بلوچستان میں دہشتگرد حملے ناکام

بلوچستان میں دہشتگرد حملے ناکام
145خوارج ہلاک، 17جوان شہید
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حالیہ دہشت گرد حملوں اور ان پر سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے نہ صرف ملکی سیکیورٹی فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحیت کو ظاہر کیا بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ دہشت گردوں کے مذموم عزائم کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ان حملوں کی نوعیت اور سیکیورٹی فورسز کے ردعمل نے ملک بھر میں حوصلے بلند کر دئیے ہیں اور یہ ایک پیغام ہے کہ بلوچستان کے امن پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ بلوچستان کے مختلف شہروں میں بھارتی سرپرستی میں سرگرم دہشت گردوں نے صوبے کے امن کو تباہ کرنے کے لیے متعدد مقامات پر حملے کیے۔ ان دہشت گردوں نے کوئٹہ، مستونگ، نوشکی، دالبندین، خاران، پنجگور، تمپ، گوادر اور پسنی جیسے حساس علاقوں کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں کا مقصد عوامی جگہوں پر خوف و ہراس پھیلانا اور صوبے میں عدم استحکام پیدا کرنا تھا۔ لیکن سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ مہارت اور بروقت ردعمل نے ان حملوں کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔ سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کی کارروائیوں کو کائونٹر کیا اور 145دہشت گردوں کو ہلاک کردیا، جن میں تین خودکُش بمبار بھی شامل تھے۔ ان کارروائیوں کے دوران فورسز کے 17جوان بھی جامِ شہادت نوش کر گئے اور 18معصوم شہریوں کی جانیں دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائیوں کی بھینٹ چڑھ گئیں، جن میں بچے بھی شامل تھے۔ دہشت گردوں کی یہ کارروائیاں ایک مرتبہ پھر پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کی یاد دلاتی ہیں۔ ان فورسز نے نہ صرف دہشت گردوں کو اپنی زمین سے نکالنے کے لیے سینہ سپر ہو کر جنگ لڑی بلکہ اپنی جان کی پروا کیے بغیر اپنے فرائض کو نبھایا۔ ان شہداء نے اپنے خون کی قربانی دے کر ملک کی آزادی، امن اور سلامتی کو ممکن بنایا۔آئی ایس پی آر کے مطابق، ان دہشت گرد حملوں کا مقصد بلوچستان میں سیاسی، سماجی اور اقتصادی استحکام کو تباہ کرنا تھا، مگر سیکیورٹی فورسز نے ان حملوں کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا۔ فورسز کے عزم سے کیے گئے آپریشنز نے ان حملوں کو سبوتاژ کردیا اور اس بات کو ثابت کردیا کہ دہشت گردوں کے عزائم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے، چاہے ان کے پاس کتنی ہی جدید اسلحہ اور ٹیکنالوجی ہو۔ بلوچستان میں دہشت گردی کی حالیہ لہر کی پشت پر واضح طور پر غیر ملکی مداخلت کا عنصر ہے، خصوصاً بھارت کی سرپرستی کا تذکرہ اہمیت کا حامل ہے۔ ’’ فتنہ الہندوستان‘‘ نامی دہشت گرد نیٹ ورک کی کارروائیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ دشمن قوتیں پاکستان کے داخلی معاملات میں دخل اندازی کے لیے مختلف حربے استعمال کر رہی ہیں۔ یہ حملے اس بات کا واضح اشارہ ہیں کہ دشمن پاکستان کی داخلی سلامتی کو کمزور کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ تاہم، سیکیورٹی فورسز نے اس بات کو ثابت کردیا کہ کسی بھی دشمن کی مداخلت کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا اور ملک کی سلامتی کے لیے کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ بلوچستان کا امن نہ صرف صوبے کے عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ضروری ہے بلکہ اس کا پورے پاکستان کے استحکام سے بھی گہرا تعلق ہے۔ یہ صوبہ نہ صرف جغرافیائی طور پر اہم ہے بلکہ اس کے قدرتی وسائل، خاص طور پر گوادر بندرگاہ کی اہمیت پاکستان کی معیشت کے لیے مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ بلوچستان میں دہشت گردی کا کوئی بھی عمل ملکی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے۔ اس لیے بلوچستان میں امن کا قیام، نہ صرف وہاں کے رہائشیوں کے لیے بلکہ پورے پاکستان کے لیے ضروری ہے۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کی جانے والی کارروائیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ بلوچستان میں امن کو یقینی بنانے کے لیے حکومت اور ریاست اپنے تمام وسائل کو بروئے کار لائے گی۔ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے جاری ان کارروائیوں میں نہ صرف سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں شامل ہیں بلکہ ان کی مضبوط حکمت عملی اور آپریشنز بھی اس مقصد میں کامیابی کی ضامن ہیں۔ پاکستان کی حکومت، فوج اور دیگر سیکیورٹی ادارے دہشت گردوں کے خلاف لڑائی میں مکمل یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہیں۔ وزیر ِاعظم شہباز شریف، صدر آصف علی زرداری اور وزیرداخلہ محسن نقوی نے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کی تعریف کی ہے اور شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ان رہنمائوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچستان کے امن کو درپیش خطرات کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے حکومت اپنی تمام تر قوت کیساتھ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو مفلوج کر دے گی۔ بلوچستان کے وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے بھی واضح کیا کہ ان کی حکومت بلوچستان میں امن کو ہر صورت برقرار رکھے گی اور دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائینگے۔ ان کی قیادت میں سیکیورٹی فورسز نے ہر مشکل صورتحال کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور اس بات کو ثابت کیا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کا خاتمہ اور امن کا قیام حکومت کا عزم ہے۔ بلوچستان میں حالیہ دہشت گردحملوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائیاں نہ صرف پاکستانی عوام کے لیے حوصلہ افزا ہیں، بلکہ عالمی سطح پر بھی یہ پیغام دیتی ہیں کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط اور مستقل عزم کے ساتھ لڑ رہا ہے۔ دہشت گردوں کے عزائم کا خاتمہ، بلوچستان میں امن کا قیام اور پاکستان کے اندرونی استحکام کی حفاظت ہر پاکستانی کی ذمے داری ہے۔ سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں اور حکومتی عزم اس بات کی غماز ہیں کہ دشمن جتنا بھی طاقتور ہو، پاکستانی عوام اور ان کی فورسز کے عزم کو شکست دینا ناممکن ہے۔
ٹی ٹوئنٹی سیریز پاکستان کے نام
پاکستان نے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آسٹریلیا کو 90رنز سے شکست دے کر سیریز اپنے نام کرلی۔ یہ فتح نہ صرف پاکستانی کرکٹ کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے بلکہ اس نے قومی ٹیم کی طاقتور کارکردگی اور حکمت عملی کو بھی اجاگر کیا ہے۔ قذافی سٹیڈیم لاہور میں کھیلا جانے والا یہ میچ ہر لحاظ سے دلچسپ تھا، جہاں پاکستان نے اپنی بیٹنگ اور بائولنگ دونوں شعبوں میں بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا۔ پاکستان کی بیٹنگ نے ابتدا میں ہی ایک مضبوط بنیاد رکھی۔ کپتان سلمان علی آغا کی 76رنز کی جارحانہ اننگز نے پاکستانی ٹیم کو ایک مضبوط سکور کی طرف گامزن کیا۔ ان کے ساتھ عثمان خان نے بھی 53رنز کی اہم اننگز کھیل کر ٹیم کی پوزیشن مستحکم کی۔ دونوں کھلاڑیوں نے میدان میں ایک بھرپور حکمت عملی کے تحت کھیلتے ہوئے آسٹریلوی بالرز کو دبا میں رکھا۔ اس کے علاوہ شاداب خان اور محمد نواز کے ناٹ آئوٹ 28اور 9رنز نے اسکور کو 198رنز تک پہنچایا، جو ایک چیلنجنگ ٹوٹل تھا۔ آسٹریلیا کی بائولنگ نے بلاشبہ پاکستانی بیٹنگ لائن کے سامنے بہت کم موثر کارکردگی دکھائی۔ ایڈم زمپا، کُوپر کونولی، میتھیو کونمین، شان ایبٹ اور زیویئر بارٹلیٹ نے ایک ایک وکٹ حاصل کی، لیکن ان کا ایکشن اس قدر کامیاب نہ رہا کہ وہ پاکستانی بلے بازوں کو قابو میں رکھ سکیں۔ پاکستان نے تمام شعبوں میں آسٹریلیا کو آئوٹ آف کلاس کر دیا۔ پاکستان کی بائولنگ نے میچ میں جیت کی بنیاد رکھی۔ ابرار احمد اور شاداب خان نے 3، 3وکٹیں حاصل کرکے آسٹریلوی بیٹنگ لائن کی کمر توڑ دی۔ عثمان طارق نے 2وکٹیں لیں جبکہ محمد نواز اور صائم ایوب نے 1، 1کھلاڑی کو آئوٹ کیا۔ اس شاندار بائولنگ کی بدولت آسٹریلیا 108رنز پر ڈھیر ہوگئی، جو پاکستان کے 198رنز کے مقابلے میں بہت کم تھا۔ آسٹریلیا کی جانب سے کیمرون گرین کی 35رنز کی اننگز نے کچھ امیدیں ضرور پیدا کیں مگر باقی کھلاڑیوں کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی۔ کپتان مچل مارش اور دیگر اہم کھلاڑیوں کی ناکامی نے واضح طور پر یہ دکھایا کہ پاکستانی بائولنگ کی طاقت اور حکمت عملی نے ان کو بے بس کردیا۔ اس میچ میں پاکستان کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ ٹیم کا متوازن کھیل تھا۔ جہاں ایک طرف بیٹنگ میں سلمان علی آغا اور عثمان خان نے زبردست کارکردگی دکھائی، وہیں بالنگ میں ابرار احمد اور شاداب خان نے اپنی ٹیم کے لیے میچ جیتنے کے امکانات روشن کیے۔ اس فتح نے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے لیے نہ صرف سیریز جیتنے کی خوشی کا سامان کیا بلکہ اس نے ٹیم کے عزم و حوصلے کو بھی مزید مضبوط کیا۔ پاکستان کی یہ کامیابی ایک مثال ہے کہ کس طرح اچھے کھیل، حکمت عملی اور ٹیم ورک کے ذریعے بڑی ٹیموں کو شکست دی جا سکتی ہے۔ سیریز جیتنے پر پاکستان کرکٹ ٹیم کو بہت بہت مبارک باد۔





