Column

بد ترین یوم جمہوریت

بد ترین یوم جمہوریت
تحریر : محمداعجاز الحق
رکن قومی اسمبلی۔ صدر مسلم لیگ ( ضیاء الحق شہید

بھارت ہر سال 26جنوری کو یوم جمہوریہ مناتا ہے، لیکن اس دن کو اگر بدترین یوم جمہوریت کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا، بھارت میں جمہوریت صرف کاغذوں میں ہے زمینی حقائق بہت مختلف ہیں، یہ ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں اقلیتیں محفوظ نہیں ہیں، مسلم خواتین کے نقاب نوچے جاتے ہیں، انہیں سرکار کے ان افراد کے ہاتھوں بے پردہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جو سیکولر انڈیا کے آئین کا حلف بھی اٹھائے ہوتے ہیں اور ریاستی منصب ان کے پاس ہوتا ہے، یہ کیسا سیکولر اور جمہوری ملک ہے جہاں سکولوں، تعلیمی اداروں میں مسلم طلبہ اور طالبات کو بھی بندے ماترم پڑھنے پر مجبور کیا جاتا ہے، اسکولوں کے بچوں کے معصوم ذہنوں پر بندے ماترم کا نقش کیوں بٹھانے کو کوشش کی جاتی ہے، یہ گیت سرکاری اجتماعات اور دُوسری تقاریب میں گایا جاتا ہے جس میں دوسرے مذاہب کے لوگ جبراً شامل کیے جاتے ہیں۔ ایک ایسی کوشش بھی کی جارہی ہے کہ بندے ماترم ازخود اسکول کے نصاب میں شامل کر دیا گیا ہے، گزشتہ سال پٹنہ کے مسلم طلبہ نے یہ گیت گانے سے انکار کردیا تھا تو ان پر تعلیمی اداروں کے دروازے بند کر دئیی گئے تھے ایسے حالات پیدا کر دئیے گئے مسلم طلبہ کو اسکولوں سے نکال دیا گیا اور انہیں تعلیم کے لیے اپنا بندوبست خود کرنا پڑا، سی پی کے بلدیاتی اسکولوں میں بھی مسلمان طلبہ کو یہی شکایت پیدا ہوئی۔ ستم بالائے ستم یہ کہ واردھا کے نارمل اسکول میں مسلمان طلبہ کو اسکول میس میں کھانے کو ہاتھ لگانے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی، اس ضمن میں بی جے پی ہو یا کوئی دوسری ہند سیاسی جماعت، یہ سب یکساں سوچ کے مالک ہیں، یوم جمہوریہ منانے والے ملک بھارت میں مسلمانوں کیلئے عزت و آبرو کے ساتھ رہنا محال ہوتا جارہا ہے سی پی اور بہار میں جہاں مسلمان چھوٹی اقلیت میں ہیں، اکثر یہ واقعات پڑھنے اور سننے کو ملتے ہیں کہ مسلمانوں کو زبردستی تقریبات سے باہر نکال دیا جاتا ہے۔ ماضی میں یہ بات ہی کہ مقامی مجلسِ مصالحت قرضہ میں کم از کم ایک مسلمان ضرور ہوتا تھا، لیکن اب صورت حال بدل گئی ہے بہت سے ایسی مجالس ہیں جہاں ایک بھی مسلم رکن موجود نہیں۔ اِس صوبے میں مزدوروں اور مزارعوں کی اکثریت مسلمانوں کی ہے جو ساہوکاروں کے قرضوں تلے دبے ہوئے ہیں۔ اُن کے معاملات خصوصی توجہ کے متقاضی ہیں فلاحی اسکیموں میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے اقلیتی گروہ بالخصوص مسلمان اُن کے فوائد سے محروم رہیں۔ بھارت میں مسلمانوں کے لیے مسلم لاء پر عمل کرنا محال ہوتا جارہا ہے، گائے کی قربانی تو گویا جرم سمجھا جاتا ہے اور بات قتل و غارت پر پہنچ جاتی ہے۔ ایسے واقعات میں مسلمان مودی سرکار کی غیر منصفانہ پالیسی کا شکار بن رہے ہیں۔ اسی طرح بھارت میں مودی سرکار کے دور میں گئو رکھشا کا مسئلہ بیحد سنگین ہو گیا ہے۔ بے شمار اَیسی مثالیں سامنے آئی ہیں جن میں مسلمانوں کو گائے ذبح کرنے اور اُس کا گوشت کھانے سے باز رکھنے کے لیے ڈرایا اور دھمکایا گیا ہے۔ گائے فروخت کرنے کے خلاف باقاعدہ پکٹنگ کی جاتی ہے۔ گئو رکھشا کی اہمیت کے بارے میں مہاتما گاندھی نے کہا: ’’ تاریخی اور معاشی اعتبار سے گئو رکھشا ضرور ہونی چاہیے۔ ہم نے گئو رکھشا پر سنجیدگی سے غور ہی نہیں کیا۔ قدیم زمانے میں راجے ’’ گائو پال‘‘ یعنی گائے کے محافظ کا خطاب حاصل کرتے تھے۔ آج کل گئو رکھشا کے لیے کچھ بھی نہیں کیا جاتا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ گائیں معاشی طور پر بوجھ ثابت ہو رہی ہیں‘‘۔
یہ بھی زمینی حقائق ہیں کہ بھارت کے اکثر صوبوں میں میونسپلیٹیوں میں گائے ذبح کرنے کے لائسنس روک لیے گئے ہیں۔ یہ اقدامات اُن علاقوں میں کیے جا رہے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں ہے مودی سرکار کے باعث ہندو توا فروغ پا رہا ہے اور بھارت براہِ راست ہندو توا کے انتہا پسندانہ تصور گھرا ہوا ہے میں پیوست ہیں۔ بظاہر خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے والا ملک آج عملاً ایک کٹر ہندو ریاست کی صورت اختیار کر چکا ہے جہاں مذہبی اقلیتوں کے لیے زمین تنگ اور اختلافِ رائے کو ریاست دشمنی قرار دیا جا رہا ہے۔ ہندو توا کا یہ نظریہ صرف بھارت کے اندرونی سماجی توازن کو ہی تباہ نہیں کر رہا بلکہ خطے میں بھارت کو سفارتی تنہائی اور عالمی سطح پر سنگین چیلنجز سے بھی دوچار کر رہا ہے حقائق پر مبنی رپورٹس ہیں بھارت اس خطہ اور اقوام عالم کے امن کے لیے خطرہ بن رہا ہے، لیکن ہماری مسلح افواج نے معرکہ حق کے دوران اسے خوب سبق سکھایا ہے اور آئندہ بھی اس کے ساتھ یہی سلوک ہوگا، بلکہ اس کی ہر جارحیت کا جواب پہلے سے بڑھ کر دیا جائے گا اور ہماری پوری قوم اس کے لیے تیار ہے اب تو مودی سرکار کی حرکتوں کی وجہ سے پوری دنیا میں یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ بھارت واقعی امن کے لیے خطرہ ہے، لیکن اسے معرکہ حق کو جس طرح بدترین شکست ہوئی، اس وجہ سے بھارت کا دم خم بھی نکل رہا ہے، تاہم وہ ڈنک مارنے سے باز نہیں آرہا۔
اس خطے میں برما، سری لنکا، بنگلہ دیش جیسے ملک اپنی نئی سفارتی صف بندی کر رہے ہیں اس خطہ کے ممالک اب پاکستان اور چین کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ ایران کی چابہار بندرگاہ سے علیحدہ ہونے پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سرکار کو وہاں کی اپوزیشن کی جانب سے لعن طعن کا سامنا ہے اپوزیشن جماعت کانگریس پارٹی نے مودی سرکار پر کوڑے برسا رہی ہے۔ بھارت میں اس وقت صاف نظر آ رہا ہے کہ مودی کی قیادت میں بھارتیہ جنتا پارٹی ہندوتوا کو ریاستی پالیسی کا درجہ دئیے بیٹھی ہے۔ مودی کی حکومت میں بالعموم تمام اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ، قانون سازی اور ریاستی جبر معمول بن چکا ہے۔ حال ہی میں کرسمس کے موقع پر مسیحوں کے ساتھ بہت برا سلوک کیا گیا انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گی، ان کی، عبادت گاہوں پر حملے ہوئے۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی بھارت میں مذہبی آزادی کی بگڑتی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ اس صورت حال کا نوٹس لے کیونکہ بھارت کے اندر مذہبی اقلیتوں کے لیے حالات روز بروز مشکل سے مشکل تر ہوتے جا رہے ہیں۔ مسلمانوں کی مساجد مسمار کی جا رہی ہیں، عیسائی مشنریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور سکھ برادری کے لیے مشکلات کھڑی کی جارہی ہیں۔ اظہارِ رائے کی آزادی پر قدغن لگا رہی ہے اور سول سوسائٹی دبا میں آئی ہوئی ہے ایسے حالات میں بھارت کا جمہوریت اور انسانی حقوق کے چیمپئن ہونے کا دعویٰ عالمی سطح پر بے وزن دکھائی دیتا ہے۔ کشمیر کا مسئلہ بھارتی ہٹ دھرمی کی سب سے واضح مثال ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت اقوامِ عالم کے طے شدہ اصولوں کو خاطر میں لانے کے لیے تیار نہیں بھارت میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے مظالم پر پاکستان کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے لیکن بھارت میں ریاستی سرپرستی میں مسلمانوں کے خلاف منظم مہم جاری ہے۔ مسلمانوں کے گھروں کی مسماری، عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے اور ہجوم کی شکل میں ہندو انتہاء پسندوں کے تشدد کے واقعات نے وہاں اقلیتوں میں خوف اور عدم تحفظ کی فضا پیدا کر دی ہے یہ طرز ِعمل بھارت میں قانون کی حکمرانی پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔

جواب دیں

Back to top button