Column

وزیراعظم سے وزیراعلیٰ کے پی کی ملاقات

اداریہ۔۔
وزیراعظم سے وزیراعلیٰ کے پی کی ملاقات
وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے درمیان ملاقات نے صوبے اور وفاق کے درمیان تعلقات کو مضبوط کرنے اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ حکمت عملی کو اجاگر کیا ہے۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماں نے امن و امان، ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبوں میں تعاون کو مرکزی حیثیت دی، جو نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کی خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ ملاقات وزیراعظم آفس میں ہوئی، جس میں خیبر پختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم، وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر امیر مقام اور رانا ثناء اللہ بھی موجود تھے۔ اس اجلاس نے صوبے میں امن و امان کے قیام، انسداد دہشت گردی اور عوامی فلاح کے لیے وفاق اور صوبے کے اشتراک کو واضح طور پر اجاگر کیا۔ اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ صوبائی حکومت انسداد دہشت گردی کے لیے اپنے اداروں کو مضبوط کرے تاکہ عوام کی زندگیوں کو تحفظ فراہم کیا جاسکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خیبر پختونخوا وفاق کی ایک اہم اکائی ہے اور اس کی خوش حالی ملک کی مجموعی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ وزیراعظم نے صوبائی حکومت کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ قیام امن کے لیے مزید اقدامات ضروری ہیں، تاکہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خطرات کا موثر مقابلہ کیا جاسکے۔ اس ملاقات میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بھی صوبے میں عوامی فلاح و بہبود کے لیے کی جانے والی کوششوں کی تفصیل پیش کی اور وفاق سے تعاون کی اپیل کی۔ صوبے کی حکومت نے صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر خاص توجہ دی ہے تاکہ شہریوں کو بہتر سہولتیں فراہم کی جاسکیں۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں امن و ترقی کی کوششوں کے لیے وفاقی حکومت کی حمایت بہت اہم ہے اور وہ اس تعاون کو مزید مستحکم بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ وفاقی حکومت صوبے میں ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے بھرپور تعاون کرے گی۔ یہ اقدام اس بات کا مظہر ہے کہ وفاق اور صوبے کے درمیان اشتراک اور مشاورت کے ذریعے قومی یکجہتی اور خوشحالی کے اہداف حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ وفاق تمام صوبوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے اور یکساں ترقی کے وژن پر عمل پیرا ہے تاکہ ہر صوبے کے عوام یکساں فوائد حاصل کر سکیں۔ اس ملاقات کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ دونوں فریقین نے امن و امان کو سب سے زیادہ ترجیح دی۔ خیبر پختونخوا کئی دہائیوں سے دہشت گردی، قبائلی کشیدگی اور دیگر سماجی مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون نہ صرف ضروری ہے بلکہ ایک طویل المدتی حل کے لیے لازمی بھی ہے۔ انسداد دہشت گردی کے لیے صوبائی اداروں کو مضبوط کرنا اور وفاق کی معاونت حاصل کرنا اس بات کی ضمانت ہے کہ صوبے کے عوام محفوظ اور پُرامن زندگی گزار سکیں۔ تعلیم اور صحت کے شعبوں میں تعاون کی یقین دہانی بھی خوش آئند ہے۔ خیبر پختونخوا میں تعلیمی معیار کو بہتر بنانا اور صحت کی سہولتوں کو عام شہری تک پہنچانا ایک چیلنج رہا ہے۔ وزیراعظم کی جانب سے صوبے کے تعلیمی اداروں اور صحت کے نظام کو مضبوط بنانے کی یقین دہانی اس بات کا اشارہ ہے کہ وفاق عوام کی فلاح و بہبود میں فعال کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ اقدامات نہ صرف صوبے کی مجموعی ترقی میں مدد دیں گے بلکہ ملک میں انسانی ترقی کے اشاریوں کو بھی بہتر بنائیں گے۔ روزگار کے مواقع بڑھانے کا تذکرہ بھی اہمیت رکھتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں نوجوانوں کی اکثریت بے روزگاری اور محدود مواقع کا سامنا کر رہی ہے۔ وفاق اور صوبے کے مشترکہ منصوبے نوجوانوں کے لیے نئی راہیں کھول سکتے ہیں اور انہیں ملکی ترقی میں حصہ لینے کا موقع فراہم کر سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف معیشت مضبوط ہوگی بلکہ سماجی استحکام بھی قائم رہے گا۔ اس ملاقات کا ایک اور پہلو وفاق اور صوبے کے درمیان شفافیت اور مشاورت کو فروغ دینا ہے۔ اعلان شدہ تعاون کی یقین دہانی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ حکومتیں مشترکہ فیصلے کرنے اور قومی ترقی کے لیے ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کے لیے پُرعزم ہیں۔ اشتراک کی یہ فضا نہ صرف پالیسی سازی میں بہتری لائے گی بلکہ عوامی اعتماد میں بھی اضافہ کرے گی۔ آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ملاقات ایک مثبت قدم ہے جس نے وفاق اور خیبر پختونخوا کے تعلقات کو مضبوط کیا اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے واضح حکمت عملی وضع کی۔ امن، ترقی، تعلیم، صحت اور روزگار کے شعبوں میں تعاون کے یہ وعدے اس بات کی ضمانت ہیں کہ صوبے کے عوام بہتر زندگی گزار سکیں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی یہ ملاقات اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان میں وفاق اور صوبوں کے درمیان اشتراک اور تعاون کے ذریعے مسائل کا حل ممکن ہے اور ملک کی ترقی میں ہر شہری کی بھلائی کو ترجیح دی جاسکتی ہے۔ یہ اجلاس اس لیے بھی تاریخی اہمیت رکھتا ہے کہ اس میں وفاق اور صوبے کے درمیان ایک مضبوط تعلق کی مثال قائم ہوئی۔ عوام کو چاہیے کہ وہ اس تعاون کی قدر کریں اور حکومتوں کی کوششوں کو مثبت انداز میں سپورٹ کریں تاکہ خیبر پختونخوا اور ملک کے دیگر حصوں میں خوشحالی اور امن قائم رہی۔
شذرہ۔۔
میری ٹائم سیکیورٹی مشق سی گارڈ کا آغاز
پاک بحریہ کے زیرِ اہتمام مشق سی گارڈ 2026کی افتتاحی تقریب کراچی میں منعقد ہوئی، جس میں کمانڈر کوسٹ، وائس ایڈمرل فیصل امین نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ یہ مشق اس سلسلے کی تیسری مشق ہے اور 2تا 9فروری تک جاری رہے گی۔ سی گارڈ 2026پاک بحریہ کی قومی سطح پر کی جانے والی ایک اہم کوشش ہے جس کا مقصد سمندر میں درپیش مختلف نوعیت کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مختلف اسٹیک ہولڈرز کو یکجا کرنا ہے۔ اس مشق میں بحری شعبے سے وابستہ مختلف ادارے شامل ہیں، جن میں شپنگ، ماہی گیری، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور نجی شعبے کی نمائندہ تنظیمیں شامل ہیں۔ اس جامع مشق کا بنیادی مقصد نہ صرف عملی صلاحیتوں کو جانچنا بلکہ اداروں کے درمیان رابطہ کاری، ہم آہنگی اور مشترکہ حکمت عملی کو مضبوط بنانا بھی ہے۔ وائس ایڈمرل فیصل امین نے افتتاحی تقریب میں تمام اسٹیک ہولڈرز کی شرکت اور ان کی کاوشوں کو قابلِ تحسین قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ اس قسم کی مشقیں ملکی دفاع اور سمندری سیکورٹی کے لیے ناگزیر ہیں۔ افتتاحی بریف میں پاک بحریہ کے افسران کے علاوہ سرکاری اداروں کی قیادت، نجی شعبے کی نمایاں شخصیات اور ماہی گیری کے شعبے سے وابستہ نمائندگان نے بھی شرکت کی۔ اس جامع اجلاس نے مشق کے اہداف کو واضح کیا اور یہ پیغام دیا کہ ملکی مفاد میں اداروں کے درمیان تعاون اور اشتراکِ کار کی کتنی اہمیت ہے۔ سی گارڈ 2026نہ صرف فوجی تربیت کی مشق ہے بلکہ یہ ایک ایسا پلیٹ فارم بھی فراہم کرتی ہے جس کے ذریعے قومی اور نجی سطح کے ادارے سمندر میں عملی چیلنجز کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ مشق کے دوران مختلف عملی سرگرمیاں منعقد کی جائیں گی، جن میں سمندری نگرانی، سرچ اینڈ ریسکیو آپریشنز، ماہی گیری کے مسائل سے نمٹنا اور شپنگ سیکیورٹی کے اقدامات شامل ہیں۔ یہ سرگرمیاں نہ صرف بحری استعداد کو بڑھائیں گی، بلکہ سمندری خطرات سے نمٹنے میں بین الادارتی ہم آہنگی کو بھی فروغ دیں گی۔ اس طرح کے اقدامات پاکستان کی سمندری حدود کی حفاظت، قومی مفادات کے تحفظ اور ساحلی علاقوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سی گارڈ 2026سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ پاک بحریہ صرف دفاع تک محدود نہیں بلکہ یہ بحری تجارت، ماہی گیری، ماحولیاتی تحفظ اور قومی معیشت کے دیگر پہلوں میں بھی فعال کردار ادا کررہی ہے۔ اس مشق کے ذریعے اداروں کے درمیان رابطے مضبوط ہوں گے، خطرات کے ردِعمل کی صلاحیت بڑھے گی اور سمندر سے وابستہ شعبوں میں قومی سطح پر ہم آہنگی فروغ پائے گی۔ مجموعی طور پر سی گارڈ 2026ایک جامع قومی کاوش ہے جو پاکستان کی سمندری سیکئورٹی، دفاع اور ترقی کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ یہ مشق یہ پیغام دیتی ہے کہ قومی مفاد میں اداروں کے اشتراک اور عملی تعاون سے ہی حقیقی مضبوطی حاصل کی جا سکتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button