26جنوری کسٹمز کا عالمی دن

26جنوری کسٹمز کا عالمی دن
تحریر : ضیاء الحق سرحدی
آج کسٹمز کا عالمی دن منایا جارہا ہے، چونکہ ساری دنیا کے مختلف ممالک اپنی علیحدہ حدود میں اپنے اپنے دستور کے مطابق اپنے شہریوں کیلئے قوانین مرتب کر کے مملکت کے امور چلاتے ہیں ہر ملک اپنے طور پر خود مختار علاقے میں اپنے اپنے سسٹم کے تحت کام کرتے ہیں جو زمینی، ہوائی اور سمندری حدود پر مشتمل ہوتے ہوئے ایک دوسرے کی حدود کی خلاف ورزی کے خلاف اپنا حق محفوظ رکھتے ہیں مگر بین الاقوامی طور پر کسٹمز ان حدود سے مستثنیٰ ہو کر تمام انسانیت کو ایک پیرائے میں کھڑا کر کے انسانیت کی خدمت کیلئے پیش پیش ہے اسی مقصد کو پورا کرنے کیلئے پاکستان دنیا کے تقریباً تمام ممالک کے شانہ بہ شانہ کام کرنے کیلئے اپنا اہم کردار ادا کر رہا ہے اور کسٹمز ڈے کے موقع پر پاکستان کسٹمز کا اس سال2026ء کی نسبت یہی نعرہ ہے کہ”The WCO is dedicating to
Customs protecting society through vigilance and commitment. WCO Members will have the opportunity to showcase their efforts and activities in this domain”
یعنی ورلڈ کسٹمز آرگنائزیشن اپنے پختہ عزم اور عقابی نظر کے ذریعے معاشرے کی صحیح معنوں میں حفاظت کرنے کے لئے وقف کر رہا ہے ، اس لئے ولڈ کسٹمز آرگنائزیشن ممبران اس سلسلے میں اپنی دیر پا کا وشوں اور سرگرمیوں کے احاطے کو اُجاگر کرنے کو ظاہر کریں ۔
ورلڈ کسٹمز آرگنائزیشن اس سلسلے میں اپنے سلوگن کو دلچسپ مگر تعمیری لحاظ سے بھر پور انداز میں اپنے ممبران کے لئے شائع کرتا ہے تاکہ دُنیا کے تقریباً تمام ممالک اس سلوگن کو سامنے رکھ کر اپنے کاوشوں اور سرگرمیوں میں جہت پیدا کرکے اور اسے مزید موثر بنانے میں اہم کردار ادا کرنے کے لئے معاشرے کو بُرائیوں اور غیر قانونی جرائم کی روک تھام کو ممکن بنا سکیں۔ دُنیا کے ہر معاشرے میں اچھے اور بُرے لوگ ہر جگہ موجود ہوتے ہیں۔ نشہ آور ادویات اور دیگر باعث ہلاکت اشیاء کے پھیلا کا سلسلہ کسی نہ کسی طریقے سے چلتا رہتا ہے۔ خصوصاً اُن ممالک میں جہاں غریب، بے روزگاری، بددیانتی، بے ایمانی ، لالچ، دھوکہ دہی اور فریب جیسی لعنتیں عروج پر ہوں تو وہاں کچھ ذاتی مفاد پرست لوگ رشوت کا راستہ اختیار کرکے اِن بے روزگار، بددیانت ، بے ایمان ، لالچی، دھوکی باز اور فریبی لوگوں کی تلاش کرکے اِن کی خدمات حاصل کر لیتے ہیں اور وہ غیر قانونی نشہ آور ادویات اور باعث ہلاکت اشیاء کو دُنیا کے دیگر حصوں میں لانے لیجانے کا مکروہ کاروبار لالچ میں آکر شروع کرکے معاشرے میں بگاڑ کا ذریعہ بن جاتے ہیں اور یوں معاشرہ اخلاقی لحاظ سے آلودگی کا شکار ہو جاتا ہے اس لئے ورلڈ کسٹمز آرگنائزیشن(WCO)نے ہماری رہنمائی کے لئے سال 2026ء کے جس موضوع کا چُنائو کیا ہے، یقیناً اگر محکمہ کسٹم اپنی کاوشوں کو اس انداز میں مثبت پہلوں کی جانب پختہ عزم کا اعادہ کر لیں تو وہ دن دُور نہیں کہ ہم دُنیا کے ہر معاشرے کو بُرائیوں اور ناجائز نقل و حرکت کا خاتمہ کرکے اس دُنیا کو نہایت ہی خوبصورت بلکہ خوبصورت ترین دُنیا میں بدل سکتے ہیں۔ آج کے دن عالمی کسٹمز برادری اس عہد کی تجدید کرتی ہے کہ وہ اپنے اپنے ممالک میں مالیاتی جرائم کا نہ صرف خاتمہ کریں گے بلکہ بین الاقوامی تجارت میں مزید آسانیاں بھی پیدا کریں گے لہٰذا دیگر عالمی تنظیموں کی طرح پاکستان کسٹمز کو بھی چاہئے کہ وہ یہ اہم دن اس ذوق و شوق اور ارادہ کے ساتھ منائے کہ اسے عوامی خدمت کے بلند اہداف کو آگے لے جانا ہے، اس حوالے سے بات کی جائے تو قیام پاکستان سے قبل انگریزوں کے دور میں کسٹمز ایکٹ 1872ء اور لینڈ کسٹمز ایکٹ 1924 ء کے تحت کام کیا جاتا تھا جبکہ قیام پاکستان کے بعد اب صرف ایک ہی کسٹمز ایکٹ 1969 ء پر کام کیا جا رہا ہے جس کے کل 224سیکشن ہیں جن میں اکثر و بیشتر تبدیلی ہوتی رہتی ہے اور ان ہی کے تحت کسٹمز کا کاروبار رواں دواں ہے۔ محکمہ کسٹمز پشاور نے رواں مالی سال کے دوران کروڑوں روپے کی سمگلنگ کو ناکام بنایا ہے اور سمگلنگ کا مال قبضے میں لیا ہے جو نہایت اہم اقدام ہے۔ مالی سال 2025-26( جولائی تا دسمبر) کے دوران کلکٹریٹ آف کسٹم انفورسمنٹ پشاور نے مختلف اسمگلنگ چیزیں پکڑی ہیں جس میں نان ڈیوٹی پیڈ گاڑیاں، سگریٹ، کپڑا، ٹائر اور ٹیوب، چائے سلور گولڈ، الیکٹرانکس گڈز، چالیاں، میڈیسن، موبائل فونز، چرس، آئس وغیرہ جس کی ٹوٹل ویلیو 4.35 بلین بنتی ہے۔ آج اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اقتصادی شعبہ میں کسٹمز کی کامیابیاں دنیا بھر میں تسلیم کی جا چکی ہے اور میکرو اکنامک اعشاریے آئیڈیل رفتار سے بڑھ رہے ہیں اور پاکستان جلد ہی درمیانی سطح کی آمدنی والے ممالک کے درجہ میں شامل ہو جائیگا اور اسی طرح دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں کسٹمز کا جو کردار ہے پاکستان ان ممالک کے طریقہ کار کے عین مطابق ہم پلہ اور برابری کی سطح پر قدم بڑھا رہا ہے جبکہ پیپر لیس نظام عروج پر ہے۔ چند منٹوں میں اشیاء کی قیمتوں کا تعین ہو جاتا ہے۔ ڈیوٹی اور ٹیکسز کے ٹیرف آسان ہوگئے ہیں جو کبھی اپنی مرضی کی رپورٹس پر ہو جاتے تھے امپورٹرز اور ایکسپورٹرز آئی ٹی اور اے آئی کے ماہر ہوگئے ہیں اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کسٹمز کمرشل کارگو سمگلنگ کی روک تھام کو یقینی بنا کر ملکی صنعت کو فروغ دے رہا ہے اس کے علاوہ پاکستان کسٹمز دوسرے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ملکر سمگلنگ کی روک تھام بھی کر رہا ہے جبکہ اسی طرح چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال کی سربراہی میں ایف بی آر نے ٹیکس دہندگان کے لئے کافی سہولتوں کا اجرا کرتے ہوئے موجودہ نظام میں کافی اصلاحات متعارف کرائی ہیں جس کے باعث ٹیکس ادا کرنے اور ٹیکس وصول کرنے والوں کے مابین انڈرسٹینڈنگ کی فضا اور دوستانہ ماحول نے جنم لیا ہے اور ٹیکس دہندگان کارسپانس کافی بڑھا ہے جس کا کریڈٹ بلاشبہ بورڈ آف ریونیو کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال، ممبر کسٹمز آپریشن سید شکیل شاہ، ممبر کسٹمز پالیسی اشہد جواد، چیف کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ باسط مقصود عباسی، کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ پشاور محترمہ عائشہ بشیر وانی اور دیگر سینئر افسران کو جاتا ہے جس میں ایڈیشنل کلکٹرز، ڈپٹی کلکٹرز شامل ہیں جبکہ مزید بہتری لانے کیلئے ملک بھر سے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI)، پاکستان افغانستان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(PAJCCI)، سر حد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (SCCI) اور پاکستان بھر کے تمام پرائم چیمبرز آف کامرس و دیگر بزنس کمیونٹی کی تنظیموں سے تجاویز لی جائیں ۔ جس سے بزنس کمیونٹی کی طرف سے حکومتی اعتماد ٹیکس ، کسٹمز ڈیوٹی، زرمبادلہ کے ذخائر اور سیلز ٹیکس میں قابل قدر اور نا قابل فراموش اضافہ ہو ۔ آج اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اقتصادی شعبہ میں کسٹم کی کامیابیاں دنیا بھر میں تسلیم کی جا چکی ہیں اور میکرو اکنامک اعشارئیے آئیڈیل رفتار سے بڑھ رہے ہیں۔ ہر سال کی طرح پاکستان کسٹمز نے ورلڈ کسٹمز ڈے 2026ء کے موقع پر 26جنوری پاکستان کے دیگر شہروں کی طرح کسٹم ہائوس پشاور میں بھی ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا ۔





