کون جھوٹا کون سچا؟

کون جھوٹا کون سچا؟
نقارہ خلق ( امتیاز عاصی)
چند ہفتے پہلے ایک اردو معاصر میں وادی تیراہ کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر میںکہا گیا تھا کہ حکومت نقل مکانی کرنے والوںکو اڑھائی لاکھ اور پچاس ہزار روپے ماہانہ ادا کرے گی۔ خبر کے مطابق وادی تیراہ کے رہنے والوں کی نقل مکانی کا فیصلہ مقامی جرگہ کے فیصلے کی روشنی میںکیا گیا جس کے بعد لوگوں کی نقل مکانی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ایک اردو معاصر میں شائع ہونے والی خبر میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا کہنا ہے وادی تیراہ کے لوگوں کو نقل مکانی پر مجبورکیا گیا ہے اور لوگوں کو برفباری میںگھر چھوڑنے پر مجبور کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ کا موقف ہے جب کئی ہزار آپریشن کے باوجود امن قائم نہیں ہو سکا ہے۔انہوں نے اتوارکو پوری آفریدی قوم کو جرگہ بلانے کا بھی اعلان کیا ہے۔اس کے برعکس وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا بیان اردو اخبار میں لیڈ سٹوری شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے الزام لگایا ہے اصل جھگڑا بھنگ کی کاشت کا ہے۔انہوں نے واضح کیا وادی تیراہ میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہو رہا ہے سخت برفباری کی وجہ سے لوگوں کو وہاں سے نقل مکانی کرائی جا رہی ہے۔ انہوںنے کہا صوبائی حکومت کی مشاورت سے معاملات طے پائے ہیں جس کے بعد لوگوں کی نقل مکانی کا نوٹیفیکیشن جاری کیا گیا ۔ انہوں نے مزید وضاحت کی فوج کا اس معاملے میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ خواجہ آصف نے مزید وضاحت کی صوبائی حکومت اور مقامی جرگہ کے درمیان معاملات طے پانے کے بعد نقل مکانی شروع ہوئی ہے اور اس مقصد کے لئے پانچ ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جو نقل مکانی کرنے والوں میں تقسیم کئے جائیں گے۔ جہاں تک اس ناچیز کی معلومات کا تعلق ہے وادی تیراہ منشیات کا گڑھ ہے جہاں سے منشیات تیار ہو کر ملک کے دوسرے علاقوں میں بھیجی جاتی ہیں۔ ہماری معلومات کے مطابق وادی تیراہ افغانستان کے علاقے مزار شریف کے بعد منشیات تیار کرنے کا دوسرا بڑا مرکز ہے ۔ مجھے اس سلسلے میں معلومات اس لئے بھی ہیں سنٹرل جیل راولپنڈی میں قیدی کے دوران بی کلاس کے قیدی کی حیثیت سے مجھے جو مشقتی دیا گیا تھا اس کا تعلق وادی تیراہ سے تھا جس کا نام حافظ گل عزیز تھا۔ ہمارے پوچھنے پر اس نے بتایا تھا وہ وادی تیراہ سے چرس لے کر راولپنڈی آرہا تھا کہ گرفتار کر لیا گیا جس کے بعد اسے عدالت نے چند ماہ کی سزا سنائی تھی۔ حافظ گل عزیز کی سادگی کا یہ عالم تھا وہ مجھے ہر روز یاد دلایا کرتا تھا کہ آپ سپرنٹنڈنٹ جیل سے کہہ کر اسے رخصت لے کر دیں تاکہ وہ اپنی شادی کر سکے۔ حافظ گل عزیز نے یہ بھی بتایا تھا کہ اس کی شادی بالکل تیار تھی کہ وہ منشیات لاتے گرفتار ہو گیا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے سیاست دان ہر مسئلے کو سیاست سے جوڑنے میں ذرا دیر نہیں کرتے ۔ اگر وادی تیراہ سے سخت برفباری میں لوگوں کی نقل مکانی ہو رہی ہے تو اس میں کون سی قیامت آگئی ہے جو اتنا شور و غوغا کرکے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کی جا رہی ہے۔ ویسے بھی جن علاقوں میں منشیات تیار ہوتی ہے وہاں آپریشن ناگزیر ہے۔ منشیات تیار کرنے اور فروخت کرنے والے لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں لہٰذا اگر حکومت اس کھیل کو ختم کرنے کے درپے ہے تو اس میں کون سی برائی ہے جو وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اتنا شورو غوغا کر رہے ہیں۔ جب سے وزیراعلیٰ نے صوبے کا نظام سنبھالا ہے اڈیالہ روڈ ان کا مرکز ہوتا ہے ۔ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ کو اپنے منصب کا خیال رکھنا چاہیے، اگر اللہ کریم نے آپ کو موقع دے دیا ہے تو اپنے لوگوں کی خدمت کرو نہ کہ دھرنے اور جلسے کرکے معاملات کو مزید خراب کرنے کی کوشش کرو۔ جب سے وزیراعلیٰ نے صوبے کی وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالا ہے وہ کتنی مرتبہ راولپنڈی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لئے آچکے ہیں جنہیں سنٹرل جیل کے گیٹ تک نہیں آنے دیا گیا لہٰذا ہماری گذارش ہے وزیراعلیٰ صاحب بانی پی ٹی آئی کے معاملات کو مزید خراب کرنے کی بجائے انہیں سلجھانے کی کوشش کریں ٹکرائو کی سیاست سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، اللہ نے عوام کی خدمت کو موقع دیا ہے لوگوں کی بھلائی اور صوبے کی ترقی کے لئے کام کریں۔ بلاشبہ سہیل آفریدی بانی پی ٹی آئی سے حد درجہ مخلص ہیں لیکن انہیں حالات کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملات کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ پی ٹی آئی کے ورکر سانحہ ڈی چوک کے بعد یوں بھی دل برداشتہ ہیں ایسے میں سہیل آفریدی کو جذبات کی آگ سے نکل کر افہام و تفہیم سے معاملات کو درست سمت لے جانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ پی ٹی آئی اس وقت بھی عوام کی مقبول ترین جماعت ہے منصفانہ الیکشن جب بھی ہوئے عوام پی ٹی آئی کو ضرور ووٹ ڈالیں گے ۔ حکومت نے بانی پی ٹی آئی کو جیل میں ڈال کر پہلے سے زیادہ مقبول بنا دیا ہے ۔ وزیراعلیٰ کو بانی پی ٹی آئی کے علاوہ جو لوگ جیلوں میں ہیں انہیں قانونی امداد فراہم کرنے کے لئے جدوجہد کی ضرورت ہے۔ پی ٹی آئی کے لوگوں کو یہ شکایت بھی ہے ان کے جیلوں میں جانے کے بعد انہیں قانونی امداد کی فراہمی کے لئے پارٹی کی طرف سے خاطر خواہ اقدامات نہیں ہوئے ہیں ۔ حقیقت میں دیکھا جائے تو اداروں کے ساتھ ٹکرائو کی سیاست کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں نکلا بلکہ معاملات مزید بگڑ کا احتمال ہوتا ہے۔ وزیراعلیٰ نے پنجاب اور سندھ کا دورہ کرکے آٹھ فروری کے احتجاج کے لئے عوام کو متحرک کرنے کی کوشش کی ہے وہ قابل ستائش ہے۔ پرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا قانونی حق ہے جس سے اسے محروم نہیں رکھا جا سکتا۔ چار فروری کو عوام نے احتجاج میں بھرپور شرکت کی تو پی ٹی آئی کی بہت بڑی کامیابی ہوگی۔اگر میں یہ بات نہ کہوں تو غلط نہیں ہوگی بانی پی ٹی آئی کے ساتھ زیادہ تر تعداد طالع آزمائوں کی تھی جو مشکل وقت میں ساتھ چھوڑ گئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے جو لوگ مشکل کی گھڑی میں پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں وہ واقعی بانی پی ٹی آئی کے ساتھ مخلص ہیں۔ آخر میں ایک بات ضروری ہے بانی پی ٹی آئی کو اچھے اور برے لوگوں کی پہنچان نہیں شائد انہی وجوہات کی بنا وہ جیل میں ہیں۔ اس ناچیز نے خواجہ آصف اور سہیل آفریدی دونوں کی بات کردی عوام خود فیصلہ کریں کون سچا اور کون جھوٹا ہے۔





