CM RizwanColumn

تین جنگیں فرینڈلی ہو گئیں

جگائے گا کون؟
تین جنگیں فرینڈلی ہو گئیں
تحریر: سی ایم رضوان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی موجودہ صدارت سنبھالنے ہی یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ جنگیں ختم کرانے آئے ہیں۔ جب وہ صدر منتخب ہوئے تھے تو جس طرح کہ پاکستان میں پی ٹی آئی لوورز چاہتے تھے کہ ٹرمپ آتے ہی مقید بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی بات کریں گے۔ اگر ٹرمپ ایسا کرتے تو یقیناً بانی پی ٹی آئی ملک کی دیگر تمام سیاسی جماعتوں کے خلاف دما دم مست قلندر شروع کرتے اور پاکستان کے اندر ایک جنگ کا سماں بن جاتا۔ ٹرمپ نے ایسا نہ کر کے ایک جنگ تو یہ ٹال دی یعنی یہ تسلیم کرنا ہی پڑے گا کہ ٹرمپ کی اس عدم توجہی کا ہی ثمر ہے کہ پاکستان کی اس داخلی جنگ کے خدشات نے اب یوں دم توڑ دیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے حال ہی میں جو تازہ دم جنگجو سہیل آفریدی میدان میں اتارا گیا تھا وہ بھی اب متعدد جنگی حملوں میں ناکامی کے بعد وفاقی حکومت اور خیبر پختون خواہ حکومت کے در میان ورکنگ ریلیشن شپ کے لئے آمادہ ہو گیا ہے۔ گزشتہ روز وزیر اعظم شہباز شریف سے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی ملاقات کے موقع پر وزیراعظم نے بھی خیبر پختونخوا کے عوام کی ترقی و خوشحالی کے لئے وفاقی و صوبائی حکومتوں کے مابین تعاون کو ناگزیر قرار دیا جبکہ سہیل آفریدی نے بھی اس ضرورت کو کماحقہ پورا کرنے کی بات کر دی ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت انسدادِ دہشت گردی کے لئے وفاق سے مشاورت اور تعاون کرے گی۔ اس خوشگوار پیش رفت کی وجہ یہ ہے کہ اس ملاقات میں بانی پی ٹی آئی سے متعلق کوئی بات ہوئی نہ ہی بانی سے ملاقات کے حوالے سے کوئی مطالبہ سہیل آفریدی نے کیا۔ کیونکہ یہی ایک باعث نزع معاملہ ہے جس کو چھیڑا ہی نہیں گیا۔ البتہ آفریدی نے اپنی تھوڑی بہت سیاسی ساکھ کے لئے یہ ضرور کہا ہے کہ وزیراعظم سے ملاقات بطور وزیر اعلیٰ میرے عہدے کا تقاضا تھا، بطور سیاسی ورکر شاید میں نہ بیٹھتا۔ نیز یہ کہ دہشت گردی کے حوالے سے ایک دو باہمی ملاقاتیں مزید ہوں گی۔ یعنی وفاقی اور صوبائی حکومت دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے مشترکہ کاوشیں جاری رکھیں گی۔ ظاہر ہے آئندہ ملاقاتیں ہوں گی تو پھر باہمی گفتگو کی بعد سمجھوتے کا عمل بھی شروع ہو گا۔ یوں یہ ایک انقلابی جنگ فرینڈلی ہو گئی ہے۔ اس کا کریڈٹ بھی ظاہر ہے صدر ٹرمپ کی لاپرواہی کو ہی جاتا ہے۔ تایم وزیرِ اعظم نے کہا کہ کے پی کے کی صوبائی حکومت با اختیار ہے، صحت و تعلیم کے لئے خیبر پختون خوا میں اقدامات کئے جائیں اور ترقیاتی منصوبوں، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع بڑھانے کیلئے وفاقی دائرہ کار کے مطابق یقینی تعاون ہو گا۔
جہاں تک پی ٹی آئی کے دہشت گردی سے متعلق ریاستی پالیسی سے متضاد اور متصادم بیانات کا تعلق ہے تو اس حوالے سے بھی اب مثبت نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پی ٹی آئی نے بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں کے بعد سکیورٹی فورسز کے خلاف ٹرولنگ اور توہین آمیز مہم میں ملوث افراد اور سوشل میڈیا اکانٹس سے واضح اور دو ٹوک انداز میں لاتعلقی کا اعلان کر دیا ہے۔ پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس معاملے پر پارٹی میں کسی ابہام کی تردید کی ہے اور دہشت گردی سے متعلق واقعات میں سکیورٹی فورسز کے شہداء پر تنقید کرنے والوں سے واضح طور پر لاتعلقی اختیار کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف پی ٹی آئی کا موقف مضبوط اور غیر مبہم ہے اور کسی بھی صورت میں سکیورٹی اداروں پر حملے ناقابلِ قبول ہیں۔ شیخ وقاص اکرم کے مطابق اس معاملے پر پارٹی کی سیاسی کمیٹی کی سطح پر بھی غور کیا گیا، جہاں یہ بات واضح طور پر کہی گئی کہ جو کوئی بھی پی ٹی آئی کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کمزور کرنے والے بیانیے سے جوڑنے یا شہداء اور سکیورٹی فورسز پر تنقید و تضحیک کی کوشش کرے، اس سے واضح لاتعلقی اختیار کی جائے۔ دہشت گردی اور قومی سلامتی پر پارٹی کا موقف طے شدہ ہے اور اس میں کوئی گنجائش نہیں۔ شیخ وقاص اکرم نے مزید کہا کہ عمران خان کی پالیسی کے مطابق فوج ان کی اپنی اور پاکستان اور اس کے وجود کیلئے بیحد اہم ہے۔ تاہم، پارٹی ذرائع کے مطابق اس باضابطہ موقف کے باوجود پی ٹی آئی کی قیادت کو اپنے ہی سوشل میڈیا ٹرولز سے بڑھتا ہوا خطرہ محسوس ہو رہا ہے لیکن اگر پارٹی قیادت واضح اور پختہ رویہ اپنائے گی تو نتیجتاً پی ٹی آئی ٹرولز تنہا ہو کر موجودہ روش کو بالآخر ترک کر دیں گے۔ ذرائع کے مطابق، پی ٹی آئی کے سینئر رہنمائوں کو ڈر ہے کہ فوج مخالف تنقید میں ملوث پی ٹی آئی سے منسلک سوشل میڈیا اکائونٹس کے خلاف اگر سخت یا واضح کارروائی کی گئی تو اس کے نتیجے میں منظم ردِعمل اور خود قیادت کے خلاف ذاتی نوعیت کی تنقید شروع ہو سکتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قیادت اس بات پر بھی فکر مند ہے کہ پارٹی سے وابستہ بااثر ڈیجیٹل آوازیں براہِ راست ٹکرائو کی صورت میں مخالف بھی بن سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں ہراسانی کی مہمات اور اندرونی سیاسی دبا پیدا ہو سکتا ہے۔ بہرحال یہ طے ہے کہ دہشت گردی کے حوالے سے پی ٹی آئی کا موقف بدستور واضح اور قومی اتفاقِ رائے کے مطابق ہے۔ قیادت کا خیال ہے کہ دہشتگردی پر دو آراء نہیں ہو سکتیں اور سیاسی جماعتیں، حکومت اور ریاستی ادارے عسکریت پسندی کے خلاف مشترکہ موقف کے حامل ہیں۔ ذرائع کے مطابق، فوجی جوانوں، افسران اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کو پارٹی ملکی بقا کیلئے ناگزیر تسلیم کرتی ہے، اور ان قربانیوں کا مذاق اُڑانے یا کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کو ناقابلِ قبول اور نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم، پارٹی کا جو سوشل میڈیا بیرونِ ملک سی چلایا جاتا ہے وہ پارٹی کے چیئرمین، سیکرٹری اطلاعات یا حتیٰ کہ سیاسی کمیٹی کے کنٹرول میں بھی نہیں ہے۔ جس کا تدارک اگر پی ٹی آئی قیادت نہ کر سکی تو سکیورٹی ادارے تو اپنے طور پر آپریشن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ روس یوکرین جنگ کے خاتمے کے لئے ٹرمپ نے روس کو کمزور کرنے کی پالیسی پر عملدرآمد شروع کر رکھا ہے اس سلسلے میں وہ ایک طرف امریکہ کے مالی فائدے کا بندوبست کر رہے ہیں تو دوسری طرف وہ روس کو کاروباری حوالے سے خاص طور پر تیل کے معاملے میں کمزور کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے تحت ہدف یہ حاصل کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دبا پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے روسی تیل نہ خریدنے کی یقین دہانی کرا دی ہے، جس کے جواب میں ٹرمپ نے بھارتی مصنوعات پر ٹیرف 25فیصد سے کم کر کے 18فیصد کر دیا ہے جبکہ مودی نے اربوں ڈالرز کی امریکی مصنوعات خریدنے کی بھی یقین دہانی کرا دی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے پیر کی صبح بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں کئی اہم معاملات بشمول تجارت اور یوکرین میں جاری جنگ کے خاتمے پر تبادلہ خیال ہوا۔ امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیراعظم مودی کی درخواست پر ہم نے فوری طور پر امریکا اور بھارت کے درمیان ایک تجارتی معاہدے پر اتفاق کیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
اب بھارت نے روسی تیل کی خریداری روکنے اور امریکا اور وینیزویلا سے تیل کی خریداری میں اضافے پر بھی اتفاق کیا ہے جبکہ بھارت بھی امریکی مصنوعات پر لگنے والے ٹیرف اور غیر ٹیرف رکاوٹوں کو صفر تک لانے کی جانب بڑھنے پر تیار ہے۔ بھارت اگلے مرحلے میں امریکی مصنوعات کی خریداری میں اضافہ بھی کرے گا، جس میں 500بلین ڈالر سے زائد کی توانائی، ٹیکنالوجی، زرعی اور دیگر اشیا شامل ہیں۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا روسی توانائی مصنوعات خریدنے والے ممالک پر دبائو بڑھا رہا ہے اور عالمی سطح پر توانائی و تجارت کے توازن میں تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔ یاد رہے کہ امریکا نے گزشتہ سال بھارت پر روسی تیل کی خریداری کے سلسلے میں اضافی ٹیرف عائد کیے تھے، جن کی شرح مجموعی طور پر 50فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ ماہرین کے مطابق اس مجوزہ تجارتی معاہدے سے امریکا اور بھارت کے اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط ہو سکتے ہیں تاہم اس پر حتمی عملدرآمد کی تفصیلات اور ٹائم لائن کا اعلان تاحال نہیں کیا گیا۔ نئی دہلی کی جانب سے ابھی تک اس بیان پر باضابطہ ردعمل بھی سامنے نہیں آیا جبکہ تجارتی اور توانائی تعلقات میں اس معاہدے کے ممکنہ اثرات پر تبادلہ خیال جاری ہے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر بھارت روس سے تیل خریدنا بند کر دے گا تو روس کی مالی کمزوری روس یوکرین جنگ کی تباہی میں کمی کا باعث ہو گی۔
ایران امریکہ کشیدگی یا جنگ کے فرینڈلی ہونے کی نوید یوں ہے کہ امریکی اور ایرانی حکام نے مئی 2023ء سے تعطل کا شکار امریکا، ایران جوہری مذاکرات جمعے کو ترکی میں دوبارہ شروع ہونے کی تصدیق کر دی ہے اور امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی ملاقات استنبول میں ہو گی۔ اس ملاقات میں سعودی عرب، یو اے ای، قطر، مصر اور دیگر ممالک بھی شریک ہوں گے۔ ایران امریکا دو طرفہ ملاقات کے علاوہ سہ فریقی اور دیگر ملاقاتیں بھی ہوں گی۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ سفارت کاری جاری ہے، ایران یورینئم افزودگی پر لچک دکھانے کے لئے تیار ہے، بدلے میں ایران چاہتا ہے کہ امریکی فوجی اثاثوں کو ایران سے دور منتقل کیا جائے۔ ایران کے مطابق بال اب امریکی صدر ٹرمپ کے کورٹ میں ہے۔ یاد رہے کہ امریکی صدر نے بھی دو روز قبل کہا تھا کہ ایران کے ساتھ مزید بات چیت کا ارادہ ہے، پہلے بھی ایران سے بات چیت ہو چکی ہے اور آئندہ بھی ہو گی۔ ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر علی لاریجانی نے بھی کہا تھا کہ جنگی فضا کے بر خلاف امریکا کے ساتھ بات چیت کے فریم ورک پر کام ہو رہا ہے۔
گو کہ ٹرمپ اپنی روایتی یاوا گوئی جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ ڈیل طے نہ ہوئی تو ایران کے لئے برے نتائج ہوں گے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق، ایک طرف فوجی تیاری جاری ہے جبکہ دوسری جانب ایران کے ساتھ مذاکرات بھی ہو رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایران کے ساتھ وہ جنگ کرنے کی پوزیشن میں پی نہیں ہے۔ ایران بھی امریکہ کی اس پوزیشن سے بخوبی واقف ہے تبھی تو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا اس حوالے سے بیان ہے کہ ایران باہمی احترام کی بنیاد پر امریکا سے مذاکرات کے لئے تیار ہے، تاہم دھمکیوں اور دبا کو قبول نہیں کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ احترام کا جواب احترام سے دیا جائے گا اور دھمکیوں کا جواب اسی زبان میں دیا جائے گا۔ ایرانی حکام کے مطابق وہ یورینیم افزودگی کے معاملے میں کچھ لچک دکھانے کے لئے تیار ہیں، لیکن اس کے بدلے میں ایران چاہتا ہے کہ امریکی جنگی جہاز اور دیگر فوجی اثاثے ایران سے دور ہٹائے جائیں۔ دوسری جانب ایران کی جانب بڑا بحری بیڑا بھی گامزن ہے، جو اس خطے میں کشیدگی کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ امریکا معاملات کو پرامن اور سفارتی حل کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں ہے، لیکن اگر تنازع طی نہ ہوا تو نتائج نہایت سنگین ہوں گے۔ بعض مبصرین کا خیال ہے کہ امریکہ ایران کے صدر کے ساتھ ڈیل کر چکا ہے اور یہ جنگ ایک فرینڈلی جنگ ہے۔

جواب دیں

Back to top button