نہ صرف سیکیورٹی فورسز کے لیے حوصلہ افزا ہے بلکہ عوام کے لیے بھی ایک مضبوط پیغام ہے کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف کسی قسم کی نرمی یا سمجھوتہ نہیں کرے گی۔بریفنگ کے دوران اس حقیقت کو بھی اجاگر کیا گیا کہ حالیہ دہشت گرد حملے بھارتی سرپرستی میں کام کرنے والی بین الاقوامی سطح پر نامزد دہشت گرد تنظیم ’’ فتنہ الہندوستان‘‘ سے منسلک عناصر نے کیے۔ تاہم سیکیورٹی فورسز کے بروقت اور جارحانہ ردعمل نے ان عناصر کے امن، استحکام اور ترقی کو نقصان پہنچانے کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا۔ یہ ردعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نہ صرف چوکنا ہیں بلکہ ہر قسم کے خطرے سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہیں۔ فیلڈ مارشل نے اس موقع پر جوانوں کی استقامت، پیشہ ورانہ مہارت اور بہادری کو سراہا، جو مشکل ترین حالات میں بھی اپنی ذمے داریاں نبھا رہے ہیں۔ انہوں نے زخمی اہلکاروں کی عیادت بھی کی، جو اس بات کا مظہر ہے کہ قیادت اپنے جوانوں کے حوصلے اور قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اس طرح کے اقدامات فورسز کے مورال کو بلند کرتے ہیں اور ان کے عزم کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔ بلوچستان پاکستان کا ایک حساس اور اہم صوبہ ہے، جہاں امن و امان کا قیام نہ صرف مقامی آبادی بلکہ پورے ملک کی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔ دہشت گرد عناصر کا مقصد ترقیاتی عمل کو سبوتاژ کرنا اور عوام میں خوف پھیلانا ہے، مگر ریاست اور سیکیورٹی فورسز کے موثر اقدامات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ آخر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ کوئٹہ کا یہ دورہ اور اس دوران دیا گیا واضح پیغام پاکستان کے دہشت گردی کے خلاف غیر متزلزل عزم کا عکاس ہے۔ جب قیادت، سیکیورٹی فورسز اور عوام ایک صفحے پر ہوں تو کوئی بھی دشمن ملک کے امن و استحکام کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔






