ColumnTajamul Hussain Hashmi

کراچی کے لئے پیش کردہ حل

کراچی کے لئے پیش کردہ حل
تحریر: تجمّل حسین ہاشمی
سرکاری مردم شماری ( ساتویں مردم شماری 2023) کے مطابق پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی آبادی تقریباً 20.3 ملین ( یعنی دو کروڑ 30لاکھ سے کچھ کم) ہے۔ یہ سرکاری اعداد و شمار پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (PBS) کی ڈیجیٹل مردم شماری 2023پر مبنی ہیں۔ تاہم ایم کیو ایم پاکستان کے مطابق کراچی کی آبادی کو کم شمار کیا گیا ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما مصطفیٰ کمال کئی مرتبہ اس حوالے سے وفاق سے رجوع کر چکے ہیں، مگر تاحال کوئی واضح جواب سامنے نہیں آیا۔
ان دنوں کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے سے متعلق سوشل میڈیا پر کئی آوازیں بلند ہو رہی ہیں، جس سے ایک بار پھر عوام کے ذہنوں میں تقسیم و تفریق کو ہوا دی جا رہی ہے۔ خدشہ ہے کہ اس کے نتیجے میں شہر کا امن متاثر ہوگا، ایک دوسرے پر الزامات لگیں گے، نفرتیں پھیلیں گی اور حقوق پامال ہوں گے۔ ان سب کا نقصان ہمیشہ کراچی کے باسیوں کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔
یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ اگر کراچی کو وفاق کے حوالے کر بھی دیا جائے تو کیا تین کروڑ کے قریب عوام کے بنیادی مسائل حل ہو جائیں گے؟ کیا گٹروں کے ڈھکن، عدل و انصاف، لاء اینڈ آرڈر، قبضہ مافیا اور سسٹم کے نام پر ہونے والی لوٹ مار ختم ہو جائے گی؟ کیا ناانصافیاں رک جائیں گی؟ حل تجویز کرنے والوں کی جمہوری اور آمریت دونوں ادوار کی کارکردگی ہم سب دیکھ چکے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ تاشقند معاہدے میں جنرل ایوب اور ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان کون سچا تھا؟ بے نظیر بھٹو کے قتل کے ذمہ دار آج تک آزاد کیوں ہیں؟ اسکاٹ لینڈ یارڈ کی تحقیقات پر پردہ کیوں ڈالا گیا؟ جب ملک دو حصوں میں بٹ رہا تھا تو جنرل یحییٰ سب اچھا کی گردان کیوں لگاتے رہے؟ جنرل ضیاء الحق نے گیارہ سال اقتدار کو مذہب کے نام پر طول دیا، اور جنرل مشرف وردی اتارنے کے اعلان سے مکر گئے۔
جمہوری دور کی بات کریں تو میاں نواز شریف خانہ کعبہ میں قسمیں کھاتے رہے کہ ان کا کوئی خفیہ معاہدہ نہیں، مگر واپسی پر سب سے پہلے لوٹوں کو ٹکٹ دئیے گئے۔ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگایا گیا، اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ بنایا گیا ، مگر آج وہ سب نعرے دفن ہو چکے ہیں۔ بیرونِ ملک بینکوں میں پڑے اربوں ڈالر پر بھی کوئی سوال نہیں اٹھاتا۔جمہوریت کی حقیقی لیڈر بے نظیر بھٹو تھیں، مگر آج پیپلز پارٹی کی قیادت کے نزدیک وعدے اور قسمیں محض سیاسی کھیل بن چکے ہیں، جس کا وہ برملا اظہار کر چکے ہیں۔ جب بھی مقتدر شخصیات نے اللہ کے گھر میں شکر ادا کرنے کا پروگرام بنایا، قومی خزانے کو بے دریغ استعمال کیا گیا۔ میں نے تو صرف ہلکی سی روشنی ڈالی ہے، ورنہ فائلوں اور کہانیوں کی کمی نہیں۔
کراچی کے عوام کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ شہر کو وفاق کے حوالے کرنے سے کوئی معجزہ نہیں ہوگا۔ اس سے صرف نفرت اور تقسیم کو مزید تقویت ملے گی۔ گزشتہ دنوں بلوچستان نفرت کی آگ میں جلتا رہا، مگر مقتدر حلقے حقیقی حل کی طرف آنے کو تیار نہیں۔
کراچی کے مسائل ہر بچے کو معلوم ہیں اور ان کے حل بھی سب کو معلوم ہیں، مگر مسئلہ یہ ہے کہ عام آدمی کے پاس اختیار نہیں۔ اگر مقتدر شخصیات چاہیں تو کراچی اور سندھ کے مسائل حل ہو سکتے ہیں۔ اگر پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز گٹر کے ڈھکن پر افسر کو سزا دے سکتی ہیں تو سندھ میں ایسا کیوں ممکن نہیں؟
کراچی کے بنیادی مسائل میں تباہ حال انفراسٹرکچر، مستقل ماسٹر پلان کی کمی، بااختیار بلدیاتی نظام کا فقدان، خراب لاء اینڈ آرڈر اور اداروں میں بیٹھے رشوت خور افسر شامل ہیں، جو سسٹم کے نام پر سندھ حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
میری رائے میں مقتدر شخصیات کو ایک سادہ اور جامع حکمتِ عملی اپنانی چاہیے، جس میں تفریق اور تقسیم نہ ہو۔ صوبائی حکومت اور پیپلز پارٹی کی قیادت سے سنجیدہ مذاکرات کیے جائیں، احتسابی اداروں کو فعال بنایا جائے اور عوامی رائے کے لیے موثر پلیٹ فارم مہیا کیا جائے۔
اس وقت کراچی کے مسائل میں سب سے بڑی رکاوٹ نااہل اور کرپٹ افسر ہیں، جو صوبائی حکومت کو بدنام کر رہے ہیں۔ صوبائی قیادت اور اداروں کے سربراہان کو مل بیٹھ کر عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔ کراچی سندھ ہی نہیں بلکہ پورے ملک کا معاشی مرکز ہے، جسے اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ اسی طرح بلوچستان اور کراچی کی صورتحال پاکستان کی سلامتی اور ترقی کے لیے نہایت اہم ہے۔
اب نعروں اور بیانات کا وقت ختم ہو چکا ہے، اب احتساب اور عمل کا وقت ہے۔ لوٹ مار کا پیسہ کراچی اور بلوچستان کے امن و ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، کیونکہ طاقتور طبقات یہ نہیں چاہتے کہ حالات بہتر ہوں۔
ملک کو برسوں نعروں اور باتوں سے چلایا گیا، مگر عملی اقدامات نظر نہیں آئے۔ سیاسی محاذ آرائی نے عوام کو مسائل میں الجھائے رکھا۔ اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ بنانے والے خود انہی کے سہارے اقتدار میں رہے۔ اب عوام تھک چکی ہے۔ معاشی تنگ دستی نے لوگوں کو خودکشی تک پر مجبور کر دیا ہے۔ ہر دوسرا فرد ذہنی دبائو کا شکار ہے۔

جواب دیں

Back to top button