’’ تزویراتی تذبذب‘‘

’’ تزویراتی تذبذب‘‘
قادر خان یوسف زئی
عالمی بساط پر بچھے مہرے تیزی سے اپنی جگہ بدل رہے ہیں اور اس تبدیلی کی زد میں صرف بڑی طاقتیں ہی نہیں بلکہ پاکستان جیسی کمزور معیشتیں بھی بری طرح کچلی جا رہی ہیں۔ وینزویلا کے بحران سے لے کر گرین لینڈ خریدنے کی عجیب و غریب امریکی خواہش اور پھر ایران کے ساتھ ٹرمپ انتظامیہ کی بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے ایک ایسا طوفان کھڑا کر دیا ، جس میں سرمایہ کاروں کا اعتماد ریت کی دیوار ثابت ہو رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی واپسی کے بعد وائٹ ہاس سے جاری ہونے والے پالیسی بیانات نے ”امریکہ سب سے پہلی” کے نعرے کو ایک جارحانہ شکل دے دی ہے جس کے نتیجے میں عالمی سرمایہ کار محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں ہیں اور یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس نے قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ میں آگ لگا دی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب ہاتھیوں کی لڑائی میں گھاس کچلی جا رہی ہو تو پاکستان کہاں کھڑا ہے؟
جب سرمایہ کار اسٹاک مارکیٹ، رئیل اسٹیٹ یا صنعتی شعبے میں پیسہ لگانے کے بجائے سونے اور چاندی کے بسکٹس خرید کر تجوریوں میں بھرنے لگیں تو سمجھ لیجئے کہا کہ الارم بجنے شروع ہوچکے۔ پاکستان اسٹاک مارکیٹ کا چھ ہزار پوائنٹس تک گرنا اس خوف کی علامت ہے جو ایران امریکہ کشیدگی کے باعث پیدا ہوا۔ سرمایہ دار ہمیشہ بزدل ہوتا ہے، اسے ذرا سی آہٹ بھی محسوس ہو تو وہ اپنا سرمایہ سمیٹ لیتا ہے اور بدقسمتی سے پاکستان میں اس وقت آہٹ نہیں بلکہ خطرے کے سائرن بج رہے ہیں۔ چاندی کی قیمتوں میں ایک سال کے دوران ڈیڑھ سو فیصد کا اضافہ اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ چھوٹا سرمایہ کار بھی اب بینکوں کے بجائے دھاتوں پر اعتبار کر رہا ہے، جو کہ کسی بھی ملک کے بینکنگ سسٹم اور کرنسی کی ساکھ کے لیے ایک خطرناک پیغام ہے۔
معاشی اعشاریوں کی یہ گراوٹ محض جذباتی ردعمل نہیں بلکہ اس کے پیچھے ٹھوس اعداد و شمار کی تلخ حقیقتیں موجود ہیں۔ مالی سال دو ہزار چھبیس کی پہلی ششماہی میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری ( ایف ڈی آئی) میں تینتالیس فیصد کی ہوشربا کمی واقع ہوئی ہے جو کہ ایک ارب بیالیس کروڑ ڈالر سے کم ہو کر محض آٹھ کروڑ ڈالر رہ گئی ہے۔ ناروے کی ٹیلی کام کمپنی ٹیلی نار کا انخلاء اور دسمبر کے مہینے میں ایک سو پینتیس ملین ڈالر کا کیپٹل آئوٹ فلو ( سرمائے کا انخلائ) اس امر کا ثبوت ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں اب پاکستان میں اپنے آپریشنز جاری رکھنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ جب ”پورٹ فولیو انویسٹمنٹ” بھی منفی رجحان کا شکار ہو جائے اور غیر ملکی سرمایہ کار ایک ہی ماہ میں کروڑوں ڈالر اسٹاک مارکیٹ سے نکال لیں تو یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ عالمی سرمایہ کار ٹرمپ کی پالیسیوں اور خطے کی صورتحال کو کس نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ایک طرف امریکہ ایران کا گھیرا کر رہا ہے تو دوسری طرف پاکستان اپنی جغرافیائی مجبوریوں کے باعث اس آگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔اس تمام منظر نامے میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو ہماری برآمدات اور ٹیرف کی جنگ ہے۔ اگرچہ سفارتی سطح پر یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ پاکستان نے امریکہ کے ساتھ انیس فیصد ٹیرف پر اتفاق کر کے بھارت کے مقابلے میں ( جس پر پچاس فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے) ایک بڑی فتح حاصل کی ہے، لیکن تصویر کا دوسرا رخ انتہائی بھیانک ہے۔ یہ انیس فیصد ٹیرف بھی ہماری ٹیکسٹائل انڈسٹری کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے مقابلے میں بھارت نے یورپی یونین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ کر کے وہاں اپنی مصنوعات کے لیے زیرو ڈیوٹی کی سہولت حاصل کر لی ہے۔ یعنی جو فائدہ ہمیں امریکہ میں مل سکتا تھا، اس سے کہیں بڑا نقصان ہمیں یورپ میں ہو چکا ہے جہاں ہماری ٹیکسٹائل کا بڑا حصہ جاتا ہے۔ ہمارے پالیسی ساز شاید یہ بھول گئے کہ عالمی منڈی میں مقابلہ صرف امریکہ تک محدود نہیں ہے۔ جب ہمارے برآمد کنندگان کو امریکہ میں انیس فیصد ڈیوٹی ادا کرنی پڑے گی اور ساتھ ہی ملک کے اندر مہنگی بجلی اور گیس کا عذاب بھی جھیلنا پڑے گا، تو وہ کس طرح بنگلہ دیش یا ویتنام کا مقابلہ کر سکیں گے؟ ورلڈ بینک کے تخمینے کے مطابق ٹرمپ کے ٹیرف کی وجہ سے پاکستان کو سالانہ پانچ سو چونسٹھ ملین ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے، جو ہماری پہلے سے دبی ہوئی برآمدات کے لیے زہر قاتل ہے۔
جغرافیائی سیاست کا معیشت کے ساتھ جو گہرا تعلق ہے، وہ ایران کے معاملے میں کھل کر سامنے آ رہا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر پچیس فیصد اضافی ٹیرف کی دھمکی پاکستان کے لیے دوہرا عذاب ہے۔ ایران جس کے ساتھ ہماری غیر رسمی تجارت، بالخصوص بلوچستان کے سرحدی علاقوں میں، وہاں کی مقامی معیشت کے لیے آکسیجن کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر ہم امریکی دبائو میں آکر یہ تجارت بند کرتے ہیں تو بلوچستان میں معاشی بحران اور انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے، اور اگر جاری رکھتے ہیں تو ہماری باقی ماندہ برآمدات پر امریکی پابندیوں کی تلوار لٹک جائے گی۔ یہ وہ ”تزویراتی تذبذب” ہے جس نے پاکستان کی فیصلہ سازی کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ ہم ایک ایسی بند گلی میں کھڑے ہیں جہاں آگے کھائی اور پیچھے کنواں ہے۔ اس صورتحال میں جب سرمایہ کار دیکھتا ہے کہ ریاست خود تذبذب کا شکار ہے، تو وہ اپنا پیسہ نکال کر سونے کی محفوظ پناہ گاہ میں منتقل کر دیتا ہے۔
دوسری جانب اگر ہم ترسیلات زر ( ریمٹینسز) کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو وہاں ایک عارضی چمک دمک دکھائی دیتی ہے۔ دسمبر میں تین اعشاریہ چھ ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات اور چھ ماہ میں تقریباً بیس ارب ڈالر کی آمد بظاہر ایک خوش آئند بات ہے، لیکن یہ خوشی بھی کھوکھلی بنیادوں پر استوار ہے۔ یہ پیسہ پیداواری شعبوں میں نہیں آ رہا، یہ کوئی نئی فیکٹریاں لگانے یا ٹیکنالوجی پارک بنانے کے لیے نہیں بھیجا جا رہا، بلکہ یہ وہ رقم ہے جو بیرون ملک مقیم پاکستانی اپنے گھر والوں کے روزمرہ اخراجات، مہنگی بجلی کے بلوں اور افراط زر کا مقابلہ کرنے کے لیے بھیج رہے ہیں۔ یہ معیشت کی ترقی کا نہیں بلکہ سماجی بقاء کا پیسہ ہے۔ پھر یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا یہ ترسیلات زر ہمیشہ اسی طرح آتی رہیں گی؟ مشرق وسطیٰ میں جس طرح کے حالات بن رہے ہیں اور ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیاں جس رخ پر جا رہی ہیں، اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ یہ ”لائف لائن” مستقبل میں بھی اسی طرح میسر رہے گی۔ ہم اپنی معیشت کو آئی ایم ایف کے وینٹی لیٹر اور اوورسیز پاکستانیوں کی آکسیجن پر زندہ رکھے ہوئے ہیں، جبکہ ہمارے اپنے جسم ( صنعت اور زراعت) میں خون بنانے کی صلاحیت ختم ہوتی جا رہی ہے۔





