مصنوعی ذہانت اور صحت کا مستقبل: پاکستان کے لیے ایک نیا باب

مصنوعی ذہانت اور صحت کا مستقبل: پاکستان کے لیے ایک نیا باب
تحریر: فیصل فاروقی
مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence)اب محض تصور یا مستقبل کی ٹیکنالوجی نہیں رہی، بلکہ یہ دنیا بھر میں صحت کے نظام کو عملی طور پر تبدیل کر رہی ہے۔ امریکہ، یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا کے ترقی یافتہ ممالک میں AI کی مدد سے تشخیص کے طریقے بہتر ہو رہے ہیں، علاج کے فیصلے زیادہ درست بن رہے ہیں اور صحت کی سہولیات کو موثر، تیز اور قابلِ اعتماد بنایا جا رہا ہے۔ ایسے میں یہ سوال بے حد اہم ہے کہ کیا پاکستان اس عالمی طبی انقلاب میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے؟
عالمی سطح پر صحت کے نظام میں تبدیلی
دنیا بھر میں صحت کے نظام کو بے پناہ دبائو کا سامنا ہے۔ مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، ڈاکٹروں پر کام کا بوجھ، پیچیدہ دستاویزی تقاضے اور انتظامی مسائل نے روایتی نظامِ علاج کی کمزوریوں کو نمایاں کر دیا ہے۔ ان حالات میں مصنوعی ذہانت ایک طاقتور معاون کے طور پر سامنے آئی ہے، جو تشخیص میں مدد، علاج کی منصوبہ بندی، ڈیٹا کے تجزیے اور وقت کے بہتر استعمال کے ذریعے صحت کے شعبے کو نئی جہت دے رہی ہے۔
پاکستان کے لیے ایک سنہری موقع
پاکستانی ڈاکٹروں کا شمار دنیا کے بہترین طبی ماہرین میں ہوتا ہے۔ امریکہ، برطانیہ، یورپ اور خلیجی ممالک میں پاکستانی ڈاکٹر اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔ تاہم، ملک کے اندر اکثر ڈاکٹر محدود وسائل، شدید دبائو اور جدید ٹیکنالوجی تک ناکافی رسائی کے باعث اپنی مکمل صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لا پاتے۔ یہی وہ خلا ہے جہاں مصنوعی ذہانت پاکستان کے لیے ایک سنہری موقع بن سکتی ہے۔
ایک ذاتی مشن، عالمی تجربے کے ساتھ
اس قومی نوعیت کے اقدام کے پیچھے امریکی تجربے سے لیس پاکستانی ٹیکنالوجسٹ فیصل فاروقی ہیں، جو پاکستان میں صحت کی شعبے میں مصنوعی ذہانت کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ ان کا مقصد عالمی معیار کی ٹیکنالوجی اور مقامی ضروریات کے امتزاج سے ایک ایسا نظام متعارف کرانا ہے جو پاکستانی ڈاکٹروں اور مریضوں دونوں کے لیے یکساں طور پر فائدہ مند ہو۔
صرف ٹیکنالوجی نہیں، صلاحیت سازی
یہ اقدام محض کسی سافٹ ویئر یا ٹول کے اجراء تک محدود نہیں، بلکہ ایک فکری اور تعلیمی تحریک ہے۔ اس کا مقصد پاکستانی ڈاکٹروں کو مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال سے روشناس کرانا، ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنا اور انہیں مستقبل کے تقاضوں کے مطابق تیار کرنا ہی تاکہ وہ عالمی معیار کے ساتھ ہم قدم ہو سکیں۔
آگے کا راستہ
دنیا تیزی سے ایک ایسے صحت کے نظام کی جانب بڑھ رہی ہے جو ذہین، مربوط اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہو۔ پاکستان کے پاس آج ایک تاریخی موقع ہے کہ وہ اس بدلتے ہوئے منظرنامے کا حصہ بنے، اپنے صحت کے نظام کو مضبوط کرے اور عوام کو بہتر، تیز اور معیاری طبی سہولیات فراہم کرے۔ درست حکمتِ عملی، وژن اور ٹیکنالوجی کے موثر استعمال سے پاکستان بھی اس نئے باب کا کامیاب کردار بن سکتا ہے۔





