Column

ٔٔٔخود احتسابی

ٔٔٔخود احتسابی
حافظ محمد قاسم مغیرہ
’’ As long as you pretend to be healthy, there is no healing for you‘‘
دوستیووسکی کا یہ قول بہت بامعنی ہے۔ افراد ، اقوام ، معاشرے، اہل سیاست اور ریاست سے اس کا براہ راست تعلق ہے۔ اصلاح خواہ فرد کی ہو یا معاشرے اور قوم کی ، اس کا آغاز بیماری کے تسلیم کرنے سے ہوتا ہے۔ اگر مریض خود کو مریض ہی تسلیم نہ کرے تو وہ صحت مند ہونے کی غلط فہمی کا شکار تو ہوسکتا ہے لیکن کبھی صحت مند نہیں ہو سکتا۔ افراد ، معاشروں، اقوام ، اہل سیاست اور ریاست کی اصلاح کا آغاز مرض کی تشخیص اور اس کے درست علاج سے ہوسکتا ہے۔
ہر فرد کی لیے ضروری ہے کہ خود کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کرے ، خود سے سوال کرے اور اپنے رویوں کی اصلاح کرے۔ اس کا آغاز مرض کو مرض تسلیم کرنے سے ہوتا ہے۔ جو شخص اپنی بیماری سے واقف نہیں یا اس سے نظریں چراتا ہے، کسی حکیم ، حاذق اور طبیب سے رجوع نہیں کرے گا۔ اسی طرح جو شخص اپنی خامیوں سے واقف نہیں ہے، اصلاح احوال کی طرف متوجہ نہیں ہوگا۔ اصلاح کے طالب ہر شخص کے لیے ضروری ہے سب سے پہلے اپنی کجیوں اور کمیوں کا اعتراف کرے۔ یہ اعتراف ہی اصلاح کا نکتہ آغاز ہے۔ اپنی شخصیت کی خامیوں کا اعتراف کیے بغیر کوئی شخص دھوکے میں تو رہ سکتا ہے، تعمیر شخصیت کا سفر شروع نہیں کر سکتا۔ ہر فرد کو غور کرنا چاہیے کہ اس کے اخلاق و کردار میں کتنے رویے منفی ہیں اور یہ کہ یہ رویے اس کے مزاج کا حصہ کیوں بن گئے ہیں اور ان کا تدارک کس طرح ہوسکتا ہے۔ کسی کوشش میں ناکام ہونے والے شخص کو اپنی ناکامی کے اسباب کا جائزہ لے کر ، اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے، عزم نو سے لیس ہوکر پھر سے میدان عمل میں اترنا چاہیے۔
بطور معاشرہ بھی ہمیں سب سے پہلے یہ تسلیم کرنا چاہیے معاشرتی سطح پر سب اچھا نہیں ہے۔ سماج میں بہت سی خرابیاں، جو شکست و ریخت کا سبب بن رہی ہیں، در آئی ہیں۔ یہ سماج کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں۔ اس طرح ہم ایک بیمار معاشرہ بن رہے ہیں۔ دولت کی نمود و نمائش تیزی سے ابھرتا ہوا ایک سماجی روگ ہے۔ اگرچہ یہ روگ بہت پرانا ہے لیکن سوشل میڈیا سے اسے مہمیز ملی ہے۔ اب یہ سرطان بن کر سماج میں بہت گہرا سرایت کر چکا ہے۔ اس سے نکلنے کی کوئی سبیل دکھائی نہیں دیتی، کوئی راستہ سجھائی نہیں دیتا۔ نمود و نمائش کے اس کلچر کے سبب ایک طرف رقص و سرود کی محافل سجتی ہیں تو دوسری طرف لوگ دو وقت کی روٹی کے لیے ترستے ہیں، ایک طرف درہم و دینار کی فراوانی ہے تو دوسری طرف مفلسی ، ایک طرف سیم و زر کے انبار ہیں تو دوسری طرف بھوک، ایک طرف خدم و حشم ہے تو دوسری طرف فاقہ کشی۔ معاشرے میں صدیوں سے پروان چڑھنے والا ایک مسئلہ ذات پات کے بندھن ہیں۔ ایک طبقے کا خود کو برتر سمجھنا اور دوسروں کو کم تر سمجھنا ایک سماجی بیماری ہے۔ برہمن اور شودر کی تقسیم آج بھی کسی نہ کسی شکل میں رائج ہے۔ ایک تیسرا بڑا معاشرتی روگ عورت دشمن ثقافت ہے۔ وطن عزیز کے چاروں صوبوں میں عورت دشمن رسوم و رواج صدیوں سے رائج ہیں۔ ان میں غیرت کے نام پر قتل، وراثت سے محرومی اور جبری شادی سر فہرست ہیں۔ ان معاشرتی بیماریوں کے علاج کے لیے ضروری ہے کہ ان سے صرف نظر کے بجائے ان کا وجود تسلیم کیا جائے اور ان کے علاج کا چارہ کیا جائے۔ بیماری کو بیماری تسلیم کیے بغیر علاج نہیں ہوسکتا۔
بطور قوم ہمیں شکست خوردگی، قنوطیت ، غلامی اور محکومی کی عادت ہوگئی ہے۔ دور غلامی نے لوگوں میں ایسے رویے پروان چڑھائے کہ معدودے چند لوگ ہی طاقت ور کے خلاف مزاحمت کر سکتے ہیں۔ اندھی سیاسی وابستگیوں کے باعث لوگوں نے اپنے حقوق فراموش کر دئیے ہیں اور صرف چہروں کی تبدیلی پر ہی قناعت کرلی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم حریت پسندی ، انصاف، مزاحمت، شعور اور سوال کے خوگر بنیں اور اپنے حقوق کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت کمر بستہ رہیں۔ سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر محض ایک قوم کے افراد ہونے کے ناطے ہمیں سچی اور کھری بات کرنی چاہیے۔
اہل سیاست کو سب سے بڑھ کر اپنے رویوں کی اصلاح کرنے کی ضرورت ہے۔ دہائیوں سے ہمارا سفر دائروں کا سفر ہے۔ ہم اقوام عالم سے بہت پیچھے ہیں۔ اہل سیاست کے پھیلائے تعصبات اور نفرتوں نے قوم کو متحد نہیں ہونے دیا۔ لسانی و صوبائی تعصبات نے قتل و غارت اور بھتہ خوری کو جنم دیا۔ ماضی کی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے رواداری ، تحمل اور جمہوری مزاج پیدا کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ مخالف سیاست دانوں کا مقابلہ جمہوری عمل سے کرنے اور غیر جمہوری راستوں سے بچنا از حد ضروری ہے۔ اہل سیاست کی ذمہ داری ہے کہ طرز کہن پر اڑنے کے بجائے آئین نو کو خوش آمدید کہیں۔ ایک دوسرے کے وجود کو برداشت کرتے ہوئے آگے بڑھیں۔ تشہیری ترقی کے بجائے پائیدار ترقی کے اہداف کا تعین کریں۔ نظام ریاست یوں چلائیں کہ ہر شہری کی جان، مال اور عزت محفوظ ہو۔ کوئی شہری خود کو بے سہارا نہ سمجھے۔ ایسے فیصلے نہ کیے جائیں کہ جن سے صرف اشرافیہ مستفید نہ ہو بل کہ ترقی حقیقی ہو اور اس کے ثمرات عام آدمی تک پہنچیں۔ عدالتی اصلاحات ، انتظامی اصلاحات، معاشی اصلاحات اور تعلیمی اصلاحات کے ساتھ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔
طاقت ور حلقوں کو بھی اپنے مرض کو مرض تسلیم کرنے اور پیشہ ورانہ رویہ اپنانے کی ضرورت ہے۔ قیادت کے انتخاب کا فیصلہ عوام پر چھوڑ دینے میں ہی ملک کی بھلائی ہے۔ ہیرو اور ولن بنانے کی فیکٹری اب بند ہو جانی چاہیے۔ خود احتسابی فرد، معاشرے ، قوم، اہل سیاست اور طاقت ور حلقوں کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ یہ عمل اپنی خامیوں اور کجیوں کے اعتراف کے بغیر ممکن نہیں۔
صاحب نہج البلاغہ حضرت علی مرتضیٰ ؓ کا قول ہے کہ
’’ لوگوں میں سب سے زیادہ کامل وہ ہے جو سب سے زیادہ اپنی غلطیوں سے واقف ہے‘‘۔

جواب دیں

Back to top button