ColumnImtiaz Aasi

میاں نواز شریف کا حسن انتخاب

میاں نواز شریف کا حسن انتخاب
نقارہ خلق
امتیاز عاصی
بلاشبہ میاں نواز شریف ایک زیرک سیاست دان ہیں، سیاست کے رموز سے بہت اچھی طرح واقف ہیں۔ چار عشروں سے زائد اپنی سیاسی زندگی میں وزارت عظمیٰ کے ساتھ بہت سے نشیب و فراز کا سامنا کیا۔ مسلم لیگ نون کا ناقد ہونے کے باوجود مجھے یہ بات لکھنے میں عار نہیں اپنی جماعت کے جن جن لوگوں کو انہوں نے عہدے اور پارٹی ٹکٹ دیئے ایسے نہیں دیتے بلکہ میاں صاحب نے ہر ایک کا انتخاب پر کھ کر کیا۔ میاں نواز شریف کی ایک بڑی خوبی یہ ہے وہ اپنے جانثار ساتھیوں کو فراموش نہیں کرتے۔ مشاہد اللہ خان ہوں عرفان صدیقی ہوں یا پھر ناصر بٹ ہوں میاں صاحب نے مشاہد اللہ خان اور عرفان صدیقی کو جہان سدھارنے کے باوجود ہر لمحہ یاد رکھا اور یہی ایک اچھے لیڈر کی خوبی ہوتی ہے۔ مشاہد اللہ خان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے آفنان اللہ خان کو سینیٹر بنوا کر مشاہد اللہ خان کی پارٹی کے لئے خدمات کا اعتراف کیا۔ عرفان صدیقی کی وفات کے بعد انہوں نے ان کے بیٹے کو عہدہ دینے کی آفر کی مگر وہ پہلے سے ایک اچھی ملازمت میں تھا ورنہ عرفان صدیقی کے بیٹے کو بھی وہ سینیٹر بنوا دیتے۔ ناصر بٹ جیسا مخلص ساتھی جو دیار غیر میں بھی میاں صاحب کے ساتھ قدم قدم پر ان کے ساتھ رہا اور اپنے قائد کے ساتھ وفاداری نبھانے میں سبقت لے گیا لیکن میاں نواز شریف نے بھی ناصر بٹ کو کسی موڑ پر نظر انداز نہیں کیاب لکہ اس کی توقعات سے بڑھ کر اس کی خدمات کا اعتراف سینیٹر بنوا کر ا کیا۔ ناصر بٹ اور عارف بٹ سے میری جان پہچان لامحالہ چالیس سال پرانی ہے۔ عارف بٹ نے تو منعم حقیقی کو اس کی امانت لوٹ دی اللہ کریم اس کے درجات بلند فرمائے ( امین) ۔ ناصر بٹ کا تعلق ایک کھاتے پیتے گھرانے سے ہے۔ ان کے بڑے بھائی حافظ عبداللہ بٹ بہت پرانے مسلم لیگی ہیں اپنے علاقے کے ہمیشہ کونسلر رہے۔ اگلے روز سوشل میڈیا پر غالبا سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلویز کے اجلاس کی کارروائی کی ایک جھلک دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں ضلع سرگودھا کی تحصیل بھلوال میں ریلوے کی اراضی پر پٹرول پمپ کے کرایہ داری کی بات چل رہی تھی۔ سینیٹر ناصر بٹ بولی کمی ہونے کی بنا راستے میں رکاوٹ بن گئے یہاں تک انہوںنے معاملہ ایف آئی اے کے حوالے کرنے کا کہہ دیا۔ وفاقی وزیر ریلویز شائد جس شخص کو ریلویز کی جگہ دینے کے خواہش مند تھے اس نے کرایہ کی بہت کم رقم آفر کی جس پر سینیٹر ناصر بٹ نے اتفاق نہ کرتے ہوئے دوبارہ ٹینڈر کال کرنے کا مشورہ دیا۔ وفاقی وزیر ریلویز حنیف عباسی پہلے بھی قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں اور کافی تجربہ کار سیاست دان ہیں۔ راولپنڈی میں ان کا مقابلہ ہمیشہ سابق وفاقی وزیر شیخ رشید سے رہا ہے۔ جناب حنیف عباسی سے میری کوئی پرکاش نہیں بلکہ ایک مرحوم دوست حاجی اقبال نے خواہش ظاہر کی انہیں عباسی صاحب سے کیمپ جیل لاہور ملنا ہے ۔ حاجی صاحب کے حکم کو میں کیسے ٹال سکتا تھا جس کے فوری بعد میں نے اس وقت کے سپرنٹنڈنٹ کیمپ جیل اصغر منیر صاحب کو اپنا تعارف کراتے ہوئے بات کی جنہوں نے بڑی شفقت کا مظاہر ہ کرتے ہوئے مجھے عزت بخشی۔ اپنے دوست حاجی اقبال کے ساتھ دو مرتبہ کیمپ جیل لاہور عباسی صاحب سے ملنے گیا اور آخری مرتبہ نوائے وقت کے سابق ریذیڈنٹ ایڈیٹر جاوید صدیق کی خواہش پر ان کے ساتھ حنیف عباسی صاحب کے دولت خانے پر ملاقات کے لئے جانے کا اتفاق ہوا۔ جناب حنیف عباسی اور میرے گھر کے درمیان چند سو میٹر کی مسافت ہے مگر اللہ کی مہربانی سے سیاست دانوں سے کبھی کوئی واسطہ نہیں رہا۔ ستر سالہ زندگی میں دو سیاست دانوں سے دوستی اور بھائی چارہ ضرور رہا جن میں شہید سینیٹر ملک فرید اللہ خان وزیر اور دوسرے پیپلز پارٹی کے سید خورشید شاہ جن کے لئے میں ہمیشہ دعا گو رہوں گا۔ میں بات سینیٹر ناصر بٹ سے متعلق کر رہا تھا جو پہلی مرتبہ ایوان بالا میں پہنچے ہیں۔ میاں نواز شریف نے کچھ سوچ سمجھ کر ناصر بٹ صاحب کا انتخاب کیا ہوگا۔ اس خاندان کی مسلم لیگ نون کے لئے خدمات کسی شک و شبہ سے بالاتر ہیں اچھے اور برے وقت میں پارٹی کا ساتھ نبھانے والے ہیں۔ لندن میں میاں نواز شریف کے قیام کے دوران ناصر بٹ ان کے ساتھ سایہ کی طرح ساتھ چلتے رہے جو ان کی میاں نواز شریف سے والہانہ محبت کا مظہر ہے۔ ناصر بٹ سے میری ملاقات حسن اتفاق ہے میرے دوست اور نرکاری بازار کے صدر حاجی الیاس گوگا کے بڑے بھائی کی وفات کے موقع پر کئی عشرے بعد ان سے ملاقات ہوئی تو بٹ صاحب نے مجھے پہچان لیا۔ قائمہ کمیٹی کے روداد کے حوالے سے بات کرنے کا مقصد کسی کی دل شکنی نہیں بلکہ ایک نوجوان سینیٹر کی حوصلہ افزائی مقصود ہے جس نے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کی بجائے فائدی کی بات کی۔ انسانی معاشرے میں لوگوں سے روابط ہوتے ہیں سیاسی رہنما دوستوں کے کام ضرور کرتے ہیں لیکن جہاں بات قومی مفاد کی ہو وہاں دوستی اور تعلقات راستے میں رکاوٹ نہیں بننے چاہیے۔ جیسا کہ آج کل اخبارات میں آرہا ہے پاکستان ریلویز خسارے سے نکل رہا ہے۔ میں یہ سمجھتا ہوں وفاقی وزیر ریلویز حنیف عباسی کے ہوتے ہوئے بھی ریلویز کا نظام درست نہ ہوا تو پھر کبھی نہیں ہو سکے گا۔ ریلویز انگریز دور کی یادگار ہے بدقسمتی سے گزشتہ ادوار میں ریلویز کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا گیا۔ پاکستان ریلویز اسی صورت ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا جب ریلویز کے تمام ملازمین اپنے اپنے فرائض ایمانداری سے سرانجام دیں تو کوئی وجہ نہیں ریلویز جو کبھی پاکستان ویسٹرن اور ایسٹرن ریلویز تھا اب صر ف پاکستان ریلویز رہ گیا ہے اپنی کھوئی ہوئی عظمت رفتہ بحال نہ کر سکے۔ ملک و قوم کو سینیٹر ناصر بٹ جیسے رہنمائوں کی ضرورت ہے، جو ذاتی مفاد کی بجائے قومی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ ہمیں ایسے نوجوان رہنمائوں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، جو ذاتی مفاد کی بجائے قومی مفادات کو اولیت دیتے ہیں۔ اور آخر میں ہم قائد مسلم لیگ نون میاں نواز شریف کے حسن انتخاب کو داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتے۔

جواب دیں

Back to top button