گل پلازہ کی آگ سے تھر کے قحط تک

گل پلازہ کی آگ سے تھر کے قحط تک
تحریر روشن لعل
گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے فوراً بعد یہاںنہ صرف مخصوص لوگوں نے غیر ذمہ دارانہ بیانات داغے بلکہ حسب روایت تقریباً ہر میڈیا ہائوس نے مزید غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہیں مرچ مصالحہ لگا کر نشر بھی کیا۔ مذکورہ غیر ذمہ داریوں کو مد نظر رکھتے ہوئے دھیان ماضی کے کچھ ایسے واقعات کی طرف چلا گیا ، جن کے لیے یہ گمان ہوتا ہے کہ مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لیے انہیں سازش کے تحت سادہ سے پیچیدہ بنایا گیا تھا۔ کسی مسئلے کے ساتھ غیر متعلقہ باتیں جوڑ کر عوام کو گمراہ کرتے ہوئی درپردہ مقاصد حاصل کرنے کی کوششیں یہاں پاکستان بننے کے فوراً بعد شروع کردی گئی تھیں۔ اس طرح کی کوششیں اگر ابھی تک جاری ہیں تو اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ماضی میں یہ کوششیں کس حد تک کامیاب ہوتی رہی ہونگی۔ جو لوگ اپنے ماضی کے کامیاب تجربات کی وجہ سے اب بھی عوام کو گمراہ کرنا ممکن سمجھتے ہیں، ان کے متعلق وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ عام لوگ ان کے لیے اس حد تک فکر و فہم سے عاری ہیں کہ وہ انہیں کسی بھی وقت بیوقوف بنا سکتے ہیں۔ گل پلازہ میں لگنے والے آگ کے بعد چند دنوں میں جو کچھ ہو چکا ہے اس سے محسوس ہوتا ہے کہ جو لوگ قبل ازیں غلط بیانی کرتے ہوئے عوام کو بیوقوف بناتے رہے اب ان کے لیے ایسا کرنا ماضی کی طرح آسان نہیں رہا۔
سال 2010کے سیلاب کے بعد سے یہاں یہ مشق جاری تھی کہ قدرتی یا غیر قدرتی طور پر رونما ہونے والے کسی بھی سانحے کے بعد شدید الزام اور دشنام طرازی کا بہائو بوجوہ ناپسندیدہ بنا دی گئی کسی شخصیت کی طرف اس طرح موڑ دیا جائے کہ عام لوگ اس سے نفرت کرنے کے علاوہ کسی اور طرف دھیان ہی نہ دیں۔ اس طرح کی مشق کی کامیابی کی شرح کبھی بھی بری نہیں رہی لیکن اسے بار بار دہرانے والے لوگوں کے اپنے کردار کے تضادات اس طرح کھل کر عام لوگوں کے سامنے آچکے ہیں کہ اب انہوں نے آنکھیں بند کر کے ان کی باتوں پر توجہ دینے کی بجائے انہیں دیگر فریقوں کا موقف سامنے رکھ کر پرکھنا شروع کر دیا ہے۔
کراچی میں موجودہ سندھ حکومت اور میئر مرتضیٰ وہاب کے دور میں پہلی مرتبہ آگ نہیں لگی۔ گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ گزشتہ آخری آگ لگنے کے بعد سندھ حکومت اور مرتضیٰ وہاب نے اس طرح کے سانحات کو روکنے کے لیے جو اقدامات کرنے کے اعلانات کیے تھے ، ان کے مطابق اگر عمل نہیں ہو سکا تو صرف اس حوالہ سے ان کا محاسبہ کیا جاتا۔ ایسا کرنے کی بجائے فاروق ستار، مصطفیٰ کمال، خواجہ آصف اور حافظ نعیم الرحمٰن نے اٹھارویں ترمیم کے خاتمے ، کراچی کو اسلام آباد کے ماتحت کرنے اور کراچی کے باسیوں کے درمیان لسانی بنیادوں پر نفرت پھیلانے جیسی باتیں شروع کر دیں۔ اس کے علاوہ مذکورہ لوگوں اور خاص طور پر ٹی وی چینلوں پر بیٹھے اینکر پرسنز نے بلاول بھٹو کی ایوان صدر میں پیش کی گئی اس بریفنگ کو ہدف تنقید بنایا جس میں انہوں نے اپنی طرف سے ناقابل تردید اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے اپنی پارٹی کی حکومت کے دوران سندھ کے اندر مختلف شعبوں میں ہونے والی مربوط و مستحکم ترقی کا خلاصہ بیان کیا تھا۔ بلاول کی اس بریفنگ کے بعد پیپلز پارٹی کے ترجمانوں نے یہ کہا تھا کہ جو لوگ سندھ کو پسماندہ قرار دیتے رہتے ہیں ان کے اپنے صوبے میں اگر سندھ کی طرح ترقیاتی کام ہوئے ہیں تو وہ ناقابل تردید اعدادوشمار کی روشنی میں انہیں اسی طرح میڈیا اور غیر ملکی سفیروں کے سامنے بیان کریں جس طرح بلاول نے پیش کیا ۔ میڈیا کے کچھ لوگوں نے سندھ کی ترقی کے متعلق بیان کردہ اعدادوشمار کی صحت پر کوئی سوال اٹھانے کی بجائے صرف یہ اعتراض کیا کہ بلاول کو ایوان صدر میں بریفنگ نہیں دینی چاہیے تھی۔ بلاول نے سندھ میں ہونے والی ترقی کے حوالے سے جو بریفنگ دی اس کے کسی نکتے کو جھٹلانے کی تو کسی نے کوشش نہ کی لیکن گل پلازہ کی آگ کے بعد ان کے ہر سیاسی مخالف اور ان سیاسی مخالفوں کے موقف کو طول دینے والے اینکرز نے یہ کہا کہ سندھ میں کیسی ترقی ہوئی ہے جو نہ تو گل پلازہ میں آگ لگنے کا واقعہ کو روک سکی اور نہ ہی وہاں لگی ہوئی آگ پر فوری قابو پایا جا سکا۔ سیاسی مخالفوں اور میڈیا پر ہونے والا اس طر ح کا پراپیگنڈا پہلے تو لوگوں کے ذہنوں پر مہر بن کر اس طرح ثبت ہوجاتا تھا کہ اس سے تادیر نفرت برآمد ہوتی رہتی تھی لیکن اب ایسا نہیں ہو سکا۔ اب لوگوں کے سامنے جب ایسی باتیں رکھی گئیں کہ گل پلازہ میں آگ کے لگنے ، فوری نہ بجھنے اور لوگوں کے مرنے کی وجہ صرف یہ نہیں ہے کہ سندھ حکومت اور میئر کراچی گل پلازہ جیسی عمارتوں میں ابتدائی طور پر آگ بجھانے جیسے آلات نصب کرانے کی ذمہ داری پوری نہ کر سکے بلکہ گل پلازہ میں لگنے والی آگ پر اگر فوری طور پر قابو پاتے ہوئے سو کے قریب لوگوں کو مرنے سے نہیں بچایا جاسکا تو اس کی بنیادی وجہ کراچی کے سابقہ میئر رہ چکے جماعت اسلامی کے عبدالستار افغانی اور نعمت اللہ خان اور ایم کیو ایم کے فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال کی وہ غفلتیں ہیں جن کا مظاہرہ وہ مختلف اوقات میں گل پلازہ کی تعمیر اور گاہے بگاہے ہونے والی ناجائز توسیع کے دوران کرتے رہے۔ مختلف میڈیا پرسنز کے گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے فوراً بعد مراد علی شاہ اور مرتضیٰ وہاب کو بے رحمی سے ہدف تنقید بنانے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن اس بات پر حیرت ضرور ہے کہ عبدالستار افغانی، نعمت اللہ خان ، فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال کا نام اور کردار سامنے آنے کے بعد ان کی تنقیدی زبانیں گنگ کیوں ہو گئی ہیں۔
بڑے بڑے میڈیا ہائوسز اور ان کے نامور اینکرز کا مختلف لوگوں کے لیے متضاد، رویوں کا اظہار کوئی نئی بات نہیں ہے۔ سال2014 کے دوران صحرائے تھر کے 19638مربع کلومیٹر پھیلے ہوئے علاقے میں مختلف جنیاتی بیماریوں کی وجہ سے 570بچے ہلاک ہوئے۔ میڈیا کے لوگوں نے ان ہلاکتوں پر آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری اور اس وقت کے وزیر اعلی سندھ قائم علی شاہ کو کوسنے دے کر آسمان سر پر اٹھا رکھا تھا۔ میڈیا کا مذکورہ رویہ قطعاً عجیب اور معیوب محسوس نہ ہوتا اگر شور برپا کرنے والوں نے 2014ء کے دوران ، پنجاب کے ضلع فیصل آباد کے الائیڈ ہسپتال میں ہونے والی 2000سے زائد بچوں کی اموات کو نظر انداز نہ کیا ہوتا۔ مختلف میڈیا پرسنز کا جو متضاد اور متعصب رویہ سال 2010 ء کے سیلاب اور سال 2014میں تھر کے نام نہاد قحط کے دوران نظر آتا رہا وہی اب جنوری2026ء میں گل پلازہ کی آگ کے دوران دکھائی دیا ہے۔ اپنے نامور ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میڈیا پرسنز متعصب اور متضاد رویوں کے اظہار سے ماضی میں جس طرح عام لوگوں کو گمراہ کرتے رہے ان کے لیے اب ایسا ممکن نہیں رہے گا ۔ ان لوگوں نے تھر کے نام نہاد قحط کے دور سے گل پلازہ کی آگے تک جو رویہ اختیار کئے رکھا انہیں اب اسے تبدیل کرنا ہوگا۔





