Column

درد بھی ایک درسگاہ ہے

درد بھی ایک درسگاہ ہے
علیشبا بگٹی
پلس پوائنٹ
کہتے ہیں ایک بادشاہ تھا۔ سلطنت وسیع، خزانے لبریز، رعایا مطمئن۔ مگر بادشاہ کے چہرے پر ایک مستقل ویرانی سی بسی رہتی تھی۔ دربار کے حکمائ، نجومی، فلسفی سب بلائے گئے۔ سب کے سامنے سوال رکھا گیا۔ کہ مستقل خوشی کیسے حاصل کی جا سکتی ہے؟ کسی نے کہا، طاقت میں خوشی ہے، کسی نے کہا دولت ہیرے جواہرات سونے چاندی میں، کسی نے کہا فتوحات میں۔ بادشاہ نے سب آزما لیا، مگر دل سے درد نہ گیا۔ ایک دن ایک درویش دربار میں آیا۔ بادشاہ نے پوچھا۔ ’’ خوشی کہاں ملتی ہے؟‘‘، درویش مسکرایا اور بولا۔ ’’ جہاں تم اسے ڈھونڈ نہیں رہے‘‘۔
یہ جملہ تاریخ میں کہیں درج نہیں، مگر انسان کے باطن میں صدیوں سے لکھا جا رہا ہے۔ ہم عجیب مخلوق ہیں۔ خوشی جب ہمارے دروازے پر خود آتی ہے، تو ہم اس پر شک کرتے ہیں، اور درد جب آہستہ سے دل میں اترتا ہے تو ہم اسے شناخت کر لیتے ہیں۔ دنیا کے محاورے ہی دیکھ لیجیے۔ انگریزی میں کہتے ہیں No pain, no gain۔ فارسی میں ہے، رنج گنج است، یعنی رنج ہی خزانہ ہے۔ اردو نے تو درد کو ہی دردِ دے دیا۔ جیسے شعراء کرام نے اپنی شاعری میں ہر جگہ استعارہ استمعال کیا۔ دردِ دل، دردِ عشق، دردِ لا علاج۔ گویا خوشی ایک اتفاق ہے اور درد ایک نظام۔ تاریخ بھی اسی اصول پر چلتی ہے۔ زوال ہمیشہ مسرت کے بعد آیا، کبھی درد کے بعد نہیں۔
اسلام ہمیں توازن سکھاتا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ، ترجمہ: ’’ پس یقیناً تنگی کے ساتھ آسانی ہے‘‘۔ ( سورہ الشرح، آیت 6)۔
یعنی آسانی مشکل کے ’’ بعد‘‘ میں نہیں، ’’ ساتھ‘‘ میں ہے۔ مگر انسان کیا کرتا ہے؟ وہ عسر کو تو پکڑ لیتا ہے، یسر کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ شعور دیتی ہے کہ درد محض آزمائش نہیں، بلکہ تربیت کا مرحلہ ہے۔ نبی کریم ٔ کی زندگی دیکھ لیجیے۔ یتیمی، فاقے، طائف کے پتھر، شعبِ ابی طالب کا محاصرہ، ہجرت، جلاوطنی، جنگیں، یہ سب درد ہی تو تھے، مگر انہی دردوں نے انسانیت کو صبر، عدل، رحمت اور استقامت کا عملی نمونہ دیا۔ اگر زندگی صرف سہولت کا نام ہوتی تو شاید کردار کبھی پروان نہ چڑھتا۔ اگر راحت شرط ہوتی تو شاید رسالت بھی ایک آرام دہ واقعہ ہوتی، انقلاب نہ بنتی۔
تاریخ کا مطالعہ کیجیے تو یہی سبق ملتا ہے۔ ہر بڑی تہذیب، ہر عظیم مفکر اور ہر سچا رہنما کسی نہ کسی درد کی درسگاہ سے گزر کر ہی ابھرا۔ سقراط نے سچ کے لیے زہر کا پیالہ پیا، مگر جھوٹ کے سامنے سر نہ جھکایا۔ اس نے زہر کا پیالہ تو قبول کیا، مگر سچ سے دستبردار نہ ہوا۔ یہ درد کی انتہا ہی تھی۔ جو زہر اس کے لیے امرت بنی۔ جسے پینے کے بعد وہ امر ہوگیا۔ حضرت امام حسینؓ نے کربلا میں جو درد سہا، وہ محض ایک سانحہ نہیں تھا، قیامت تھا۔ پھر یہ قیامت تک کے لیے ضمیرِ انسانی کی علامت و تعلیم بن گیا۔ یہ واقعات بتاتے ہیں کہ درد سے وقتی شکست ہو سکتا ہے، مگر فکری فتح اکثر اسی کے بطن سے پیدا ہوتی ہے۔ فلسفہ اس نکتے پر اور بے رحم ہے۔ نطشے کہتا ہے۔ جو چیز مجھے نہیں مارتی، وہ مجھے مضبوط بناتی ہے۔ وجودیت ہمیں بتاتی ہے کہ معنی درد سے جنم لیتا ہے، سہولت سے نہیں۔
نفسیات اس راز کو مزید کھولتی ہے۔ انسان کا دماغ خوشی کو عارضی اور درد کو مستقل سمجھتا ہے۔ Hedonic Adaptation کے مطابق ہم خوشی کے عادی ہوجاتے ہیں، مگر صدمہ ہمیں بدل دیتا ہے۔ ٹراما شخصیت کو توڑتا نہیں، اکثر نئی تشکیل کرتا ہے۔ اسی لیے سب سے گہری بصیرت رکھنے والے لوگ اکثر سب سے زیادہ ٹوٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ درد انسان کو خود سے ملواتا ہے، اس کی کمزوریوں، خوف اور اصل قوت کا آئینہ دکھاتا ہے۔ یہ وہ سبق ہیں جو کوئی نصاب نہیں سکھا سکتا۔ درد اس ماسک کو بھی ہٹا دیتا ہے۔ جو سب نے پہن رکھی ہوتی ہے۔ کہ کون اپنا ہے ، کون غیر ہے۔
سائنس کی دنیا میں بھی درد ایک استاد کی صورت میں موجود ہے۔ ہیرا شدید دبا کے بغیر وجود میں نہیں آتا۔ ستارے کششِ ثقل کے کرب سے جنم لیتے اور چلتے ہیں۔ سورج کو روشنی دینے کے لئے جلنا پڑتا ہے۔ اگر سورج کے مرکز میں بے پناہ اذیت نہ ہو۔ تو روشنی ممکن نہیں۔ اگر روشنی سفر کے اذیت سے نہ گزرے تو فاصلہ طے کرنا ممکن نہیں۔ سورج اور روشنی ان مشکلوں سے گزر کر ہی زمین پر زندگی کو ممکن بناتے ہیں۔ کائنات کی ہر تخلیق کسی نہ کسی بحران کی پیداوار ہے۔ یہ درد creative destructionہے۔ قدرت کا قانون ہے۔ جو سہولت میں پلا، وہ نازک ہوتا ہے۔ جو مشکل میں تپا، وہ مضبوط ہوتا ہے۔
غالب نے کہا:
رنج سے خوگر ہوا انسان تو مٹ جاتا ہے رنج
مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہوگئیں
جبکہ انسان جب درد کا نام سنتا ہے، تو اس کے ذہن میں تکلیف، محرومی اور شکست کے مناظر ابھرتے ہیں۔ ہم فطری طور پر درد سے بھاگنا چاہتے ہیں اور خوشی کو مقصدِ حیات بنا لیتے ہیں۔ مگر تاریخ، مذہب، فلسفہ اور خود انسان کا باطن ہمیں بار بار یہ سکھاتا ہے، کہ درد صرف اذیت نہیں، بلکہ ایک مکمل درسگاہ ہے۔ ایسی درسگاہ جہاں داخلہ اپنی مرضی سے نہیں، مگر تعلیم بے مثال ہوتی ہے۔ کہتے ہیں علم کتابوں سے ملتا ہے، مگر شعور اکثر زخموں سے جنم لیتا ہے۔ جو سبق آرام میں نہیں سیکھے جاسکتے، وہ درد لمحوں میں سکھا دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کی شخصیت کی اصل تعمیر اکثر مشکل حالات میں ہوتی ہے، نہ کہ آسودگی میں۔
شعر ہے:
ہم تو ہمیشہ سے درد کے خریدار رہے ہیں
خوشیوں کے سودے ہمیں راس نہیں آتے
اصل سوال یہ نہیں کہ ہم درد کے خریدار کیوں ہیں ؟ اصل سوال یہ ہے کہ کیا درد ہمیں خرید رہا ہے یا ہم درد کو؟ اگر درد ہمیں توڑ دے تو وہ زہر ہے۔ اگر درد ہمیں جگا دے، ہمیں سوچنے، بدلنے اور بہتر بننے پر مجبور کر دے تو وہ درس ہے، علم ہے۔ اور اگر درد ہمیں خدا سے ملا دے تو وہ نعمت ہے۔ شاید اسی لیے خوشیوں کے سودے ہمیں راس نہیں آتے۔ کیونکہ وہ ہمیں بدلتی نہیں، صرف بہلاتی ہیں۔ اور درد؟ درد ہمیں وہ بنا دیتا ہے، جو ہم حقیقت میں ہو سکتے تھے۔
شعر ہے:
دکھ تو یہ ہے کہ اب ہمیں درد کی عادت ہوگئی
اور خوشی کی بات سے جی گھبرانے لگا ہے
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ زندگی کی سب سے بڑی یونیورسٹی کوئی ادارہ نہیں، بلکہ وہ لمحے ہیں جب انسان ٹوٹتا ہے، دکھی ہوتا ہے۔ روتا ہے، تنہا ہوتا ہے اور سوال کرتا ہے۔ میرے ساتھ ہی ہر وقت ایسا کیوں ؟ تو انہی دردِ کے لمحوں میں انسان سیکھتا ہے، سنبھلتا ہے۔ پھر دُنیا کو، خود کو اور خدا کو پہچانتا ہے۔ واقعی، درد بھی ایک درسگاہ ہے۔

جواب دیں

Back to top button