Column

یقین: قرآن، نبویؐ اور علوی نقطہ نگاہ سے

یقین: قرآن، نبویؐ اور علوی نقطہ نگاہ سے
شہر خواب ۔۔۔۔
صفدر علی حیدری۔۔۔
انسانی زندگی کی بنیاد محض سانسوں کے تسلسل پر نہیں، بلکہ ان نظریات اور عقائد پر ہے جو اسے جینے کا حوصلہ عطا کرتے ہیں۔ ان عقائد کی معراج ’’ یقین‘‘ ہے ۔
یقین وہ نورِ باطن ہے جو عقل کی بے چینی کو سکون میں بدل دیتا ہے اور روح کو وہ ثبات عطا کرتا ہے کہ کائنات کے بڑے سے بڑے طوفان بھی اسے لرزہ براندام نہیں کر سکتے ۔ اسلامی فکر میں یقین محض ایک ذہنی کیفیت کا نام نہیں، بلکہ یہ وہ منزل ہے جہاں علم، مشاہدہ اور ادراک مل کر ایک ایسی حقیقت بن جاتے ہیں جسے جھٹلانا ناممکن ہو جاتا ہے ۔ یہ وہ روحانی طاقت ہے جو بندے کو اس کے خالق سے اس طرح جوڑ دیتی ہے کہ مادی دنیا کے حجابات اس کے لیے بے معنی ہو کر رہ جاتے ہیں۔
کتاب ہدایت نے یقین کو انسانی شعور کی ارتقائی منازل کے طور پر پیش کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں ایمان کا تذکرہ کیا، وہاں اس کے ثمرے کے طور پر ’’ اطمینانِ قلب‘‘ کی نوید سنائی۔ قرآن مجید میں یقین کے تین بڑے درجات بیان کیے گئے ہیں جو انسانی فہم و ادراک کے سفر کو واضح کرتے ہیں:
علم الیقین: یہ وہ مرحلہ ہے جہاں انسان دلائل، منطق اور عقل کے ذریعے کسی حقیقت تک پہنچتا ہے۔ یہ وہ علم ہے جو سنی سنائی باتوں یا مستند ذرائع سے حاصل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، ہم نے آگ کو دیکھا نہیں لیکن دھوئیں کو دیکھ کر یہ جان لینا کہ آگ موجود ہے، علم الیقین ہے۔
عین الیقین: یہ مشاہدے کی منزل ہے۔ جب انسان اپنی بصارت کے ذریعے حقیقت کا ادراک کرتا ہے تو شک کی گنجائش مزید کم ہو جاتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں عقل کے ساتھ ساتھ حواسِ خمسہ بھی گواہی دیتے ہیں۔
حق الیقین: یہ یقین کی آخری اور کامل ترین منزل ہے۔ یہاں علم اور مشاہدہ مل کر ایک ہو جاتے ہیں اور انسان حقیقت کا جزو بن جاتا ہے۔ جیسے آگ کے بارے میں علم رکھنا ( علم الیقین)، اسے دیکھنا ( عین الیقین) اور اس میں ہاتھ ڈال کر اس کی تپش محسوس کرنا ( حق الیقین) ہے۔
’’ وہ لوگ جو ایمان لائے، ان کے دل اللہ کے ذکر سے سکون پاتے ہیں۔ یقیناً دلوں کا سکون اللہ کے ذکر سے ہی ہوتا ہے‘‘۔
یہاں ’’ اطمینان‘‘ دراصل یقین کی وہ حالت ہے جہاں دل تمام اضطراب سے پاک ہو کر رب کی رضا میں گم ہو جاتا ہے۔ یقین کے فلسفے کو سمجھنے کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ ایک کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔
قرآن میں بیان ہے کہ جب ابراہیمٌ نے بارگاہِ الٰہی میں عرض کی ’’ اے میرے رب! مجھے دکھا کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے؟‘‘، تو پوچھا گیا ’’ کیا تجھے یقین نہیں؟‘‘، ابراہیمٌ نے جواب دیا: ’’ کیوں نہیں! یقین تو ہے لیکن میں اپنے دل کا اطمینان چاہتا ہوں‘‘۔
یہ مکالمہ انسانی نفسیات کی ایک عظیم حقیقت کو وا کرتا ہے۔ علم الیقین ( اللہ کی قدرت پر ایمان) تو ابراہیمٌ کو حاصل تھا، لیکن وہ ’’ عین الیقین‘‘ کے طلبگار تھے تاکہ ان کا قلب مشاہدے کی لذت سے ہم کنار ہو سکے۔ پرندوں کا ذبح ہونا، ان کا پہاڑوں پر بکھرنا اور پھر پکارنے پر زندہ ہو کر اڑتے ہوئے آنا، دراصل ابراہیمٌ کے قلب کو اس مقامِ سکونت پر فائز کرنا تھا جہاں پھر کسی معجزے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
حضور نبی اکرمؐ کی پوری زندگی یقینِ کامل کی عملی تفسیر ہے ۔ آپؐ نے صحابہ کرامؓ کی ایسی تربیت فرمائی کہ ان کے نزدیک دیکھی ہوئی دنیا سے زیادہ ان دیکھے رب کے وعدے سچے ہو گئے ۔ نبویؐ فکر میں یقین ’’ خوف‘‘ اور ’’ حزن‘‘ کا تریاق ہے ۔
نبی کریم ٔ کا ارشاد ہے: ’’ ایمان کا بہترین حصہ یقین ہے‘‘۔
آپؐ نے سکھایا کہ جب تک دل میں اللہ پر یقینِ کامل نہ ہو، تب تک عبادات میں وہ روح پیدا نہیں ہو سکتی جسے ’’ احسان‘‘ کہا جاتا ہے ۔ نماز میں اللہ کو اس طرح دیکھنا جیسے وہ آپ کو دیکھ رہا ہے، یا آپ اسے دیکھ رہے ہیں، دراصل یقین کی وہ معراج ہے جو انسان کو گناہوں سے پاک کر دیتی ہے۔ نبویؐ زندگی کے کٹھن ترین لمحات، چاہے وہ غارِ ثور کی تنہائی ہو یا میدانِ بدر کی بے سرو سامانی، ہر جگہ ’’ غم نہ کر، اللہ ہمارے ساتھ ہے ‘‘ کا نعرہ اسی یقین کا غماز ہے جو مادی اسباب سے بالاتر ہوتا ہے۔
یقین کے باب میں جو مقام امیر المومنین حضرت علیؓ کو حاصل ہے ، وہ رہتی دنیا تک ایک معیار رہے گا۔ آپؓ کا وہ عظیم الشان قول جو علم و عرفان کا نچوڑ ہے: ’’ اگر غیب کے تمام پردے ہٹا بھی دئیے جائیں، تب بھی میرے یقین میں ذرہ برابر اضافہ نہ ہو گا‘‘۔
یہ قول محض الفاظ نہیں بلکہ انسانی روح کی اس بلندی کا اعلان ہے جہاں پہنچ کر غیب کی خبریں، مشاہدے کی حقیقت بن جاتی ہیں۔ علوی نکتہ نظر میں یقین وہ آنکھ ہے جو باطن میں کھلتی ہے۔ آپ کے نزدیک یقین کا تعلق آنکھ کے دیکھنے سے زیادہ روح کے جاگنے سے ہے۔ جب روح بیدار ہو جاتی ہے تو اسے کائنات کے ہر ذرے میں خالق کی قدرت نظر آتی ہے۔
حضرت علیؓ کی زندگی میں زہد، شجاعت اور عدل و انصاف کی بنیاد یہی یقین تھا۔ آپؓکا یہ یقین کہ ’’ موت زندگی کی محافظ ہے‘‘، آپ کو میدانِ جنگ میں اس طرح نڈر بنا دیتا تھا کہ آپؓ صفوں کی صفیں الٹ دیتے تھے۔ یہ یقین ہی تھا کہ جس نے آپؓ کو فقر میں وہ سلطنت عطا کی کہ دنیا کے بادشاہ آپؓ کے در کے سوالی ٹھہرے۔
نفس کا اطمینان اور یقین کے اثرات
یقین جب انسان کے نفس میں سرایت کر جاتا ہے تو اس کے اثرات شخصیت کے ہر پہلو پر نمایاں ہوتے ہیں۔
صاحبِ یقین انسان کبھی غیر اللہ سے نہیں ڈرتا، کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ نفع اور نقصان کا مالک صرف اللہ ہے۔ آزمائش کی گھڑی میں جب عام انسان ہمت ہار جاتا ہے، صاحبِ یقین ’’ حق الیقین‘‘ کے سہارے چٹان کی طرح ڈٹا رہتا ہے۔
یقین وہ روشنی ہے جو جہالت کے اندھیروں کو مٹا دیتی ہے۔ شک، اگر حد سے بڑھے، علم کے لیے زہر بن جاتا ہے خلاصہ یہ کہ یقین انسانی زندگی کا وہ جوہر ہے جس کے بغیر مذہب محض رسومات کا مجموعہ اور فلسفہ محض لفظوں کی بازیگری رہ جاتا ہے۔ قرآن ہمیں منزل دکھاتا ہے، نبیؐ کا اسوہ ہمیں اس منزل تک پہنچنے کا راستہ دیتا ہے اور علوی بصیرت ہمیں اس منزل کی آخری حدود سے روشناس کراتی ہے۔
سفرِ زندگی میں جب انسان ’’ علم الیقین‘‘ سے شروع ہو کر ’’ حق الیقین‘‘ تک پہنچتا ہے، تو وہ مقامِ بندگی پر فائز ہو جاتا ہے جہاں اسے کائنات کی ہر شے ہیچ نظر آتی ہے اور صرف ایک ذاتِ حق کی کبریائی کا نقش اس کے دل پر ثبت رہ جاتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کا نفس ’’ مطمئنہ‘‘ کہلاتا ہے اور وہ اپنے رب سے اور اس کا رب اس سے راضی ہو جاتا ہے۔
’’ اے اطمینان والی جان ، اپنے رب کی طرف اس حال میں واپس آ کہ تو اس سے راضی ہو وہ تجھ سے راضی ہو، پھر میرے بندوں میں شامل ہو جا اور میری جنت میں داخل ہو جا ‘‘۔

جواب دیں

Back to top button