کوئٹہ تک دھماکے کیسے پہنچے ؟

کوئٹہ تک دھماکے کیسے پہنچے ؟
قادر خان یوسف زئی
کوئٹہ میں حالیہ دھماکے اور صوبے کے مختلف اضلاع میں بیک وقت حملوں کی خبر محض ایک اور’’ سکیورٹی واقعہ‘‘ نہیں، یہ ریاست، معاشرہ اور شورش کے بدلتے ہوئے باہمی رشتے کی ایک نئی شکل ہے۔ بلوچستان میں پولیس تھانوں، سرکاری عمارتوں اور سکیورٹی مراکز کو نشانہ بنانا پہلے بھی ہوتا رہا ہے، مگر دارالحکومت کوئٹہ کے اندر، حساس علاقوں کے قریب، صبح سویرے دھماکے کی آواز اور اس کے بعد ریڈ زون کا سیل ہونا، ہسپتالوں میں ایمرجنسی کا نفاذ اور شہری زندگی پر اچانک تالے لگ جانا ایک ایسا پیغام ہے جو محض بارود نہیں، حکمتِ عملی بھی بول رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ حملہ کیوں ہوا بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کوئٹہ تک یہ لہجہ کیسے پہنچا، اور اس کے پیچھے مقامی صلاحیت، تنظیمی ارتقا اور ریاستی جوابی تدبیر میں کون سی نئی جہتیں سامنے آ رہی ہیں۔
بلوچستان میں شورش کی تاریخ بتاتی ہے کہ حملہ آور ہمیشہ صرف ہلاکتیں نہیں چاہتے، وہ ریاست کی علامتوں کو چیلنج کرتے ہیں۔ تھانہ، سرکاری دفتر، سکیورٹی چیک پوسٹ، یا ریڈ زون کے نزدیک کوئی واقعہ۔ یہ سب ریاستی رِٹ کی روزمرہ علامتیں ہیں۔ جب حملے بیک وقت مختلف شہروں میں ہوں تو یہ ایک نفسیاتی دبائو بھی ہوتا ہے۔ فورسز کی توجہ تقسیم ہو، ردعمل کے وسائل بکھر جائیں، اور ہر شہر اپنے آپ کو اگلا ہدف محسوس کرے۔ مگر اس بار کوئٹہ کی شمولیت نے اس دباو کو بڑے پیمانے کی سکیورٹی نفسیات میں بدل دیا۔ دارالحکومت میں خوف کی لہر بلوچستان کے دور دراز اضلاع تک نہیں رُکتی۔ یہ خبر کے راستے اسلام آباد، کراچی اور عالمی میڈیا تک جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حملہ آور اپنے آپ کو صرف میدانِ جنگ میں نہیں، بیانیے کے میدان میں بھی سرگرم دیکھنا چاہتے ہیں۔
یہاں ایک اہم نکتہ سمجھنا ہوگا۔ کوئٹہ میں دھماکہ یا کسی حساس حصے کی قریب کارروائی، لازماً ریڈ زون ٹوٹ گیا، کا ثبوت نہیں بنتی، مگر یہ ضرور ظاہر کرتی ہے کہ حملہ آوروں نے علامتی اہداف کی طرف رخ کیا ہے۔ علامتی ہدف کی منطق یہ ہوتی ہے کہ کم سے کم وسائل سے زیادہ سے زیادہ تاثر پیدا کیا جائے۔ ایک دھماکہ، چند منٹ کی فائرنگ، یا کسی عمارت کے قریب دھمکی آمیز کارروائی۔ یہ سب اس مقصد کے لیے کافی ہو جاتے ہیں کہ ریاستی انتظام کی تصویر میں دراڑ دکھائی جائے۔ اس تاثر کے بعد جو سب سے بڑا نقصان ہوتا ہے وہ شہری اعتماد کا ہوتا ہے۔ لوگوں کو لگتا ہے کہ اگر کوئٹہ میں بھی یہ ہو سکتا ہے تو پھر کہاں نہیں ہو سکتا؟لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی اسی قدر اہم ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر بڑی کارروائی کا مطلب ریاستی ناکامی ہو۔ اکثر ایسے واقعات میں سکیورٹی اداروں کا فوری ردعمل، علاقے کا سیل ہونا، ہسپتالوں میں ایمرجنسی، اور کارروائیوں کا تیز ہونا اس بات کی علامت ہوتا ہی کہ ریاست نے کنٹرول کے پروٹوکول مضبوط کر رکھے ہیں۔ یعنی حملہ آور اگر ایک لمحے کے لیے منظرنامہ بدلتے ہیں تو ریاست اگلے لمحے اسے واپس اپنی گرفت میں لینے کی کوشش کرتی ہے۔ یہی کشمکش دراصل بلوچستان کی سکیورٹی حقیقت ہے، نہ مکمل کنٹرول، نہ مکمل خلا بلکہ ایک مسلسل دبا، جس میں ہر واقعہ دونوں طرف کے لیے’’ نئی سیکھ‘‘ بھی ہوتا ہے۔
اب سوال یہ کہ کوئٹہ کے اندر ہونے والی کارروائی کیا ظاہر کرتی ہے؟ پہلی بات یہ کہ شورش کرنے والے عناصر کی تنظیمی صلاحیت میں ارتقا جاری ہے۔ بیک وقت مختلف مقامات پر حملے صرف جذبے سے نہیں ہوتے، اس کے لیے معلومات، رابطہ، مقامی سہولت کاری، ریکی، اور حملہ آوروں کی نقل و حرکت کا انتظام درکار ہوتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ شہری مراکز کی طرف رخ کرنا اس مفروضے کو تقویت دیتا ہے کہ حملہ آور دیہی یا دور افتادہ علاقوں تک محدود رہنے کے بجائے وہاں جانا چاہتے ہیں جہاں ریاست کی علامتیں بھی ہیں اور میڈیا کی توجہ بھی۔ تیسری بات یہ کہ شہری ماحول میں کارروائی کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حملہ آور سمجھتے ہیں کہ سکیورٹی کے دبا نے ان کے لیے آسان اہداف کم کر دئیے ہیں، اس لیے وہ زیادہ شور پیدا کرنے والے اہداف کی طرف بڑھ رہے ہیں۔
بلا شبہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں کائونٹر ٹیرر ازم اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں کچھ بہتری دکھائی ہے۔ بہت سی کارروائیاں ناکام بنائی جاتی ہیں، بہت سے نیٹ ورک توڑے جاتے ہیں، اور بہت سے منصوبے عمل میں آنے سے پہلے رُک جاتے ہیں۔ مگر اس کے باوجود بلوچستان کی شورش ایک پیچیدہ مسئلہ ہے ۔ کوئٹہ میں حملے کا ایک اور پہلو بھی قابلِ غور ہے، شہری زندگی کے اعصاب پر ضرب۔ ریڈ زون کا سیل ہونا، سڑکوں کا بند ہونا، ہسپتالوں کا ایمرجنسی میں جانا۔ یہ سب عام شہری کو یہ احساس دلاتا ہے کہ وہ کسی بڑے فیصلے یا بڑے تصادم کے بیچ میں کھڑا ہے۔ اسی لیے ایسے واقعات کے بعد ریاست کے لیے صرف سکیورٹی ایکشن کافی نہیں ہوتا، بیانیہ مینجمنٹ بھی ضروری ہو جاتی ہے۔ مگر بیانیہ مینجمنٹ اگر صرف الزام تراشی بن جائے تو وہ وقتی طور پر تو عوامی غصے کو سمت دے دیتی ہے، لیکن طویل مدت میں سوالات بڑھا دیتی ہے: اگر دشمن بیرونِ ملک ہے تو اندرونی بھرتی کیسے ہو رہی ہے؟ اگر سہولت کار پکڑے جا رہے ہیں تو نئے نیٹ ورک کیوں بن رہے ہیں؟ اگر کامیابیاں ہو رہی ہیں تو کوئٹہ تک دھماکے کیسے پہنچ رہے ہیں؟
یہی وہ مقام ہے جہاں ایک متوازن نتیجہ سامنے آتا ہے۔ کوئٹہ کے حالیہ واقعے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ریاست مکمل طور پر بے بس ہے، مگر یہ ضرور ثابت ہوتا ہے کہ شورش کی حکمت عملی شہری تاثر اور علامتی اہداف کی طرف بڑھ رہی ہے۔ یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ صرف ایک سکیورٹی ردعمل سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اس کے ساتھ سیاسی مکالمہ، مقامی سطح پر اعتماد سازی، قانون کی بالادستی، شفاف احتساب، اور عوامی خدمات کی بہتری ضروری ہے۔ جب تک ریاستی رِٹ صرف چیک پوسٹ اور ریڈ زون تک محدود رہے گی اور عام شہری کی روزمرہ زندگی میں انصاف اور سہولت کی صورت میں نظر نہیں آئے گی، شورش کے بیانیے کو جگہ ملتی رہے گی۔
کوئٹہ میں دھماکہ دراصل ایک آئینہ ہے۔ اس میں شورش کی بدلتی حکمت عملی بھی نظر آتی ہے اور ریاست کی ذمہ داریوں کی فہرست بھی۔ ایک طرف سکیورٹی اداروں کی فوری کارروائی اور ردعمل کی صلاحیت ہے، دوسری طرف ایسے خلا ہیں جنہیں محض سیل کر کے بند نہیں کیا جا سکتا۔ اصل کامیابی یہ ہوگی کہ کوئٹہ کا شہری ہسپتال کی ایمرجنسی اور ریڈ زون کے لاک ڈائون کو معمول نہ سمجھے، بلکہ اسے استثنیٰ ہی رہے۔ اور یہ استثنیٰ تب بنے گا جب ریاست صرف حملہ آور کو نہیں، اس ماحول کو بھی شکست دے گی جس میں حملہ آور پیدا ہوتے ہیں۔







