کوئی مستقل دوست نہیں

کوئی مستقل دوست نہیں
تحریر: محمد محسن اقبال
مثبت سوچ اور رجائیت زندگی سے نمٹنے کے نہایت بلند اور شائستہ طریقے ہیں، کیونکہ یہی اوصاف انسان میں حوصلہ، استقامت اور امید پیدا کرتے ہیں۔ مگر جب رجائیت زمینی حقائق سے کٹ جائے تو وہ ایک خطرناک فریب بن جاتی ہے۔ قومیں بھی افراد کی طرح اس وقت نقصان اٹھاتی ہیں جب جذبات، فیصلوں پر غالب آ جائیں اور حکمتِ عملی کی جگہ خوش فہمی لے لے۔ اسی تناظر میں کچھ یادیں بار بار ذہن میں لوٹتی ہیں، ایسی یادیں جو محض ذاتی مشاہدے کی نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی سیاست کے ساتھ پاکستان کے طویل اور اکثر تکلیف دہ تعلق کی پیداوار ہیں۔جب معروف امریکی دانشور اور تجزیہ نگار نوم چومسکی پاکستان آئے تو ان سے ایک ایسا سوال کیا گیا جو قیامِ پاکستان کے ابتدائی برسوں ہی سے اس ملک کو پریشان کرتا رہا ہے؛ پاکستان کو امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو کس نظر سے دیکھنا چاہیے؟ چومسکی نے غیر معمولی صاف گوئی سے جواب دیا۔ ان کے مطابق امریکہ ہمیشہ اپنے مفادات کے تحت فیصلے کرتا آیا ہے، اس سے قطع نظر کہ وائٹ ہاس میں کون بیٹھا ہے۔ جہاں اس کے مفادات وابستہ ہوں وہاں وہ فیاضی سے تعاون کرتا ہے، اور جہاں نہ ہوں وہاں کسی تردد کے بغیر کنارہ کش ہو جاتا ہے۔ اپنی بات کی تائید میں انہوں نے تاریخ کی کئی مثالیں دیں اور ہلکی سی طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا کہ پاکستان کی ’’ مدد‘‘ کے لیے بھیجا گیا مشہور زمانہ’’ انٹرپرائز‘‘ بیڑا آج تک نہیں پہنچا۔ پھر مسکراتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستانی ایک جذباتی قوم ہیں؛ انہیں چند محبت بھرے جملے کہہ دئیے جائیں تو وہ خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں، اور یہی کمزوری انہیں بار بار دھوکے کا شکار بناتی رہی ہے۔
میں اس موقع پر موجود تھا اور ایک امریکی کی زبان سے امریکی پالیسی کی یہ بے لاگ تشریح سن کر چونک گیا۔ یہ اس لیے بھی بے چین کرنے والی تھی کہ اس میں سچائی کی گونج تھی۔ ہم واقعی ایک جذباتی قوم ہیں۔ اگر کوئی غیر ملکی رہنما ہمارے حکمرانوں کے ساتھ ہنس کر بات کرے یا غیر معمولی گرم جوشی دکھائے تو ہم فوراً اسے خاندانی قربت کا درجہ دے دیتے ہیں، گویا وہ کسی طاقتور ریاست کا سربراہ نہیں بلکہ کوئی قریبی عزیز ہو۔ یوں شائستگی کو ہم وابستگی سمجھ بیٹھتے ہیں اور جذبات ہماری بصیرت پر پردہ ڈال دیتے ہیں۔
تاریخ، ایمان اور تجربہ، تینوں احتیاط کا درس دیتے ہیں۔ قرآنِ مجید واضح طور پر متنبہ کرتا ہے کہ یہود و نصاریٰ دوستی کے اس مفہوم میں دوست نہیں بن سکتے جس میں سرپرستی یا غیر مشروط وفاداری شامل ہو۔ تاہم نبی کریمؐ نے ان کے ساتھ برابری اور باہمی ذمہ داری کی بنیاد پر سفارتی اور ضروری معاہدات کیے۔ آپؐ نے مسلمانوں کے مفادات کا بھرپور تحفظ کیا، دوسروں کے ساتھ عدل سے پیش آئے، مگر ان کی نیتوں کے بارے میں کسی خوش فہمی میں مبتلا نہ ہوئے۔ حقیقت پسندی اور اصول پسندی کے اس امتزاج میں ریاستی حکمتِ عملی کے لیے ایک دائمی سبق مضمر ہے: سادہ لوحی کے بغیر تعاون، اور خودسپردگی کے بغیر روابط۔
حالیہ تاریخ اس حقیقت کی دردناک تصدیق کرتی ہے۔ جب امریکہ نے اچانک افغانستان سے انخلا کیا تو اس نے ہمسایہ ممالک، خصوصاً پاکستان، پر پڑنے والے اثرات کی چنداں پروا نہ کی۔ جدید فوجی سازوسامان کی بھاری مقدار، اسلحہ، نائٹ وژن آلات، جدید مواصلاتی نظام اور بھاری ہتھیار پیچھے رہ گئے۔ خطے میں استحکام کے بجائے یہ ہتھیار بلیک مارکیٹ میں پھیل گئے، جس سے شدت پسند گروہوں اور مجرمانہ نیٹ ورکس کو تقویت ملی۔ پاکستان، جو پہلے ہی داخلی سلامتی کے چیلنجز سے دوچار تھا، اس کی بھاری قیمت چکاتا رہا۔ سرحد پار دہشت گردی میں اضافہ ہوا، غیر مستحکم علاقوں میں اسلحہ بے روک ٹوک پہنچا، اور انتہا پسندی کے خلاف حاصل کردہ کامیابیاں کمزور پڑ گئیں۔ ایک بار پھر امریکہ نے مفادات بدلتے ہی رخصت اختیار کی اور نتائج سے نمٹنے کی ذمہ داری دوسروں پر چھوڑ دی۔یہ طرزِ عمل ایک اور پرانے واقعے کی بازگشت تھا، جس کا اعتراف برسوں بعد سابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے خود کیا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ سوویت یونین کے افغانستان سے انخلا کے بعد امریکہ نے محض کنارہ کشی اختیار کر لی، خطے اور پاکستان دونوں کو تنہا چھوڑ دیا۔ پاکستان کو صفِ اوّل کے اتحادی کے طور پر استعمال کرنے کے بعد واشنگٹن نے تعمیرِ نو یا استحکام میں مدد کیے بغیر تعلق توڑ لیا۔ نتیجتاً پیدا ہونے والے خلا نے افغانستان کو افراتفری میں دھکیل دیا، انتہا پسندی کو فروغ ملا اور ایسے نتائج سامنے آئے جنہوں نے پوری دنیا کو متاثر کیا۔ ہیلری کلنٹن نے اس ترکِ تعاون کو ایک سنگین غلطی قرار دیا، ایک ایسا اعتراف جس نے پاکستان کے دیرینہ تجربی کی توثیق کی کہ شراکت داریاں عموماً عارضی اور مفاداتی ہوتی ہیں، دائمی نہیں۔
موجودہ امریکی سیاست بھی اسی روش کی عکاس ہے۔ موجودہ امریکی صدر اپنے لہجے اور پالیسی میں تیز رفتار تبدیلیوں کے لیے جانے جاتے ہیں۔ دن میں دئیے گئے بیانات رات کو کیے گئے اقدامات سے متصادم نظر آتے ہیں۔ چین، ایران اور دیگر ممالک کے حوالے سے پالیسیاں فوری مفادات کے مطابق جھولتی رہتی ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے وہ بھارتی وزیر اعظم سے بظاہر نالاں دکھائی دئیے، مگر جیسے ہی اسٹریٹجک مفادات ہم آہنگ ہوئے، ناراضی عوامی گرم جوشی میں بدل گئی۔ عالمی سیاست میں محبت شاذ ہی ذاتی ہوتی ہے؛ وہ فائدے کی تابع ہوتی ہے۔
مئی 2025ء کے واقعات ایک سنجیدہ یاد دہانی ہیں۔ اس نازک مرحلے پر اللہ تعالیٰ کی مدد ہمارے شاملِ حال رہی اور ہماری عسکری قیادت چوکنا رہی۔ فضلِ الٰہی سے پاکستان سرخرو ہوا۔ اگر حالات مختلف ہوتے تو بعید نہیں کہ آج پاکستان کے بارے میں عالمی سفارتی رویہ بھی مختلف ہوتا۔ عالمی احترام توقعات یا اپیلوں سے نہیں، طاقت اور تیاری سے جنم لیتا ہے۔
سبق بالکل واضح ہے: پاکستان کو پاکستان کو ہی اول رکھنا ہوگا۔ ریاستوں کے تعلقات فطری طور پر اتار چڑھائو کا شکار رہتے ہیں اور جذبات کے بجائے مفادات سے تشکیل پاتے ہیں۔ اس میں کوئی اخلاقی قباحت نہیں؛ یہی عالمی سیاست کی حقیقت ہے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ پاکستان دوسروں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر روابط رکھتے ہوئے اپنی عزت، خودمختاری اور سالمیت کا تحفظ کرے۔
سب سے بڑھ کر، پاکستان کو یہ روش ترک کرنا ہوگی کہ وہ اپنی تمام امیدیں ایک ہی ٹوکری میں رکھ دے۔ کسی ایک طاقت پر حد سے زیادہ انحصار نے بارہا ہمارے اختیارات محدود کیے اور ہماری ڈپلومیسی کی پوزیشن کو کمزور کیا۔ حقیقت پسندی اور قومی اتفاقِ رائے پر مبنی متنوع خارجہ پالیسی موجودہ وقت کی ناگزیر ضرورت ہے۔ قومیں بالآخر اپنی امیدوں یا جذبات سے نہیں، بلکہ اپنے فیصلوں سے پہچانی جاتی ہیں، اور یہی فیصلے ان کے مستقبل کی سمت متعین کرتے ہیں۔





