شبِ برات: یادوں کے چراغ اور مغفرت کی خوشبو
شبِ برات: یادوں کے چراغ اور مغفرت کی خوشبو
شہر خواب ۔۔۔
صفدر علی حیدری۔۔۔
ہماری زندگی کے تقویم میں کچھ ایام ایسے ہوتے ہیں جن کی خوشبو وقت کی گرد کے باوجود مدھم نہیں ہوتی ۔ بچپن کے وہ دن جب شعور ابھی کچا تھا، ہم شبِ برات کو محض ایک مذہبی رات نہیں بلکہ اپنی مخصوص اصطلاح میں "ٹھاکے پھٹاکے والی عید” کہا کرتے تھے۔
سارا سال اس ایک رات کا انتظار رہتا تھا، جب گلیوں کی خاموشی روشنیوں کے شور میں بدل جاتی تھی۔ وہ منظر آج بھی آنکھوں میں رقصاں ہے جب ہر طرف چھوٹے بڑے پٹاخے جل رہے ہوتے، زمین پر گھومتی رنگ برنگی شوشنیاں ( چرخیاں) ستاروں کی مانند چمکتی تھیں اور کاغذ کے بنے جہاز فضائے آسمانی میں بلند ہو کر ہماری خوشیوں کی ترجمانی کرتے تھے۔
وہ شور و ہنگامہ، بچوں کا ایک دوسرے کو للکارنا اور گلیوں میں دوڑنا محض لہو و لعب نہیں تھا، بلکہ وہ ایک خاص قسم کی معصوم خوشی کی علامت تھی۔ ہر پٹاخے کی گونج جیسے ہمارے ننھے دلوں کی مسرت اور بے فکری کا عکاس ہوتی تھی۔ کبھی محلے کے کسی دور افتادہ آنگن سے پٹاخے کی آواز آتی تو ہم اسے ایک چیلنج سمجھ کر جواب دیتے؛ کہیں سے روشنی کا فوارہ بلند ہوتا تو ہمارا دل خوشی سے لبریز ہو جاتا۔ یہ تجربہ صرف کھیل کود کا نہ تھا، بلکہ یہ روشنی سے محبت کا وہ پہلا سبق تھا جو لاشعوری طور پر ہمیں روحانی خوشی کی طرف مائل کر رہا تھا۔ یہی بچپن کی یادیں آج اس عمر میں ہمیں سکھاتی ہیں کہ جس طرح اس وقت ہم مادی روشنی کے پیچھے بھاگتے تھے، اب ہمیں اپنے باطن کی روشنی اور عبادت کے سکون کی جستجو کرنی چاہیے۔
بعد میں جب بڑے ہوئے تو پتہ چلا کہ "شبِ برات” کے معنی چھٹکارے، آزادی یا برائت کی رات” کے ہیں۔ یہ وہ مبارک ساعتیں ہیں جب ربِ کائنات کی رحمت جوش میں آتی ہے اور وہ اپنے بندوں کو معصیت کے بوجھ سے سبکدوش کر کے اپنی رضا کا پروانہ عطا فرماتا ہے۔ لفظ "برات” کا مادہ ہی بری ہونے، نجات پانے اور الگ ہونے کے معنی رکھتا ہے۔
اس رات کو یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضلِ خاص سے بے شمار انسانوں کو جہنم کی آگ سے خلاصی عطا کرتا ہے۔ یہ رات محض ایک تقویم کا حصہ نہیں، بلکہ یہ انسان کو دعوت دیتی ہے کہ وہ اپنے گزشتہ اعمال پر تنقیدی نظر ڈالے، اپنے دل کے آئینے سے گناہوں کے زنگ کو کھرچے اور ایک نئے پاکیزہ ارادے کے ساتھ زندگی کے سفر کا آغاز کرے۔ یہ برائت دراصل نفس کی غلامی سے آزادی کا نام ہے۔
شبِ برات کی اہمیت اسلامی معاشرت اور روحانیت میں مسلم ہے۔ اس رات کی عظمت کو درج ذیل پہلوئوں سے سمجھا جا سکتا ہے:
یہ توبہ و استغفار کی وہ گھڑی ہے جب ندامت کا ایک آنسو زندگی بھر کے سیاہ نامہ اعمال کو دھونے کے لیے کافی ہوتا ہے۔
روایات میں آتا ہے کہ اس رات آئندہ سال کے لیے رزق، زندگی، موت اور دیگر اہم امور کی تقسیم کی جاتی ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب بندہ دعا کے ذریعے اپنی تقدیر کے فیصلے رب کی رحمت سے بدلوا سکتا ہے۔
یہ رات انسان کو اپنے خالق سے ٹوٹے ہوئے تعلق کو دوبارہ استوار کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
رات بھر کی عبادات، ذکر و اذکار اور گریہ و زاری بندے کے روحانی وجود کو جلا بخشتی ہے اور اسے سال بھر کی روحانی توانائی فراہم کرتی ہے۔
اعمالِ صالحہ: روح کی بالیدگی کا ذریعہ
اس رات کے مخصوص اعمال دراصل وہ سیڑھیاں ہیں جو بندے کو عرشِ الٰہی تک لے جاتی ہیں۔ قیام اللیل، تلاوتِ کلامِ پاک اور نوافل کی کثرت سے روح میں ایک عجیب تازگی محسوس ہوتی ہے۔ قرآن کی آیات جب خاموش رات کے پہر میں تلاوت کی جاتی ہیں تو وہ دل کے بند دروازوں پر دستک دیتی ہیں۔
اسی طرح استغفار اور توبہ محض الفاظ کی ادائیگی نہیں، بلکہ یہ اپنے رب سے کی گئی وہ گفتگو ہے جس میں بندہ اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتا ہے۔ صدقہ و خیرات کے ذریعے معاشرے کے پسماندہ طبقات کو اپنی خوشیوں میں شامل کرنا اس رات کا وہ سماجی پہلو ہے جو ہمیں ایثار و قربانی کا درس دیتا ہے۔ دعا اور مناجات اس رات کا جوہر ہیں، جہاں بندہ اپنی اور پوری امتِ مسلمہ کی بھلائی کے لیے دستِ سوال دراز کرتا ہے۔
موجودہ دور میں ایک عجیب صورتحال پیدا ہو گئی ہے جہاں عبادات کے شوق کو بھی تنقید کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ شبِ برات کے مخصوص رسوم یا اضافی عبادات کو "بدعت” کی چھتری تلے لا کر ان کی نفی کرتے ہیں۔ یہاں ہمیں ایک بہت اہم منطقی اور روحانی فرق سمجھنے کی ضرورت ہے۔ بدعت وہ ہے جو دین کی اصل روح کے خلاف ہو، لیکن وہ عمل جو بندہ محض اللہ کی محبت اور ثواب کی نیت سے کر رہا ہے، اسے رد کرنا کسی طرح درست نہیں۔
کسی کی نیت پر شک کرنا یا اس کے عبادت کے ذوق کو یہ کہہ کر ٹھنڈا کر دینا کہ اس کا کوئی ثبوت نہیں، ایک نفسیاتی المیہ پیدا کرتا ہے۔ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ وہ لوگ جو سال بھر میں چند مواقع پر ہی مسجد کا رخ کرتے تھے، ایسی بحثوں سے دل برداشتہ ہو کر ان اعمال کو بھی چھوڑ دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں نیت اور خلوص کا ترازو سب سے بڑا ہے۔ اگر کوئی شخص نیکی کی نیت سے کوئی عمل کر رہا ہے، تو ہمیں اس کے ذوقِ بندگی کی قدر کرنی چاہیے نہ کہ اسے فتویٰ بازی سے متنفر کرنا چاہیے۔
شبِ برات دراصل ایک داخلی سفر کا نام ہے۔ یہ رات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی کی اصل حقیقت مادی دوڑ نہیں بلکہ وہ سکون ہے جو اللہ کے ذکر سے ملتا ہے۔ بچپن کی وہ خوشیاں، پٹاخوں کی وہ چمک اور گلیوں کا وہ شور دراصل اس لاشعوری خوشی کا پیش خیمہ تھا جو بڑے ہو کر ہمیں معرفتِ الٰہی کی صورت میں ملنا تھی۔
عبادت کا شوق رکھنے والے، چاہے وہ کسی بھی مسلک یا روایت سے تعلق رکھتے ہوں، اپنی نیت کی وجہ سے اللہ کے نزدیک معتبر ہیں۔ کسی کے جذبہِ عبادت کو بنیاد بنا کر اس کی تضحیک کرنا یا اسے کم تر سمجھنا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ یہ اس روحانی فلسفے کے بھی خلاف ہے جو انسان کو جوڑنے کا درس دیتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ شبِ برات ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ
اصل خوشی مادی اشیاء میں نہیں بلکہ دل کی پاکیزگی اور روح کی بالیدگی میں پوشیدہ ہے۔
ہمیں دوسروں کے جذبہِ عبادت اور نیت کا احترام کرنا چاہیے، کیونکہ خالق بندے کی تڑپ دیکھتا ہے۔
بچپن کی وہ روشن یادیں دراصل روحانیت کا وہ بیج تھیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ایک تناور درخت بن کر ہمیں سایہ فراہم کرتی ہیں۔
اللہ کی رحمت کے دروازے ہر اس شخص کے لیے کھلے ہیں جو خلوصِ نیت کے ساتھ اس کی بارگاہ میں جھک جاتا ہے۔ یہ مبارک رات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ چاہے دنیا کی رونقیں عارضی ہوں، لیکن توبہ کی روشنی اور اللہ سے قربت کا احساس وہ دائمی سرمایہ ہے جو ہمیں ابدی زندگی میں بھی کام آئے گا۔





