ایران، امریکا کشیدگی

ایران، امریکا کشیدگی
حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی قیادت کے درمیان جاری بیانات نے عالمی سطح پر کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ کردیا ہے۔ صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی دھمکی دی اور کہا کہ ایران نے پہلے بھی ان کی وارننگ کو نظرانداز کیا تھا، جس کے نتیجے میں آپریشن ’’ مڈنائٹ ہیمر‘‘ کے تحت سخت اقدامات کیے گئے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے دوبارہ تنبیہ کو نظر انداز کیا تو اس کے لیے مزید خطرناک ہوگا اور اسے وسیع حملوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ان کے مطابق، ایران کے لیے وقت تیزی سے ختم ہورہا ہے اور وہ فوری طور پر جوہری معاہدے کے لیے مذاکرات کی میز پر واپس آئے۔ صدر ٹرمپ کا اصرار ہے کہ اس بار ایسا معاہدہ کیا جائے جو ایران میں جوہری ہتھیار نہ ہونے کی ضمانت دے اور عالمی برادری کے لیے بہتر ہو۔ دوسری جانب ایران کی قیادت نے بھی سخت موقف اختیار کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ دھمکیوں کے ماحول میں مذاکرات ممکن نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بات چیت صرف اسی وقت ممکن ہے جب غیر معمولی مطالبات اور دبا ختم ہو۔ عراقچی نے واضح کیا کہ ایران نے ہمیشہ شفاف جوہری معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے اور ایسا معاہدہ ہونا چاہیے جو ایران کے حقوق کو یقینی بنائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی فورسز کسی بھی جارحیت کے جواب کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور ان کی انگلیاں ہمیشہ ٹریگر پر ہیں ۔ اسی طرح، ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر علی شامخانی نے بھی اعلان کیا کہ اگر امریکا کسی فوجی کارروائی کی کوشش کرے تو ایران فوری، مکمل اور مثالی ردعمل دے گا۔ انہوں نے کہا کہ محدود حملے کی بات ایک فریب ہے اور امریکی حملے کے نتائج ناقابل پیش گوئی ہوں گے۔ ایران کی قیادت کی یہ واضح پوزیشن عالمی برادری کے لیے ایک اہم انتباہ ہے کہ کسی بھی جارحیت کے نتائج نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر خطرناک ہوسکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ایران پر دبا بڑھانے کے لیے بڑے بحری بیڑے کی حرکت کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ بیڑا ضرورت پڑنے پر طاقت اور تشدد کے ذریعے اپنا مشن مکمل کرنے کا اہل ہے۔ انہوں نے ایران سے امید ظاہر کی کہ وہ جلد از جلد مذاکرات کی میز پر آئے گا اور منصفانہ اور مساوی معاہدے پر بات چیت کرے گا، جس میں کوئی جوہری ہتھیار نہ ہوں اور جو تمام فریقین کے لیے بہتر ہو۔ یہ کشیدہ صورت حال دنیا کے لیے کئی پہلوں میں خطرناک ہے۔ سب سے پہلے، یاد رکھنا چاہیے کہ جنگ صرف فوجی نتائج نہیں لاتی بلکہ اس کے انسانی، اقتصادی، سماجی اور ماحولیاتی اثرات بھی تباہ کن ہوتے ہیں۔ تاریخ نے بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ عالمی تنازعات میں انسانی جانوں کا ضیاع، بنیادی ڈھانچوں کی تباہی اور عالمی معیشت کی تباہی ناقابل برداشت سطح تک پہنچ جاتی ہے۔ اس تناظر میں کسی بھی ملک کی فورسز کی حرکت یا دھمکی دنیا کو امن اور استحکام کے راستے سے ہٹا سکتی ہے۔ دوسرا پہلو یہ ہے کہ فوجی اقدامات کا اثر صرف مقابل فریق تک محدود نہیں رہتا۔ موجودہ عالمی تعلقات اور اقتصادی انحصار کے دور میں ایک ملک کی کارروائی کا اثر دیگر ممالک کی معیشت، توانائی کی قیمتوں، عالمی تجارت اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر، ایران جیسے اہم تیل اور گیس پیدا کرنے والے ملک کے خلاف فوجی کارروائی عالمی توانائی کی مارکیٹ میں بحران پیدا کر سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت پر مہنگائی اور مالی عدم استحکام کی صورت میں ظاہر ہوں گے۔ تیسرا اور سب سے اہم پہلو انسانی جانوں کا ہے۔ ہر فوجی کارروائی میں عام شہریوں کو سب سے زیادہ نقصان ہوتا ہے۔ حالیہ عالمی تنازعات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ شہری علاقوں پر بم باری، بنیادی سہولتوں کی تباہی اور مہاجرین کا بحران انسانی تباہی کے نمایاں مظاہر ہیں۔ ایسے میں کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزی کے مترادف ہے اور عالمی قوانین کے دائرے میں شدید مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔ اس سب کے باوجود، مذاکرات اور بات چیت ہمیشہ سب سے بہتر اور پائیدار حل ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان اگرچہ اعتماد کی کمی ہے، مگر یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ مسئلے کا حل طاقت اور دھمکی سے نہیں بلکہ ڈائیلاگ، سمجھوتے اور مشترکہ مفاد کی بنیاد پر نکلتا ہے۔ شفاف مذاکرات، معقول شرائط اور عالمی ثالثوں کی مدد سے ایک ایسا معاہدہ ممکن ہے جو نہ صرف ایران کے حقوق کو یقینی بنائے بلکہ عالمی برادری کے لیے بھی سلامتی اور استحکام فراہم کرے۔ عراقچی اور شامخانی کے بیانات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ایران دفاعی موڈ میں ہے اور اس کا مقصد اپنی سلامتی اور قومی مفادات کی حفاظت ہے۔ اگر امریکا یا کسی اور ملک نے جارحیت کی تو اس کے جواب میں ایران فوری ردعمل دے سکتا ہے، جس کے نتائج ناقابلِ پیش گوئی اور مہلک ہوسکتے ہیں۔ اسی لیے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور دیگر طاقتور ممالک کی ذمے داری ہے کہ وہ تنازع کو بڑھنے سے بچائیں اور مذاکرات کے راستے کو فروغ دیں۔ یہ معاملہ صرف دو ملکوں کا نہیں بلکہ پوری دنیا کا ہے۔ اگر جنگ شروع ہوئی تو اس کے اثرات عالمی امن، انسانی حقوق، معیشت اور ماحولیات پر تباہ کن ہوں گے۔ اس لیے طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دینا ضروری ہے۔ جنگ کے راستے پر چلنا صرف عارضی فائدہ دے سکتا ہے مگر اس کے طویل مدتی نقصانات ناقابل برداشت ہوں گے۔ آج دنیا کو یاد رکھنا چاہیے کہ کلام اور بات چیت سے مسائل حل ہوتے ہیں، دھمکی اور طاقت سے نہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے حل کے لیے عالمی ثالثوں کا کردار اہم ہے تاکہ دونوں فریقین کے مفادات کا تحفظ ہو اور کسی بھی قسم کی غیر ضروری انسانی تباہی سے بچا جا سکے۔ آخر میں، ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ انسانی زندگی، امن اور ترقی عالمی مفادات سے کہیں زیادہ قیمتی ہیں۔ دنیا جنگ کی متحمل نہیں ہوسکتی اور کسی بھی ملک کو چاہیے کہ وہ تشدد اور جارحیت کے بجائے مذاکرات، سمجھوتے اور مشترکہ مفاد کے اصولوں کے تحت مسائل حل کرے۔ اسی میں نہ صرف انسانی جانوں کا تحفظ ہے بلکہ عالمی امن، اقتصادی استحکام اور دیرپا تعلقات کی ضمانت بھی ہے۔
پولیو کے مکمل خاتمے کا عزم
پاکستان میں پولیو کا مکمل خاتمہ ایک چیلنج بنا ہوا ہے، اس کے لیے حکومت کی کوششیں کسی سے پوشیدہ نہیں، وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر پولیو کے مکمل خاتمے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں جامع حکمت عملی اور مثر ٹیم کے ساتھ عملی اقدامات جاری ہیں اور حکومت جلد پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔ اس عزم کا اظہار انہوں نے بل گیٹس فانڈیشن کے صدر برائے عالمی ترقی، کرس ایلیاس کی سربراہی میں وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ انسداد پولیو کے اقدامات میں بل گیٹس فائونڈیشن جیسے قابل اعتماد شراکت داروں کے تعاون کا بہت اہم کردار ہے۔ ساتھ ہی سعودی عرب سمیت دیگر مسلم برادر ممالک کے تعاون کو بھی سراہا گیا، جو پاکستان کی انسداد پولیو کی مہم میں معاون ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ماضی میں قابل ذکر کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، تاہم پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر مزید اقدامات ضروری ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے یہ بھی بتایا کہ وفاقی حکومت صوبوں کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ کام کررہی ہے تاکہ ملک کے طول و عرض میں پولیو ٹیموں کی رسائی ممکن بنائی جاسکے۔ انسداد پولیو کے لیے جاری پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت مختلف منصوبے بھی مکمل رفتار سے جاری ہیں۔ وزیراعظم نے ہدایت دی کہ وفاقی وزارت صحت تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر عوام میں شعور بیدار کرنے اور ویکسین کی فراہمی کے جامع اقدامات تیار کرے۔ ملاقات میں وفاقی وزیر برائے پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ احسن اقبال، وفاقی وزیر برائے صحت مصطفیٰ کمال، وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو عائشہ رضا فاروق اور دیگر سرکاری عہدیدار بھی موجود تھے۔ وفد نے پاکستان میں انسداد پولیو کی کامیابیوں پر اعتماد کا اظہار کیا اور بل گیٹس کی جانب سے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا۔ وفاقی وزراء نے بھی تعاون کی اہمیت اور جاری اقدامات کے موثر نتائج پر زور دیا۔ یہ ملاقات ایک واضح پیغام دیتی ہے کہ پاکستان انسداد پولیو کے عالمی مشن میں سنجیدہ ہے۔ شراکت داروں کے تعاون کے ساتھ عملی اقدامات، عوامی آگاہی اور مضبوط حکمت عملی ہی وہ راستے ہیں جو ملک کو اس موذی مرض سے آزاد کر سکتے ہیں۔ بچوں کی صحت اور مستقبل کے لیے یہ جنگ جاری رہنی چاہیے اور عالمی معاونت کے ساتھ قومی عزم اس کو ممکن بنا سکتا ہے۔







