پرچارک

پرچارک
تحریر: شکیل سلاوٹ
پاچا خان، ولی خان برصغیر اور پاکستان میں ترقی پسند سیاست کے علمبردار
برِصغیر کی سیاسی تاریخ میں کچھ شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے طاقت، تشدد اور اقتدار کی سیاست کے بجائے اصول، شعور اور عوامی فلاح کو اپنا شعار بنایا۔ خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان اور اُن کے صاحبزادے خان عبدالولی خان کا شمار انہی شخصیات میں ہوتا ہے۔ یہ دونوں رہنما نہ صرف پختون قوم بلکہ پورے برِصغیر، بالخصوص پاکستان میں ترقی پسند، جمہوری اور انسان دوست سیاست کے امین رہے ہیں۔ ان کی سیاست کا مرکز انسان، اس کی عزت، آزادی اور سماجی انصاف تھا۔
خان عبدالغفار خان کی سیاسی جدوجہد کا آغاز برطانوی استعمار کے خلاف مزاحمت سے ہوا، مگر ان کی جدوجہد کی انفرادیت یہ تھی کہ انہوں نے عدمِ تشدد کو اپنا ہتھیار بنایا۔ ایک ایسے خطے میں جہاں صدیوں سے بندوق، بدلہ اور طاقت کو عزت کی علامت سمجھا جاتا تھا، باچا خان نے صبر، برداشت اور امن کا پیغام دیا۔ انہوں نے 1929ء میں خدائی خدمتگار تحریک کی بنیاد رکھی جس کا مقصد پختون معاشرے میں تعلیم، سماجی اصلاح، خواتین کی شمولیت اور سیاسی شعور کو فروغ دینا تھا۔
خدائی خدمتگار تحریک محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک سماجی انقلاب تھی۔ اس تحریک کے کارکن سرخ قمیضیں پہنتے تھے، اسی لیے انہیں "سرخ پوش” بھی کہا جاتا تھا۔ یہ تحریک برطانوی حکومت کے لیے اس قدر خطرہ بن گئی کہ اس کے خلاف سخت کریک ڈائون کیا گیا، مگر باچا خان اپنے موقف پر ثابت قدم رہے۔ انہوں نے بارہا قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، مگر تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں "سرحدی گاندھی” بھی کہا جاتا ہے۔
قیامِ پاکستان کے بعد حالات یکسر بدل گئے، مگر باچا خان کے لیے مشکلات کم نہ ہوئیں۔ انہوں نے پاکستان میں بھی جمہوریت، صوبائی خودمختاری اور انسانی حقوق کی بات کی، جس کے نتیجے میں انہیں طویل عرصہ جیل میں رکھا گیا۔ ان پر غداری جیسے سنگین الزامات لگائے گئے، حالانکہ ان کی سیاست کا محور ہمیشہ عوام کی فلاح اور آئینی جدوجہد رہی۔
باچا خان کے اس سیاسی و فکری ورثے کو اُن کے صاحبزادے خان عبدالولی خان نے آگے بڑھایا۔ خان عبدالولی خان ایک زیرک سیاست دان، مدبر پارلیمنٹیرین اور اصول پسند رہنما تھے۔ انہوں نے نیشنل عوامی پارٹی (NAP) کی قیادت کی اور بعد ازاں عوامی نیشنل پارٹی (ANP)کی بنیاد رکھی۔ ولی خان نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر وفاقیت، جمہوریت، آئین کی بالادستی اور صوبائی حقوق کے لیے آواز بلند کی۔1973ء کے آئین کی تشکیل میں خان عبدالولی خان کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ اگرچہ وہ اُس وقت اپوزیشن میں تھے، مگر انہوں نے ذاتی اور جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک متفقہ آئین کے لیے کردار ادا کیا۔ یہی آئین آج بھی پاکستان کے جمہوری ڈھانچے کی بنیاد ہے۔ ولی خان کا ماننا تھا کہ ایک مضبوط پاکستان صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب اس کی تمام اکائیاں بااختیار، باعزت اور مطمئن ہوں۔ تاہم، خان عبدالولی خان کی سیاست بھی آسان نہ تھی۔ حیدرآباد سازش کیس جیسے واقعات نے اُن کی جدوجہد کو مزید کٹھن بنا دیا۔ برسوں تک قید، کردار کشی اور سیاسی پابندیوں کے باوجود وہ اپنے نظریے سے پیچھے نہیں ہٹے۔ ان کی سیاست میں انتقام کے بجائے مفاہمت، اور نفرت کے بجائے دلیل نمایاں نظر آتی ہے۔
باچا خان اور ولی خان دونوں کی سیاست میں ایک قدر مشترک تھی: ترقی پسندی۔ یہ ترقی پسندی صرف معاشی یا طبقاتی نہیں بلکہ فکری، سماجی اور ثقافتی بھی تھی۔ وہ تعلیم کو تبدیلی کی کنجی سمجھتے تھے، خواتین کے کردار کو ناگزیر قرار دیتے تھے اور مذہب کو سیاست میں نفرت کے بجائے اخلاقیات کا ذریعہ سمجھتے تھے۔
آج کے پاکستان میں، جہاں سیاست زیادہ تر طاقت، اسٹیبلشمنٹ اور وقتی مفادات کے گرد گھومتی نظر آتی ہے، باچا خان اور ولی خان کی سیاست ایک روشن مثال بن کر سامنے آتی ہے۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ عوامی سیاست اصولوں کے ساتھ بھی کی جا سکتی ہے، اور اختلاف کے باوجود ریاست کے اندر رہ کر جدوجہد ممکن ہے۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اگر پاکستان میں جمہوریت، صوبائی ہم آہنگی اور سیاسی برداشت کو فروغ دینا ہے تو ہمیں باچا خان اور خان عبدالولی خان کے افکار اور طرزِ سیاست کا سنجیدگی سے مطالعہ کرنا ہوگا۔ یہ دونوں رہنما تاریخ کے صفحات میں محض نام نہیں بلکہ ایک فکری تسلسل ہیں، ایسا تسلسل جو آج بھی پاکستان کو ایک بہتر، منصفانہ اور جمہوری ریاست بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔





