’’ مدر آف آل ڈیلز‘‘

’’ مدر آف آل ڈیلز‘‘
قادر خان یوسف زئی
بھارت اور یورپی یونین کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو بعض حلقے’’ مدر آف آل ڈیلز‘‘ کہہ کر پیش کر رہے ہیں، مگر تجارت کی دنیا میں بڑے عنوان اکثر چھوٹی شقوں کے محتاج ہوتے ہیں۔ یہاں اصل سوال یہ نہیں کہ خبر کتنی بڑی ہے، بلکہ یہ ہے کہ معاہدے کے بعد روزمرہ کی عملی دنیا میں بھارت کو کن قواعد، کن پابندیوں، کن نگرانی کے نظام اور کن اندرونی سیاسی و معاشی دبا کا سامنا ہوگااور یہ دبائو کس طرح اس ڈیل کی چمک کم کر سکتا ہے۔ سب سے پہلی خامی خود اس بیانیے میں چھپی ہے جسے سہولت کے لیے ’’ 27یورپی ممالک سے ڈیل‘‘ بنا کر بیان کیا جا رہا ہے۔ یورپی یونین واقعی 27رکن ریاستوں پر مشتمل ہے، لیکن تجارت کے بڑے فیصلے انفرادی ملک نہیں بلکہ یورپی یونین بطور بلاک کرتی ہے۔ یعنی بھارت کے لیے یہ الگ الگ بازاروں سے آزادانہ سودے بازی نہیں، بلکہ ایک ایسے متحدہ نظام سے معاہدہ ہے جس کے قوانین، ضابطے اور تعمیل کی شرائط بہت حد تک مرکز ( برسلز) سے طے ہوتی ہیں۔ اس حقیقت سے ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ اگر کہیں رکاوٹ آئے گی تو وہ پرچموں اور دارالحکومتوں کی تعداد سے نہیں، یورپی یونین کے ریگولیٹری ڈھانچے کی سختی سے آئے گی۔
تجارتی معاہدوں میں صرف ٹیرف کم ہونا ہی کہانی نہیں ہوتا، اصل کہانی نان ٹیرف بیریئرز اور ریگولیشن کی زبان میں لکھی جاتی ہے۔ یورپی یونین نے اپنے موقف میں بار بار ایک شفاف، کھلا، غیر امتیازی اور قابلِ پیش گوئی ریگولیٹری و کاروباری ماحول کو مقصد کے طور پر بیان کیا ہے۔ یہ الفاظ کاغذ پر نرم لگتے ہیں، مگر عملی طور پر اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ بھارت کی پالیسی سازی، لائسنسنگ، معیارِ صحت و حفاظت، ماحولیاتی ضابطے، اور مارکیٹ تک رسائی کے فیصلے زیادہ سخت بینچ مارک پر پرکھے جائیں گے۔ جہاں ریاست کے ہاتھ میں پالیسی کا اختیار زیادہ ہو، وہاں شفافیت اور پیش گوئی کا مطالبہ اکثر کنٹرول کے ڈھانچے سے ٹکراتا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں بڑے دعوے چھوٹے تنازعات میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔
یہ معاہدہ وسیع ٹیرف کوریج کی بات کرتا ہے، مگر یہاں بھی تصویر مکمل نہیں۔ یورپی یونین کی اپنے ہی خلاصہ دستاویز کے مطابق یورپی یونین 90فیصد سے زائد ٹیرف لائنز پر محصولات ختم کرنے کی بات کرتی ہے، جبکہ بھارت 86 فیصد ٹیرف لائنز پر، اور کچھ جگہوں پر مکمل نہیں بلکہ جزوی لبرلائزیشن کا ذکر آتا ہے۔ یہ اعداد بظاہر متاثر کن ہیں، مگر ان کے پیچھے کون سے شعبے چھپے ہیں، یہ وہ سوال ہے جو معاشی فائدے کی اصل سمت طے کرتا ہے۔ اگر کسی ملک کے لیے سیاسی طور پر حساس یا روزگار دینے والے شعبے مکمل آزاد نہ ہوں تو معاہدے کی کامیابی کا تناسب سرخیوں کے بجائے صنعتی اعدادوشمار میں نظر آتا ہے۔اور یہی وہ جگہ ہے جہاں خامی واضح ہوتی ہے۔ یورپی یونین نے خود زرعی حساسیت کی بنیاد پر کئی اشیاء میں رعایت نہ دینے کی بات کی ہے، جن میں چینی؍ایتھانول، چاول؍نرم گندم، بیف؍پولٹری، اور دودھ کے پائوڈر جیسی اشیاء شامل بتائی گئی ہیں۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ جس شعبے میں بھارت جیسی معیشتیں نسبتاً زیادہ لوگوں کو روزگار دیتی ہیں یا جسے سیاسی طور پر طاقتور حلقے ریڈ لائن سمجھتے ہیں، وہاں یورپ اپنے داخلی مفادات کے تحت دروازہ مکمل نہیں کھولتا۔ چنانچہ معاہدہ مکمل رسائی کے تاثر کے ساتھ بیچا جائے تو حقیقت میں وہ رسائی کئی جگہ محدود، مشروط یا استثنائی ہو سکتی ہے۔
اس ڈیل کی ایک بڑی خامی یہ ہے کہ یہ تجارت کو محض سامان کی فہرست نہیں سمجھتی، بلکہ اسے اقدار اور معیار کے نظام سے جوڑتی ہے۔ یورپی یونین کے خلاصے میں ٹریڈ اینڈ سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ (TSD)کا ذکر موجود ہے اور بنیادی آئی ایل او اصولوں کی طرف حوالہ بھی آتا ہے۔ یہاں خامی اصول میں نہیں، نفاذ کے طریقہ کار میں چھپی ہے۔ جب تجارتی شقیں سماجی و ماحولیاتی معیار سے جڑ جائیں تو پھر تنازع صرف قیمت یا ٹیرف کا نہیں رہتا، کمپلائنس اور مانیٹرنگ کا بن جاتا ہے۔ کیونکہ یورپی مارکیٹ میں رسائی اکثر کاغذی رعایت سے زیادہ سرٹیفیکیشن اور اسٹینڈرڈ کی چھلنی سے گزرتی ہے۔
ڈیٹا اور خدمات کے میدان میں بھی یہ معاہدہ بھارت کے لیے آسان راستہ نہیں، بلکہ ایک تنگ پُل ہے۔ رپورٹس کے مطابق بھارت ڈیٹا سکیور حیثیت چاہتا ہے اور پروفیشنلز کی نقل و حرکت میں آسانی کی خواہش رکھتا ہے، جبکہ یورپی یونین مالیاتی اور قانونی خدمات میں زیادہ رسائی، اور محنت، ماحول اور دانشورانہ ملکیت جیسے معاملات میں یقین دہانیوں پر زور دیتی ہے۔ یہ اہداف بیک وقت پورے کرنا مشکل ہوتا ہے، کیونکہ ڈیٹا گورننس اور خدمات کی مارکیٹ میں کھلا پن اکثر قومی خودمختاری، ریگولیٹری گرفت اور داخلی سیاسی ترجیحات سے ٹکراتا ہے۔ یہ دو طرفہ دبا خود معاہدے کی کمزور رگ ہے۔ دانشورانہ ملکیت (IP)کا معاملہ بھی اسی کمزور رگ کا حصہ ہے، کیونکہ یہاں کسی ایک شق کی تعبیر کاروباری دنیا کے اربوں کے فیصلوں کو متاثر کرتی ہے۔ امریکی تجارتی نمائندے کی 2025ء اسپیشل 301رپورٹ میں بھارت کو پرائیرٹی واچ لسٹ میں رکھا گیا ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ IPکے حوالے سے بھارت پر بین الاقوامی سطح پر پہلے ہی تنقید اور دبائو موجود ہے۔
یہاں ایک اور بنیادی خامی بھی ہے۔ بڑی ڈیلیں اکثر بیرونی کامیابی کے طور پر پیش کی جاتی ہیں، مگر ان کی اصل آزمائش اندرونی اصلاحات ہوتی ہیں۔ یورپی یونین کا زور ریگولیٹری ماحول کے شفاف اور غیر امتیازی ہونے پر ہے۔ امریکہ کے پاس پہلے سے وہ رسمی راستے موجود ہیں جن کے ذریعے وہ بھارت سمیت مختلف ممالک کی تجارتی رکاوٹوں کی نشاندہی کرتا ہے، جیسے نیشنل ٹریڈ ایسٹیمیٹ(NTE)رپورٹ میں بیرونی تجارتی رکاوٹوں کی فہرست اور اسپیشل 301کے تحت IPسے متعلق تشویشات۔ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ ان دستاویزی نکات کی بنیاد پر بھارت کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات میں سخت موقف اپنا سکتی ہے یا امریکی صنعت کے لیے متبادل مواقع اور ترجیحات ترتیب دے سکتی ہے، مگر یہ سب اسی صورت میں قابلِ دفاع ہوگا جب وہ پہلے سے موجود سرکاری دستاویزات میں درج معاملات پر قائم رہے۔
یہی ریاستی ردعمل کا وہ فیکٹ بیسڈ طریقہ ہے جس میں نہ شور کی ضرورت ہوتی ہے، نہ مبالغے کی صرف وہی بات جو ریکارڈ میں ہے، اور وہی قدم جو قانون کے اندر ہے۔ اس پورے منظرنامے میں بھارت کی ڈیل کی خامیوں کو ایک سطر میں یوں سمجھا جا سکتا ہے، معاہدہ جتنا بڑا ہے، اس کی عملداری اتنی ہی کڑی ہے۔ یورپی یونین کے ساتھ تجارت میں اصل کامیابی سستی سرخی نہیں، بلکہ پیچیدہ معیار، تعمیل، اور ریگولیٹری ہم آہنگی کی وہ مسلسل محنت ہے جو برسوں میں رنگ لاتی ہے۔ اگر یہ ہم آہنگی ادھوری رہی تو ٹیرف میں چھوٹ بھی برآمدات کو وہ رفتار نہیں دے سکے گی جس کی تصویر عوام کے سامنے رکھی جا رہی ہے۔





