مذاکرات یا جنگمحمد

مذاکرات یا جنگمحمد
مبشر انوار
قارئین کرام! جنگوں کے حوالے سے لائحہ عمل آج بھی وہی بنیادی ہے کہ دشمن کو گھیر کر ایسی جگہ لے آئو کہ وہ خود بخود شکست تسلیم کر لے یہ الگ بات کہ غیرت مند قومیں اور ملک ہمیشہ میدان جنگ میں کام آئے ہیں اور کبھی بغیر لڑے شکست تسلیم نہیں کرتے۔ گو کہ موجودہ دور میں بھی جنگیں اسی طرز پر لڑی جاتی ہیں لیکن اب میدان جنگ کا نقشہ ماضی کی نسبت بدل چکا ہے اور تیر وتفنگ و تلوار کی جگہ آتشیں اسلحہ ، بم و بارود ، فضائی و بحری حملوں نے لے لی ہے جس میں انتہائی خطرناک ہتھیار زیر استعمال ہیں۔ ان ہتھیاروں کی خطرناکی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ نہ صرف دشمن کے اسلحہ کو سیکنڈوں میں غیر فعال کر دیتا ہے بلکہ انسانی جسموں کو بھی مفلوج کر دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ اسلحہ کی غیر فعالیت ، اس کے الیکٹرانکس نظام کو منجمد کر کے کی جاتی ہے۔ ہتھیاروں کے نظام کو چلانے والا لاکھ بٹن دباتا رہے لیکن اس کے دفاعی ہتھیاروں کے بٹن ، دشمن اپنے قابو میں کر چکا ہوتا ہے، مراد اسلحہ ہے تو میرا مگر اس کا استعمال میرے دشمن کے ہاتھ میں ہے اگر وہ چاہے تو میں اس کو استعمال کر سکوں اگر وہ میرے اسلحہ کو جام کر دے ، تو میرا اسلحہ ناکارہ اور فضول ثابت ہو گا جو عین وقت ضرورت مجھے دھوکہ دے جائے گا۔ دراصل یہ میرے اسلحہ کا دھوکہ نہیں کہ اگر اس کا کنٹرول میرے ہاتھ میں رہے تو میں اس کو بروقت استعمال کر سکوں لیکن چونکہ میرا دشمن اس پر قابو پا چکا ہے، اس لئے میرا اسلحہ اب میرا رہا ہی نہیں بلکہ اس کا مالک میرا دشمن ہو چکا اور میرے دشمن کو یہ مجھ پر یہ برتری کیوں ملی؟ کیونکہ اس کے پاس میرے اسلحہ سے برتر ٹیکنالوجی موجود ہے، جو میرے اسلحہ کو بوقت ضرورت غیر فعال کر دیتی ہے، دوسرے الفاظ میں میرا دشمن مجھ سے دو قدم آگے کی سوچ کر چلا ہی جبکہ میں نے اپنے دفاع میں مجرمانہ غفلت کی ہے، کوتاہی برتی ہے، جس کا خمیازہ مجھے بھگتنا پڑے گا ، اپنے دشمن کو کمزور سمجھنے کی غلطی کی ہے، اپنے وسائل پر حد سے زیادہ اعتماد کیا ہے، جس پر سزا کا مستحق ہوں۔ یہ صورتحال ہمیں ماضی قریب میں لاطینی امریکہ میں دیکھنے کو ملی ہے کہ جہاں امریکہ نے وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو انتہائی سہولت کے ساتھ ان کے قصر صدارت سے اغوا کرکے بطور امریکی مجرم، امریکی عدالتوں میں پیش کر دیا ہے۔ اس اغوا میں وینزویلا کے ارباب اختیار کی غداری ہے جنہوں نے قصر صدارت کے حفاظتی اقدامات کی متعلق امریکہ کو معلومات فراہم کی ہیں اور ان معلومات کی بنیاد پر امریکہ نے وینزویلا کے صدر کو اغوا کرنے کا جو پلان بنایا ، اس میں ان تمام حفاظتی اقدامات سے برتر ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے، اپنے کسی بھی فوجی کی جان کو نقصان پہنچائے بغیر وینزویلا کے صدر کو اغوا کر لیا۔ امریکہ نے صرف مخالف کی ٹیکنالوجی کو ہی زیر نہیں کیا بلکہ نکولس مادورو کی حفاظت پر متعین اہلکاروں کے متعلق یہ خبریں بھی ملی ہیں کہ دوران کارروائی ان کے جسم مفلوج ہو چکے تھے اور وہ کسی بھی قسم کی مدافعت یا مزاحمت کرنے کے بھی قابل نہیں رہے تھی۔اس پس منظر کو ذہن میں رکھیں اور مشرق وسطی کی موجودہ صورتحال کا اندازہ لگائیں کہ امریکہ یہاں کیا کرنے جارہا ہے اور کیوں؟ جہاں تک سوال ہے کہ کیا کرنے جا رہا ہے تو آثار انتہائی واضح دکھائی دے رہے ہیں کہ امریکہ اس خطے میں مسلم ریاستوں کو ایک ایک کرکے نہ صرف کمزور بلکہ ان کی بقاء تک کو ختم کرنے کے درپے دکھائی دیتا ہے اور بدقسمتی سے یہاں بھی وہی اصول لاگو ہوتا ہے کہ مسلم ریاستوں کی جانب سے اپنی دفاعی صلاحیتوں میں کمزوری ان ریاستوں کی مجرمانہ غفلت کو ظاہر کرتی ہے کہ ان کے دشمن ان پر پلے پڑے ہیں لیکن یہ ریاستیں ان کے خلاف بروئے کار آنے میں تامل کا شکار دکھائی دیتی ہیں۔ غزہ میں جاری اسرائیلی نسل کشی پر امریکہ کو کوئی اعتراض نہیں لیکن غزہ کی حمایت میں بروئے کار آنے والے ، حوثی، حزب اللہ کا وجود امریکہ کو گوارا نہیں اور نہ ہی ایسی کوئی ریاست جو ان تنظیموں کی کسی بھی طرح مدد یا حمایت کرتی ہو۔ ایران کا یہی جرم ہے کہ وہ ان تنظیموں کی کھلے بندوں حمایت کرتا ہے بلکہ جہاں تک ممکن ہو سکے ان تنظیموں کے وجود کو برقرار رکھے ہوئے ہے، جس کی پاداش میں ایران نے اپنا اچھا خاصا نقصان کروایا ہے۔ اپنی سیاسی قیادت، عسکری قیادت کے علاوہ اپنے سائنسدانوں کی قربانی دی ہے، اپنے عوام کی قربانی دی ہے لیکن اپنے موقف سے پیچھے نہیں ہٹا، گو کہ ایران کا دفاعی نظام گذشتہ جارحیت میں ناکام ہوا لیکن اس دوران جو سبق ایران کو حاصل ہوا وہ زیادہ قیمتی تھا اور ایران نے درجنوں غیر ملکی جاسوسوں، جن پر انہیں حد سے زیادہ اعتماد اور بھروسہ تھا کو بے نقاب کیا ہے ، انہیں اپنے ملک سے نکالا ہے اور کئی ایک کو سخت سزائیں دی ہیں۔ علاوہ ازیں اسے اس معرکہ میں کم از کم اپنے اور غیر کی پہچان بخوبی ہوئی ہے اور اس پہچان کے باعث اب وہ زیادہ محتاط بھی ہے اور پر اعتماد بھی۔ بہر کیف امریکی تاریخ یہی ہے کہ وہ جس کے پیچھے پڑ جائے، اسے آسانی سے نہیں چھوڑتا، ایک عرصہ تک خلیجی ممالک کے درمیان مختلف حوالوں سے بد اعتمادی و نفرت کی دیواریں کھڑی کئے رکھی اور مشرق وسطیٰ کی امیر ریاستوں کے وسائل نوچتا رہا ہے، جو ابھی بھی جاری ہیں لیکن اب باہمی چپقلشوں کا باب کسی حد تک بند ہو چکا ہے جبکہ امریکہ ان باہمی چپقلشوں کو ہوا دینے کے لئے ، نئے مہروں تراش تو چکا ہے لیکن نئے مہرے کس قدر کارآمد ثابت ہوتے ہیں ان کے متعلق حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ اس وقت خلیج فارس کی ہوائیں انتہائی سے زیادہ کشیدہ ہو چکی ہیں کہ امریکی بحری بیڑےUSS IBRAHIM Lincolinاور USS GEORGE BUSHکے علاوہ کئی دیگر جنگی بیڑے یہاں موجود ہیں ۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ان کی پوزیشننگ اس وقت اومان کے سمندر میں ایسی ہے کہ وہ آسانی اور سہولت کے ساتھ ایران کی سرزمین پر جارحیت کر سکتے ہیں جبکہ ایرانی میزائلوں سے بچنے کے لئے امریکہ اومان میں حفاظتی سسٹم کی تنصیب کر چکا ہے۔ اس تمام انتظامات کے بعد امریکی میڈیا کی جانب سے یہ خبریں شائع ہو رہی ہیں کہ امریکہ ایران سے مذاکرات کے لئے تیار ہے اور چاہتا ہے کہ خطے میں جنگ نہ ہو لیکن اس کے لئے ایران کو امریکی شرائط تسلیم کرنا ہوں گی۔ امریکی شرائط کا ذکر کرتے ہوئے میڈیا کی جانب سے یہ کہا گیا ہے کہ ایران کو اپنا 60 فیصد افزودہ ،409 کلو گرام یورینیئم ،IAEAکے حوالے کرنا ہوگا، جس کو تلف کرنے کی ذمہ داری IAEAکی ہوگی۔ جس کے جواب میں ایران نے کہا ہے کہ گذشتہ امریکی حملہ ایسی سائٹ پر کیا اسی لئے کیا گیا تھا اور امریکی خود اس حملے کی کامیابی کی نوید سنا چکے ہیں لہٰذا یہ یورنیم اس سائٹ کے ملبے تلے ہی ہو سکتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے دوسری شرط سناتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایران اپنا میزائل پروگرام رول بیک کرے اور ایران اپنے میزائلوں کو زیادہ سے زیادہ تین سو کلومیٹر تک مار کرنے کی حد تک تیار کرے ، اب ہ ایسی شرط کو کون سی ریاست قبول کر سکتی ہے بالخصوص آج کی دنیا میں اور ایسے پس منظر میں جب کئی ایک ریاستیں اس کے ساتھ دشمنی کا کھلے بندوں اظہار بھی کر رہی ہوں۔ لہٰذا ایران کی طرف سے اس شرط کو بھی فی الفور مسترد کر دیا گیا ہے۔ مذاکرات کے لئے تیسری شرط ، غزہ میں حماس، لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثیوں کی حمایت سے ہاتھ اٹھانا شامل ہے جو موجودہ حالات میں ایران کے لئے کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہوگا اور ایران اس شرط کو بھی مستردکر چکا ہے۔ چوتھی اور آخری شرط ایران میں طرز حکومت تبدیل کرنے سے متعلق ہے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ ایران کا موجودہ ’’ رجیم چینج ‘‘ ہو جائے اور ایران میں وہ طرز حکومت ہو جسے امریکی آشیرباد حاصل ہو یہ شرائط بلا شک و شبہ ایران کی خود مختاری کے خلاف ہیں اور ایران ایسی شرائط کوکسی بھی صورت قبول نہیں کر سکتا ۔ تاہم ان شرائط سے یہ واضح ہے کہ امریکہ کی جانب سے ان شرائط کو محض اتمام حجت ہی کہا جائیگا اور پس پردہ اپنی تمام تیاریاں مکمل کرنے کے بعد ناقابل تسلیم شرائط پیش کرنا جن کے متعلق پہلے ہی علم ہو کہ انکار ہوگا، جارحیت کی راہ ہموار کرنے کے علاوہ کیا ہو سکتا ہے؟ رہی بات ایران کی تو یقینی طور پر جو ایران سے بن پڑا وہ اپنا دفاع کرے گا اور کون جانے کہ ایران کوئی سرپرائز دے دے اور وہ سرپرائز ایسا ہو کہ امریکہ جس کے اسرائیل کے لئے ’’حق دوستی‘‘ نبھا رہا ہے اس کے لئے مشکلات ہو جائیں۔ بہر طور مذاکرات یا جنگ کے درمیان ایسی شرائط پیش کرکے امریکہ نے لگتا ہے جنگ ہی کو چنا ہے۔







