ایم فل بین الاقوامی تعلقات

ایم فل بین الاقوامی تعلقات
شکیل سلاوٹ
پاکستان جنوبی ایشیا میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ جنوبی ایشیا دنیا کے اُن خطوں میں شامل ہے جہاں ایک طرف بے پناہ انسانی وسائل، قدرتی دولت اور اسٹریٹجک اہمیت موجود ہے تو دوسری جانب سیاسی کشیدگیاں، معاشی عدم استحکام اور علاقائی تعاون کا فقدان بھی نمایاں ہے۔ ایسے میں پاکستان ایک ایسا ملک ہے جو اگر درست سمت میں حکمتِ عملی اختیار کرے تو نہ صرف اپنے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے ایک کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ خصوصاً بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا جیسے ممالک کے ساتھ تعلقات میں بہتری اور تعاون پاکستان کو جنوبی ایشیا میں ایک فعال اور ذمہ دار طاقت بنا سکتی ہے۔
پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع اسے قدرتی طور پر جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، چین اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک پل بناتا ہے۔ گوادر بندرگاہ، چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) اور زمینی و بحری راستے پاکستان کو خطے کا ایک ممکنہ لاجسٹک اور تجارتی مرکز بناتے ہیں۔
اگر پاکستان بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا کے ساتھ براہِ راست اور بالواسطہ تجارتی و مواصلاتی روابط کو فروغ دے تو جنوبی ایشیا میں اقتصادی انضمام (Economic Integration)کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔
بنگلہ دیش جنوبی ایشیا کی ایک ابھرتی ہوئی معیشت ہے جس نے گارمنٹس، ٹیکسٹائل، فشریز اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں نمایاں ترقی کی ہے۔ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تاریخی اور سیاسی پیچیدگیاں ضرور موجود ہیں، مگر موجودہ دور میں معاشی حقیقتیں ان رکاوٹوں سے آگے بڑھنے کا تقاضا کرتی ہیں۔ پاکستان اگر بنگلہ دیش کے ساتھ تجارتی رکاوٹیں کم کرے، دوطرفہ سرمایہ کاری کو فروغ دے اور تعلیمی و ثقافتی تبادلوں کو وسعت دے تو دونوں ممالک ایک دوسرے کے قدرتی شراکت دار بن سکتے ہیں۔ خاص طور پر ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، زرعی تحقیق اور آئی ٹی کے شعبوں میں تعاون دونوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
نیپال ایک خشکی میں گھرا ہوا ملک ہے جسے اپنی تجارت کے لیے علاقائی تعاون کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان نیپال کو بندرگاہی رسائی، تعلیمی مواقع اور تجارتی سہولتیں فراہم کرکے ایک قابلِ اعتماد شراکت دار بن سکتا ہے۔ نیپال کے ساتھ پاکستان کے تعلیمی، سیاحتی اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ نیپالی طلبہ کے لیے پاکستانی جامعات، خصوصاً میڈیکل اور انجینئرنگ ادارے، ایک پرکشش آپشن بن سکتے ہیں۔ اسی طرح ہائیڈرو پاور، سیاحت اور زراعت میں مشترکہ منصوبے جنوبی ایشیا میں پاکستان کی نرم قوت (Soft Power)کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔
سری لنکا بحرِ ہند میں ایک اہم اسٹریٹجک مقام رکھتا ہے اور حالیہ برسوں میں شدید معاشی بحران سے گزرا ہے۔ پاکستان نے مشکل وقت میں سری لنکا کی انسانی اور دفاعی سطح پر مدد کرکے برادرانہ تعلقات کا مظاہرہ کیا۔
مستقبل میں پاکستان اور سری لنکا کے درمیان بحری تجارت، دفاعی تعاون، سیاحت اور چائے، ربڑ اور چاول جیسی مصنوعات کی تجارت میں اضافہ ممکن ہے۔ گوادر اور کولمبو بندرگاہوں کے درمیان تعاون بحرِ ہند میں علاقائی تجارت کو نئی جہت دے سکتا ہے۔
جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون کا سب سے بڑا فورم SAARCبرسوں سے غیر فعال ہے۔ پاکستان اگر بھارت سے قطع نظر دیگر رکن ممالک، خصوصاً بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا کے ساتھ دوطرفہ اور کثیرالجہتی تعاون کو فروغ دے تو جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم ( سارک ۔ SAARC) جو کہ 8دسمبر 1985ء کو قائم کی گئی، جس میں جنوبی ایشیا کے 8ممالک کا ایک اہم جیو پولیٹیکل اور اقتصادی اتحاد ہے۔ اس کا سارک SAARCکو عملی طور پر فعال بنایا جا سکتا ہے۔
تجارت، موسمیاتی تبدیلی، خوراک کی سلامتی اور صحت جیسے غیر متنازع شعبے پاکستان کو علاقائی قیادت کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
پاکستان اگر جنوبی ایشیا میں امن، مذاکرات اور تعاون کا بیانیہ مضبوط کرے تو اس کی عالمی ساکھ میں اضافہ ہوگا۔ افغانستان میں امن، دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ اقدامات اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ تنازعات میں کمی پاکستان کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کرتی ہے۔
یہی تاثر بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا جیسے ممالک کے لیے پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد شراکت دار بناتا ہے۔پاکستان کی نوجوان آبادی جنوبی ایشیا میں ڈیجیٹل معیشت، فری لانسنگ اور آئی ٹی خدمات میں قائدانہ کردار ادا کر سکتی ہے۔ اگر علاقائی سطح پر مشترکہ ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز اور اسٹارٹ اپ تعاون کو فروغ دیا جائے تو پاکستان خطے کی ڈیجیٹل ترقی میں مرکزی حیثیت حاصل کر سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے جنوبی ایشیا میں کلیدی کردار ادا کرنا کوئی ناممکن ہدف نہیں۔ بنگلہ دیش، نیپال اور سری لنکا جیسے ممالک کے ساتھ عملی، معاشی اور سفارتی تعاون پاکستان کو خطے میں ایک مثبت، متوازن اور موثر طاقت بنا سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ماضی کے بوجھ سے نکل کر مستقبل کی طرف دیکھا جائے، تصادم کے بجائے تعاون کو ترجیح دی جائے اور قومی مفاد کو علاقائی استحکام کے ساتھ جوڑا جائے۔ ایک مضبوط اور فعال پاکستان نہ صرف خود ترقی کرے گا بلکہ پورے جنوبی ایشیا کو ترقی، امن اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔







