ColumnImtiaz Ahmad Shad

ریاست سے امید، نظام سے شکوہ                                 

ذرا سوچئے

ریاست سے امید، نظام سے شکوہ

  1. امتیاز احمد شاد

پاکستانی معاشرہ اس وقت ایک عجیب ذہنی کیفیت سے گزر رہا ہے جہاں امید اور مایوسی، اعتماد اور شکوہ، وابستگی اور بیگانگی ایک ساتھ موجود ہیں۔ ایک عام پاکستانی شہری کے دل میں ریاست کے لیے محبت بھی ہے اور اسی ریاست کے نظام سے گہری شکایت بھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بیک وقت یہ محسوس کرتا ہے کہ یہ ملک اس کا اپنا ہے، مگر یہ نظام اس کا نہیں۔ یہ تضاد دراصل کسی فکری انتشار کا نہیں بلکہ تلخ تجربات اور ٹوٹتی توقعات کا نتیجہ ہے، جو برسوں سے جمع ہوتے چلے آ رہے ہیں۔ پاکستان کا قیام ایک نظریاتی جدوجہد کے بعد عمل میں آیا تھا، اس لیے ریاست کا تصور آج بھی عوام کے دلوں میں زندہ ہے۔ قومی پرچم، قومی ترانہ اور عالمی سطح پر پاکستان کی شناخت عام آدمی کے اندر فخر کا جذبہ بیدار کرتی ہے۔ یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جب شہری خود کو اس ریاست کا حصہ محسوس کرتا ہے اور یہ یقین اس کے اندر تازہ ہو جاتا ہے کہ یہ ملک اس کی پہچان ہے۔ مگر یہ جذبہ زیادہ دیر قائم نہیں رہ پاتا، کیونکہ روزمرہ زندگی میں پیش آنے والے تجربات اسے جلد ہی زمینی حقیقتوں سے آشنا کر دیتے ہیں۔ جب یہی شہری کسی سرکاری دفتر میں جاتا ہے، پولیس سٹیشن کا رخ کرتا ہے یا عدالت میں انصاف کی تلاش میں کھڑا ہوتا ہے تو اس کا سامنا ایک ایسے نظام سے ہوتا ہے جو اسے اجنبی محسوس ہوتا ہے۔ تاخیر، بے حسی، سفارش، طاقتور کی بالادستی اور کمزور کی بے بسی اسے یہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ شاید یہ نظام اس کے لیے نہیں بنایا گیا۔ یوں ریاست سے وابستگی تو برقرار رہتی ہے، مگر نظام پر اعتماد ٹوٹنے لگتا ہے، اور یہی وہ مقام ہے جہاں شکایت جنم لیتی ہے۔

حکومت، پولیس اور عدلیہ جیسے اہم ریاستی ادارے عوامی تنقید کی زد میں ہیں۔ حکومت پر یہ الزام عام ہے کہ وہ عوامی مسائل کے بجائے اقتدار کی سیاست میں مصروف رہتی ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات جیسے مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں، جبکہ سیاسی جوڑ توڑ مرکزِ نگاہ بن جاتا ہے۔ پولیس کے بارے میں یہ تاثر گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ وہ طاقتور کے سامنے بے بس اور کمزور کے لیے خوف کی علامت بن چکی ہے۔ اسی طرح عدالتی نظام کو سست، مہنگا اور عام آدمی کی پہنچ سے دور سمجھا جاتا ہے۔ ان تمام شکایات کے باوجود ایک حیران کن حقیقت یہ ہے کہ عوام آخری امید بھی انہی اداروں سے وابستہ رکھتے ہیں۔ ظلم ہو تو فریاد عدالت سے کی جاتی ہے، امن چاہیے تو نظریں پولیس کی طرف اٹھتی ہیں، اور بہتری کی امید اب بھی حکومت سے ہی لگائی جاتی ہے۔ یہ تضاد دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام ریاست سے دستبردار نہیں ہوئے، وہ صرف اس سے مایوس ضرور ہیں، بے وفا نہیں۔ سیاست نے اس ذہنی کشمکش کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ پاکستانی سیاست جذبات سے خالی نہیں بلکہ جذبات ہی اس کی بنیاد بن چکے ہیں۔ ایک طبقہ ایسا ہے جو اپنے پسندیدہ سیاسی رہنما سے اس حد تک وابستہ ہو جاتا ہے کہ ہر تنقید اسے ذاتی حملہ محسوس ہوتی ہے۔ اس کے نزدیک اس کا لیڈر ہمیشہ درست اور مخالف ہمیشہ غلط ہوتا ہے۔ دوسری طرف ایک بڑا طبقہ ایسا بھی ہے جو سیاست سے مکمل طور پر بددل ہو چکا ہے۔ اس کے نزدیک تمام سیاستدان ایک جیسے، ووٹ بے معنی اور نظام ناقابلِ اصلاح ہے۔

ان دونوں انتہائوں کے درمیان متوازن اور دلیل پر مبنی سوچ رکھنے والے لوگ کم ہوتے جا رہے ہیں۔ جو لوگ سوال اٹھانا چاہتے ہیں، اصلاح کی بات کرتے ہیں یا درمیانی راستہ اختیار کرتے ہیں، انہیں یا تو مشکوک سمجھا جاتا ہے یا غیر سنجیدہ قرار دیا جاتا ہے۔ نتیجتاً مکالمہ ختم ہو جاتا ہے اور معاشرہ دو واضح حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے، جہاں ہر طرف شور ہے مگر سننے والا کوئی نہیں۔ سوشل میڈیا نے اس شدت کو مزید بڑھا دیا ہے۔ اختلافِ رائے اب اختلاف نہیں رہا بلکہ دشمنی بن چکا ہے۔ ہر مسئلہ یا تو مکمل سیاہ ہے یا مکمل سفید، درمیان میں کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ یہی سوچ ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے کو مزید بڑھا رہی ہے، کیونکہ اصلاح نہ اندھی حمایت سے آتی ہے اور نہ ہی مکمل نفی سے۔ اس کے باوجود سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب حالات اس قدر مایوس کن ہیں تو عوام کے دل میں امید کیوں باقی ہے؟ شاید اس لیے کہ پاکستانی عوام نے ہمیشہ مشکل حالات میں جینا سیکھا ہے۔ بحران، آفات اور ناکامیاں اس قوم کی لیے نئی بات نہیں۔ عام شہری بار بار ٹوٹتا ہے، مگر ہر بار خود کو جوڑ لیتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اگر امید بھی ختم ہو گئی تو پھر شکایت کا حق بھی باقی نہیں رہے گا۔ اصل مسئلہ شاید یہ نہیں کہ عوام تنقید کرتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ خود کو فیصلہ سازی کا حصہ محسوس نہیں کرتے۔ جب شہری کو لگے کہ اس کی آواز کی کوئی اہمیت نہیں، اس کا ووٹ بے اثر ہے اور قانون سب کے لیے برابر نہیں، تو پھر شکایت فطری بن جاتی ہے۔ اگر عوام کو اعتماد دیا جائے، شفافیت دکھائی جائے اور جوابدہی کا نظام قائم ہو، تو یہی تنقید تعمیری سوچ میں بدل سکتی ہے۔

پاکستانی عوام دراصل ایک ایسی ریاست چاہتے ہیں جو صرف جذباتی نعروں میں نہیں بلکہ عملی طور پر بھی ان کی ہو۔ جب تک ’’ یہ ملک میرا ہے‘‘ اور ’’ یہ نظام میرا نہیں‘‘ کے درمیان موجود خلیج ختم نہیں کی جاتی، تب تک امید اور شکایت ساتھ ساتھ چلتی رہیں گی۔ سوال یہ نہیں کہ عوام کیا سوچتے ہیں، اصل سوال یہ ہے کہ ریاست کب سنجیدگی سے عوام کی سوچ کو سمجھنے اور اس کا جواب دینے کے لیے تیار ہوگی۔

جواب دیں

Back to top button