Column

قانون بدلا ہے، کیا رویئے بدلیں گے؟

قانون بدلا ہے، کیا رویئے بدلیں گے؟
تحریر: جاوید اقبال
حرف جاوید
کہتے ہیں قانون اندھا ہوتا ہے، مگر تحفظِ بل 2025نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ قانون نہ صرف دیکھ سکتا ہے بلکہ اب وہ نگاہوں کے مفہوم، لہجوں کی کاٹ اور خاموشیوں کے زخم بھی پڑھنے لگا ہے۔ ہمارے معاشرے میں جہاں برسوں سے شوہر کی آنکھیں، زبان اور جیب غیر اعلانیہ اختیار کی علامت سمجھی جاتی رہی ہیں، وہاں اب ایک نظر، ایک جملہ اور ایک مالی فیصلہ بھی سوال کے کٹہرے میں لا کھڑا کر سکتا ہے۔ یہ محض ایک نیا قانون نہیں، بلکہ ایک پرانی سماجی عادت پر دستک ہے اور دستک بھی ایسی کہ سنائی نہ دے تو دروازہ ہلنے لگتا ہے۔
تحفظِ بل 2025کے مطابق اگر شوہر بیوی کو گھورے، گالی دے، خرچہ روک لے، یا طلاق و دوسری شادی کی دھمکی دے تو یہ سب فوجداری جرم ہوں گے، جن کی سزا تین سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ تک ہو سکتی ہے۔ مزید یہ کہ اگر بیوی رپورٹ درج کرائے تو سات دن کے اندر کارروائی شروع کرنا لازم ہے اور نوّے دن کے اندر فیصلہ سنانا ہوگا۔ ان شقوں نے ایک ہی جھٹکے میں اس پورے غیر تحریری نظام کو ہلا دیا ہے جس میں طاقت کا استعمال خاموشی سے، آنکھوں سے اور جیب کے وزن سے ہوتا تھا۔
ہمارے ہاں گھورنا محض دیکھنا نہیں ہوتا، یہ ایک مکمل زبان ہے ایسی زبان جس میں لغت نہیں مگر مفہوم بھرپور ہوتا ہے۔ ایک گھورنا ڈانٹ ہے، دوسرا حکم، تیسرا سزا۔ یہ وہ زبان ہے جو اکثر چیخ سے زیادہ گہری ہوتی ہے، کیونکہ چیخ سنائی دیتی ہے اور گھورنا دل میں اترتا ہے۔ قانون نے پہلی بار اس خاموش تشدد کو نام دیا ہے، اور نام ملتے ہی اس کی حیثیت بدل گئی ہے۔ اب یہ ’’ گھریلو معاملہ‘‘ نہیں رہا، بلکہ قابلِ مواخذہ رویّہ ہے۔
گالی دینا ہمارے سماج میں ہمیشہ سے ایک عجیب رعایت کے ساتھ جڑا رہا ہے۔ مرد اگر غصے میں بول دے تو کہا جاتا ہے: ’’ بات دل سے نکل گئی تھی‘‘، مگر عورت اگر جواب دے تو’’ زبان درازی‘‘ کہلاتی ہے۔ اس دوہرے معیار نے گھروں کو میدانِ جنگ نہیں بنایا بلکہ قید خانے بنا دیا، جہاں ایک فریق بولتا رہا اور دوسرا سنتا رہا۔ تحفظِ بل اس رعایت کو ختم کرتا ہے۔ اب گالی، گالی ہے خواہ وہ غصے میں نکلے یا عادت میں۔ یہ وہ نکتہ ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ احترام جنس سے نہیں، رویّے سے طے ہوتا ہے۔
خرچہ روکنا شاید سب سے خاموش مگر سب سے کاری ضرب رہی ہے۔ نہ ہاتھ اٹھتا تھا، نہ آواز بلند ہوتی تھی، بس جیب بند اور پیغام واضح۔ عورت کی ضروریات، خواہ علاج ہو یا تعلیم یا روزمرہ کی عزتِ نفس، ایک مالی بٹن کے گھمانے سے مشروط کر دی جاتی تھیں۔ قانون نے اس بٹن کو بھی قانون کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ اب ’’ پیسے نہیں ہیں‘‘ کہنا کافی نہیں، یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ پیسہ واقعی نہیں یا غصے میں غائب کئے گئے ہیں۔ یہ شق ہمیں معاشی تشدد کے اس پہلو کی طرف متوجہ کرتی ہے جسے ہم نے برسوں نظرانداز کیا۔
اور پھر وہ دھمکیاں طلاق یا دوسری شادی جو ہمارے معاشرے میں ازدواجی گفتگو کا ایٹمی ہتھیار رہی ہیں۔ ان کا استعمال کم اور ذکر زیادہ، مقصد شادی ختم کرنا نہیں بلکہ عورت کو خاموش کرانا۔ تحفظِ بل نے ان دھمکیوں کو نفسیاتی تشدد کے زمرے میں رکھ کر واضح کر دیا ہے کہ زبان کے وار بھی اتنے ہی خطرناک ہوتے ہیں جتنے ہاتھ کے۔ یہ محض سزا کا اعلان نہیں، یہ رویّے کی اصلاح کی دعوت ہے۔
قانونی عمل کی رفتار سات دن میں کارروائی اور نوّے دن میں فیصلہ اس بات کا اعلان ہے کہ انصاف کو فائلوں میں دفن نہیں کیا جائے گا۔ یہ شق ان خواتین کے لیے امید ہے جنہوں نے برسوں انصاف کی راہ تکتے ہوئے عمر گزار دی۔ تاہم یہاں ایک تنقیدی سوال بھی اٹھتا ہے، کیا ہمارا عدالتی و تفتیشی نظام اس رفتار سے انصاف فراہم کرنے کے لیے تیار ہے؟ قانون بن جانا کافی نہیں، اس پر عملدرآمد کی سنجیدگی بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ اگر90دن فیصلہ محض کاغذ پر رہ گیا تو یہ امید ایک اور مایوسی میں بدل سکتی ہے۔
اس قانون پر اعتراض کرنے والے اسے ’’ مرد دشمن‘‘ قرار دے رہے ہیں۔ یہ اعتراض ہمیں ایک بنیادی غلط فہمی کی طرف لے جاتا ہے۔ کیا بدتمیزی پر پابندی لگانا مرد دشمنی ہے؟ یا یہ دراصل طاقت کے غلط استعمال کے خلاف اقدام ہے؟ قانون کسی جنس کے خلاف نہیں، بلکہ اس رویّے کے خلاف ہے جو طاقت کو حق سمجھ لیتا ہے۔ مرد ہونا جرم نہیں، مگر مردانگی کو بدتمیزی کا لائسنس سمجھنا ضرور سوال کے قابل ہے۔
یہاں یہ تسلیم کرنا بھی ضروری ہے کہ قانون اکیلا سماج نہیں بدلتا۔ اگر گھروں میں مکالمہ نہیں ہوگا، اگر احترام کی تربیت نہیں دی جائے گی، اگر لڑکوں کو یہ نہیں سکھایا جائے گا کہ اختلاف بھی تہذیب کے ساتھ کیا جا سکتا ہے، تو کوئی قانون مکمل نتیجہ نہیں دے سکے گا۔ اس بل کی اصل کامیابی تب ہوگی جب گھروں میں گھورنے کی جگہ سننے کی عادت پڑے، گالی کی جگہ دلیل آئے، اور دھمکی کی جگہ مکالمہ۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ قانون کے غلط استعمال کا خدشہ ہر دور میں رہا ہے۔ مگر خدشات کے خوف سے ناانصافی کو جاری رکھنا دانشمندی نہیں۔ حل یہ ہے کہ تفتیش مضبوط ہو، شواہد کی جانچ منصفانہ ہو، اور جھوٹے مقدمات پر بھی قانون حرکت میں آئے۔ توازن ہی انصاف کی روح ہے۔
طنز یہاں اس لیے ضروری ہے کہ ہم خود کو آئینہ دکھا سکیں۔ اگر گھورنا جرم ہے تو شاید مسکرانا نیکی بن جائے۔ اگر گالی سزا ہے تو شاید گفتگو تہذیب کہلائے۔ اگر خرچہ روکنا جرم ہے تو شاید شفاف حساب کتاب اعتماد بن جائے۔ اور اگر دھمکی پر قید ہے تو شاید احترام پر رشتہ قائم رہے۔
یہ قانون ہمیں ایک اجتماعی پیغام دیتا ہے رشتے طاقت سے نہیں، ذمہ داری سے چلتے ہیں۔ شادی معاہدہ ضرور ہے، مگر یہ معاہدہ خوف پر نہیں، اعتماد پر قائم ہوتا ہے۔ قانون نے حد کھینچی ہے، اب سماج کو قدم بڑھانا ہے۔
آخر میں سوال یہ نہیں کہ اب گھورنا جرم ہے یا نہیں اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایک ایسا معاشرہ چاہتے ہیں جہاں گھروں میں خاموش خوف راج کرے یا ایسا جہاں اختلاف بھی عزت کے ساتھ ہو۔ تحفظِ بل 2025نے سمت دکھا دی ہے۔ اب یہ ہم پر ہے کہ ہم اس سمت میں چلتے ہیں یا پرانی گلیوں میں بھٹکتے رہتے ہیں۔
اگر اس قانون نے کچھ لوگوں کی نیند خراب کی ہے تو شاید یہ نیند بہت گہری تھی۔ اور اگر اس نے کچھ دلوں کو حوصلہ دیا ہے تو یہی اس کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

جواب دیں

Back to top button