Column

ملکی معیشت کیلئے نیا موقع

ملکی معیشت کیلئے نیا موقع
پاکستان ایک بار پھر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے ساتھ اپنے معاشی تعلقات کے اہم مرحلے میں داخل ہورہا ہے۔ ذرائع کے مطابق، تیسرے اقتصادی جائزے کے مذاکرات آئندہ ماہ متوقع ہیں اور اس کے لیے آئی ایم ایف کا جائزہ مشن پاکستان کا دورہ کرے گا۔ یہ جائزہ نہ صرف پاکستان کے مالیاتی پروگرام کی پیش رفت کو جانچنے کے لیے اہم ہے بلکہ ملکی معیشت کے لیے ایک اہم سنگ میل کے طور پر بھی دیکھا جارہا ہے۔ پاکستان کے لیے تیسرے اقتصادی جائزے کی کامیابی کے ساتھ ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط حاصل کرنے کا راستہ کھل جائے گا۔ یہ رقم ملکی مالیاتی استحکام کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ ذرائع کے مطابق، پاکستان کی اقتصادی ٹیم نے آئی ایم ایف کے ساتھ تیسرے اقتصادی جائزے کی تیاری تیز کردی ہے اور اس حوالے سے تمام متعلقہ ڈیٹا بھی شیئر کیا جا چکا ہے۔وزارتِ خزانہ نے وزیراعظم کی ہدایت پر آئی ایم ایف سے مذاکرات کے لیے نئی ترجیحات طے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ترجیحات بنیادی طور پر عوام، تنخواہ دار طبقے اور صنعتی شعبے کو ریلیف دینے کے گرد گھومتی ہیں۔ موجودہ معاشی حالات میں جب مہنگائی اور توانائی کے بحران نے عام آدمی کی زندگی کو متاثر کیا ہے، یہ اقدام معاشرتی اور اقتصادی دونوں پہلوں سے اہمیت رکھتا ہے۔ ذرائع کے مطابق، وزیراعظم کی سربراہی میں وفد نے آئی ایم ایف کے ایم ڈی سے بھی اس معاملے پر بات چیت کی اور آئندہ دو ہفتوں میں تجاویز مانگ لی ہیں تاکہ ریلیف کے متبادل اقدامات کو جلد از جلد عمل میں لایا جاسکے۔ اس کے ساتھ ہی، صنعتوں کی بحالی کے لیے بھی ٹھوس حکمت عملی پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدامات پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار کو تیز کرنے کے لیے اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں حکومت کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ عوام، تنخواہ دار طبقے اور صنعتوں کو ریلیف دلایا جائے۔ صنعتی شعبے کو درپیش مشکلات، جیسے توانائی کے مہنگے نرخ، خام مال کی قیمتیں اور مالیاتی دبائو، ملک کی صنعتی پیداوار کو متاثر کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے، حکومت نے آئی ایم ایف سے ریلیف کے لیے ٹھوس تجاویز اور سفارشات طلب کرلی ہیں۔ علاوہ ازیں، آئی ایم ایف سے ممکنہ ریلیف کے بدلے ٹیکس نیٹ بڑھانے اور دیگر مالیاتی اقدامات پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ رواں مالی سال دیگر ذرائع سے ٹیکس کی آمدن بڑھانے کے لیے اقدامات کرے۔ اس اقدام سے یہ پیغام ملتا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں شفاف اور ذمے دار رویہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان کی حکومت کا یہ بھی مقصد ہے کہ تیز معاشی ترقی کے لیے ایک جامع پلان پیش کیا جائے۔ آئی ایم ایف ایم ڈی نے قرض پروگرام کے تحت مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ دونوں طرف سے اعتماد اور تعاون کی فضا موجود ہے۔ یہ مذاکرات نہ صرف مالی اعانت کے حصول کے لیے اہم ہیں بلکہ ملک میں سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے اور معاشی استحکام قائم کرنے کے لیے بھی ایک مثبت قدم ہیں۔تاہم، یہ بات واضح رہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں کامیابی اور ریلیف کے حصول کے لیے کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ملک میں مہنگائی، توانائی کے بحران، سیاسی عدم استحکام اور مالیاتی خسارے جیسے مسائل آئی ایم ایف کی شرائط پر اثر ڈال سکتے ہیں۔ اس لیے حکومت کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ وہ عوامی مفاد کو تحفظ دیتے ہوئے معاشی اصلاحات پر عمل کرے، تاکہ نہ صرف بیرونی مالی امداد حاصل ہو بلکہ ملک کی اقتصادی خود مختاری بھی برقرار رہے۔ مزید یہ کہ، آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں شفافیت اور منصوبہ بندی کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ اگر یہ مذاکرات بغیر مناسب تیاری اور عوامی تحفظات کو مدنظر رکھے ہوئے کئے گئے تو ممکنہ ریلیف عوام تک پہنچنے سے قاصر رہ سکتا ہے اور صنعتی شعبے کی بحالی میں بھی رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے۔ پاکستان کے لیے یہ تیسرے اقتصادی جائزے کے مذاکرات صرف ایک مالیاتی عمل نہیں ہیں، بلکہ ملک کی طویل المدتی معاشی حکمت عملی اور ترقی کی سمت کے لیے سنگ میل ہیں۔ موجودہ حکومت نے عوام، صنعتی شعبے اور مالیاتی اداروں کو ریلیف دینے کے لیے ٹھوس تجاویز تیار کرنے کی ہدایت کی ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی اقتصادی ٹیم کی توجہ عملی اقدامات اور نتائج کی طرف مرکوز ہے۔ مزید برآں، قرض کے بدلے ٹیکس نیٹ بڑھانے اور دیگر مالی وسائل کو بڑھانے کے اقدامات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ مفاہمت اور تعاون کی فضا قائم رکھنا چاہتی ہے۔ اس طرح نہ صرف مالی امداد حاصل ہوگی بلکہ ملک میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور معاشی ترقی کے نئے راستے کھلیں گے۔ تیسرے اقتصادی جائزے کے مذاکرات پاکستان کے لیے ایک اہم موقع ہیں کہ وہ آئی ایم ایف کے تعاون سے مالیاتی بحران کا حل تلاش کرے، عوام اور صنعتی شعبے کے لیے ریلیف فراہم کرے اور معاشی ترقی کی رفتار تیز کرے۔ یہ مذاکرات نہ صرف ایک ارب ڈالر کی اگلی قسط حاصل کرنے کے لیے اہم ہیں بلکہ پاکستان کی معاشی خود مختاری اور استحکام کی طرف ایک مثبت قدم بھی ہیں۔ پاکستان کی موجودہ معاشی صورت حال میں، شفافیت، منصوبہ بندی، عوامی تحفظ اور صنعتی ترقی جیسے اقدامات کے بغیر کوئی بھی مالیاتی قدم مکمل اثر نہیں ڈال سکتا۔ اگر حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں یہ تمام عوامل مدنظر رکھے تو یہ مذاکرات نہ صرف مالی اعانت کا ذریعہ بنیں گے بلکہ پاکستان کی معاشی ترقی اور صنعتی بحالی کے لیے بنیاد بھی فراہم کریں گے۔
منشیات کیخلاف کامیاب کارروائیاں
ملک میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) کی حالیہ کارروائیاں ایک مثبت قدم کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ پشاور اور کلرکہار کے مختلف علاقوں میں کی گئی کارروائیوں کے دوران اے این ایف نے 175 کلوگرام منشیات برآمد کی اور ایک ملزم کو گرفتار کیا۔ یہ اقدام نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موثریت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ معاشرتی سلامتی اور نوجوانوں کی حفاظت کے لیے بھی ایک اہم پیش رفت ہے۔ ترجمان اے این ایف کے مطابق، برآمد شدہ منشیات میں 174 کلوگرام چرس اور ایک کلوگرام آئس شامل تھی، جو ملک میں منشیات کی فراہمی اور صارفین تک پہنچنے والے نیٹ ورک کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔ گرفتار ملزم کے خلاف انسداد منشیات ایکٹ 1997 کے تحت مقدمات درج کر دیئے گئے ہیں جبکہ مزید تفتیش جاری ہے، جس سے توقع کی جا رہی ہے کہ مزید حقاءق سامنے آئیں گے اور بڑے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے میں مدد ملے گی۔یہ کامیاب کارروائیاں معاشرے کے لیے ایک اہم پیغام ہیں کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے منشیات کے خلاف سنجیدگی سے اقدامات کر رہے ہیں۔ منشیات کی روک تھام صرف گرفتاریوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ تعلیمی، سماجی اور معاشرتی اقدامات بھی لازمی ہیں تاکہ نوجوان نسل کو منشیات کے خطرات سے آگاہ کیا جاسکے۔ مزید یہ کہ منشیات کے خلاف کارروائیوں میں مستقل مزاجی ضروری ہے۔ ہر کارروائی ایک پیغام دیتی ہے کہ جرائم کی کوئی جگہ نہیں، لیکن اس کے ساتھ معاشرتی سطح پر بھی مضبوط آگاہی مہمات، والدین کی نگرانی اور تعلیم کے فروغ جیسے اقدامات کئے جائیں تو منشیات کا استعمال کم کرنے میں زیادہ اثر پیدا ہوگا۔ ایسے اقدامات نہ صرف نوجوانوں کی حفاظت کرتے ہیں بلکہ ملک میں سماجی اور اقتصادی استحکام بھی پیدا کرتے ہیں۔ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ منشیات صرف ایک فرد کی زندگی کو نہیں بلکہ پوری معاشرت کو متاثر کرتی ہیں۔ اے این ایف کی حالیہ کامیابی اس عزم کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں منشیات کے خلاف لڑائی جاری ہے اور ادارے اس میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ آخر میں کہا جا سکتا ہے کہ اے این ایف کی یہ کارروائیاں ایک مثبت قدم ہیں، لیکن مسلسل نگرانی، سماجی شعور اور تعلیم کے ذریعے ہی منشیات کے مسئلے کا پائیدار حل ممکن ہے۔ پاکستان کو اس راہ میں مستقل اقدامات اور عوامی تعاون کی ضرورت ہے تاکہ ملک کے نوجوان صحت مند اور محفوظ ماحول میں زندگی گزار سکیں۔

جواب دیں

Back to top button