ColumnRoshan Lal

گٹر میں گرنے والی سعدیہ کی موت کی کہانی

گٹر میں گرنے والی سعدیہ کی موت کی کہانی
روشن لعل
شور کوٹ سے لاہور آنے والی سعدیہ اپنی نو ماہ کی بچی سمیت بھاٹی گیٹ کے قریب کھلے گٹر میں گر کر ہلاک ہو گئی۔ سعدیہ کی ہلاکت کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر یہ واویلا شروع ہو گیا کہ میڈیا جس طرح کراچی میں کسی سانحہ کے بعد ہلاکتوں کی ذمہ داری فوراً سندھ حکومت، وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اور میئر مرتضیٰ وہاب پر ڈال دیتا ہے، اسی طرح وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو لاہور کے کھلے گٹر میں گرکر ہلاک ہونے والی خاتون اور بچی کی موت کا ذمہ دار مانا جائے۔ جو لوگ سعدیہ کی ہلاکت کا الزام مریم نواز پر عائد کر رہے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ جب بھی کراچی کے کسی سانحہ کے بعد مراد علی شاہ کو ہلاکتوں کا ذمہ دار قرار دیا گیا تو اس الزام کا یہ جواب آیا کہ کسی محکمے کے عملے کی غلطیوں اور کوتاہیوں کا ذمہ دار، براہ راست صوبے کے وزیر اعلیٰ کو نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ کسی سانحہ میں ہلاکتوں کے بعد ذمہ دار ٹھہرائے گئے مراد علی شاہ کے حق میں جو دلیل پیش کی جاتی ہے اسی دلیل کو مریم نواز کے لیے بھی درست سمجھا جانا چاہیے۔ کوئی شک نہیں کہ ملک کے ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر تبصرے کرنے اور خبریں پیش کرنے والے اکثر خواتین و حضرات کے مراد علی شاہ اور مریم نواز کے لیے ظاہر کیے گئے خیالات میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے، لیکن ایسے رویوں کے رد عمل میں یہ مناسب نہیں لگتا کہ مراد علی شاہ کے لیے پیش کیے جانے والے جس موقف کو اصولی قرار دیا جاتا ہے، اسے ہی مشکوک بنا دیا جائے۔ ہاں اصولی موقف ملحوظ خاطر رکھنے کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ میڈیا ہائوسز اور میڈیا پرسنز کے دوغلے اور دوہرے رویوں کی نشاندہی کرنے سے گریز کیا جائے۔
مریم نواز کو سعدیہ کی موت کا ذمہ دار قرار دیئے جانے کا الزام ایک طرف رکھ کر اس المناک واقعہ کو دیکھنے کے کچھ ایسے پہلو ہیں جنہیں یہاں بری طرح نظر انداز کیا جارہا ہے۔ سعدیہ کی ہلاکت کے واقعہ کا افسوسناک ترین پہلو یہ ہے کہ صوبہ پنجاب میں رائج میڈیا مینجمنٹ کی روایت پر عمل ممکن سمجھتے ہوئے پہلے اسے دبانے اور پھر کوئی اور رنگ دینے کی بھر پور کوشش کی گئی۔ جس واقعہ کو دبانے کی کوشش کی گئی اس کی تفصیلات یہ ہیںکہ ہلاک ہونے والی سعدیہ کو اس کی بچی اور شوہر کے ساتھ شام 6:47پر داتا دربار کے قریب شاپنگ کرتے دیکھا گیا اور تینوں رات 7. 22پر داتا دربار کے سامنے پہنچے، اس کے بعد رات 7.30بجے تینوں کو داتا دربار سے پرانی پرندہ مارکیٹ کی جانب جاتے دیکھا گیا اور پھر 7.32 پر ریسکیو 1122کو خاتون اور بچی کے گرنے کی کال آئی جس کے بعد ریسکیو اہلکار 4منٹ بعد وہاں پہنچ گئے۔ جس جگہ سعدیہ کھلے ہوئے گٹر میں گری وہاں لوگوں نے اس کی ساس کو شور مچا کر لوگوں کو بلاتے ہوئے دیکھا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اپنی بیوی اور بچی کے گٹر میں گرنے کے بعد سعدیہ کا شوہر بے بسی کے عالم میں ریسکیو اور پولیس والوں کا انتظار کر رہا تھا مگر ان دونوں اداروں کے لوگو ں کے وہاں پہنچنے پر بھی اس کی بے بسی ختم نہ ہوسکی۔ پولیس نے جائے حادثہ پر پہنچنے کے بعد پہلے توسعدیہ کے خاوند کی یہ بات ماننے سے انکار کر دیا کہ اس کی بیوی اور بچی گٹر میں گر چکی ہیں لیکن جب اس نے اپنی بات منوانے پر اصرار کیا تو اسے اس الزام کے تحت حراست میں لے لیا گیا کہ اس نے خود ہی دونوں کو گٹر میں دھکا دیا ہے۔ پولیس کی طرف سے سعدیہ کے خاوند پر اپنی بیوی اور بچی کو گٹر میں پھینکنے کا الزام لگائے جانے کے بعد ریسکیو والوں نے انہیں تلاش کرنے کا کام روک دیا۔ اس بات کا صرف قیاس ہی کیا جاسکتا کہ جب ریسکیو والوں نے سعدیہ اور اس کی بچی کو گٹر میں تلاش کرنا بند کیا تو ان میں زندگی کی کوئی رمق باقی تھی یا وہ ہلاک ہو چکی تھیں۔ واسا والوں کو کہنا ہے کہ اگر سعدیہ کے گٹر میں گرنے کے وقت کو مد نظر رکھا جائے تو جس جگہ وہ گری وہاں اتنا پانی نہیں تھا کہ گرنے سے اس کی موت ہو، اور اس کی لاش بہہ کر دور چلی جائے۔ اب واسا والوں کے اس خیال کے بعد ایک ماں کی ممتا کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ قیاس کیا جاسکتا ہے کہ سعدیہ کے گٹر میں گرنے کے بعد ممکنہ طور پر کیا ہوا ہوگا۔ قیاس کریں کہ پندرہ فٹ گہرے گٹر میں گرنے کے بعد بھی سعدیہ اپنی بیٹی سمیت زندہ تھی لیکن اتنی گہرائی میں گرنے کے بعد وہ بچی کو گٹر کے پانی میں گرنے سے نہ بچا سکی۔ گٹر میں موجود جو پانی سعدیہ کو بہانے کی سکت نہیں رکھتا تھا اس نے اس کی نو ماہ کی معصوم بچی پر اپنا زور دکھایا اور اسے بہاتا ہوا آگے لے گیا۔ ایک ماں کی ممتا کیسے برداشت کر سکتی تھی کہ وہ اپنی معصوم بچی کو گٹر کے گندے پانی میں بہتا ہوا دیکھ کر خاموش کھڑی رہے۔ سعدیہ اپنے اندر موجود ممتا کے جذبے کے ہاتھوں مجبور ہو کر اپنی جان کی پروا کیے بغیر بچی کو بچانے کے لیے آگے بڑھتی گئی مگر اس کی یہ کوشش نہ اسے اور نہ اس کی بچی کو مرنے سے بچا سکی۔ اس قیاس کو ممکن مان کر اب یہ دیکھیں کہ سعدیہ گٹر پر ڈھکن نہ رکھنے کے ذمہ دار لوگوں کی غفلت کی وجہ سے پندرہ فٹ گہرائی میں گر کر جب اپنی بچی کو بچانے کی کوشش کر رہی تھی اس وقت ریسکیو والے کس طرح باہر ہاتھ پرہاتھ دھرے بیٹھے تھے اور پولیس اس کے خاوند کو دھکا دینے کا ملزم بنا کر سیکڑوں لوگوں کے سامنے کس طرح بے عزت کر رہی تھی۔
سعدیہ کی ہلاکت کے واقعہ کے ساتھ جو تفصیلات جڑی ہیں انہیں دیکھتے ہوئے یہ بات یکساں طور پر آسانی اور افسوس کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ پنجاب حکومت نے مفاد عامہ سے وابستہ محکموں کے لوگوں کو جدید آلات تو دیئے مگر شاید ضرورت کے مطابق ا ن میں انسانیت اور انسانی خدمت کا جذبہ پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی۔ یوں لگتا ہے جیسے پنجاب میں مفاد عامہ کے لیے کام کرنے والے محکموں سے وابستہ لوگوں کی کیپسٹی بلڈنگ کے وقت ان میں انسانی خدمت کا جذبہ اجاگر کرنے سے زیادہ یہ سکھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ انہیں اپنی کوتاہیاں منظر عام پر آنے سے کیسے روکنی ہیں اور اس مقصد کے تحت میڈیا مینجمنٹ کا کام کیسے کرنا ہے۔ گٹر پر دھکن نہ رکھنے کی غفلت کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھنے کے لیے جس رویے کا مظاہرہ کرتے ہوئے سعدیہ کے خاوند پر اپنی ہی بیوی اور بچی کو گٹر میں پھینکنے کا الزام عائد کر دیا گیا، اس رویے سے بہت کچھ اخذ کیا جاسکتا ہے۔ اگر جائے حادثہ پر لوگ اکٹھے نہ ہوئے ہوتے اور پولیس سعدیہ کے خاوند کو ہجوم کے اکٹھا ہونے سے پہلے ہی وہاں سے اپنے کسی حراستی مرکز میں لے گئی ہوتی تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ میڈیا مینجمنٹ کر کے آنے والے وقت میں عوام کو کس قسم کی کہانی سنائی جاچکی ہوتی۔

جواب دیں

Back to top button