CM RizwanColumn

مرکز یقین شاد باد

جگائے گا کون؟
مرکز یقین شاد باد
تحریر: سی ایم رضوان
کوئی بھی عاقل بالغ اور سنجیدہ مزاج شخص داماد ہو یا بہو، اگر اسے بدقسمتی سے بڑبولی اور بات بات پر پھڈا ڈالنے والی ساس مل جائے تو اس کی اچھی بھلی زندگی ڈبہ ہو جاتی ہے۔ یہی حالت سپر پاور امریکہ کے ایوان صدر پر ٹرمپ کے براجمان ہو جانے کے بعد دنیا کی ہو گئی ہے۔ دنیا کے بڑے بڑے ممالک اور سنجیدہ طاقتوں کی صورت حال اب یہ ہو گئی ہے کہ وہ اس پھڈے باز ٹرمپ کے روزانہ کی بنیاد پر محض امریکی مفاد کے لئے بدلتے اور اس کی اپنی دانست میں مخالفین کے دلوں میں آگ لگاتے بیانات اور ظالمانہ مفاد پرستی پر مبنی اقدامات کا خمیازہ بھگتنے یا کم از کم ان نت نئے لپڑوں پر اپنی توانائیاں اور وقت ضائع کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ جیسا کہ صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دئیے گئے ایک تازہ انٹرویو میں افغانستان میں نیٹو افواج کے کردار پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کہیں گے کہ اُنہوں نے افغانستان میں کچھ فوجی بھیجے۔ اُنہوں نے ایسا کیا لیکن وہ کچھ پیچھے رہے۔ وہ فرنٹ لائنز سے کچھ پیچھے رہے۔ صدر ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں کبھی اُن کی ضرورت نہیں رہی اور نہ ہی ہم نے کبھی اُن سے کسی چیز کے لئے پوچھا۔ اہل خبر کو یاد ہو گا کہ کہ نائن الیون حملے کے بعد امریکہ اور نیٹو افواج نے افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مل کر کام کیا تھا۔ برطانیہ نے بھی اس جنگ میں امریکہ کا بھرپور ساتھ دیتے ہوئے اپنے فوجی افغانستان بھجوائے تھے۔ جس پر اب ٹرمپ نے تنقید کی ہے جس پر افغانستان میں برطانوی فوج میں رہنے والے شہزادہ ہیری نے بھی صدر ٹرمپ کے بیان کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کو اس معاملے پر سچائی اور عزت کے ساتھ بات کرنی چاہیے جبکہ برطانوی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کو اگر خود احساس ہوا کہ اُنہوں نے غلط بات کی ہے تو وہ یقینی طور پر اس پر معافی مانگیں گے۔ برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ میں اپنی افواج کی ہمت اور بہادری اور اپنے ملک کے لئے دی گئی قربانیوں کو کبھی نہیں بھولوں گا۔ بہت سے ایسے فوجی بھی تھے، جو زخمی ہوئے اور کچھ زخموں نے اُن کی زندگیاں بدل کر رکھ دیں۔ برطانوی وزیر اعظم کا مزید کہنا تھا کہ میں صدر ٹرمپ کے ریمارکس کو توہین آمیز اور واضح طور پر خوفناک سمجھتا ہوں اور مجھے کوئی تعجب نہیں کہ اُن کے ان الفاظ نے ہلاک یا زخمی ہونے والوں کے پیاروں کو اور درحقیقت پورے ملک میں تکلیف پہنچائی ہے۔ برطانیہ کے علاوہ دیگر حکومتوں نے بھی صدر ٹرمپ کے اس بیان پر تنقید کی ہے۔ پولینڈ کے وزیر خارجہ جو افغانستان میں فرنٹ لائن پر خدمات سر انجام دینے والے 33ہزار پولینڈ کے فوجیوں میں شامل تھے، نے کہا کہ کسی کو بھی ہمارے فوجیوں کی خدمات کا مذاق اُڑانے کا حق نہیں ہے۔ کینیڈا کے وزیر برائے قومی دفاع ڈیوڈ جے میک گینٹی نے کہا کہ کینیڈین فوجی پہلے دن سے ہی محاذ جنگ پر تھے۔ اُنہوں نے قندھار میں اتحادی افواج کے شانہ بشانہ لڑتے ہوئے 158فوجیوں کی جانیں گنوائیں۔ یاد رہے کہ 2021ء میں افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلا سے قبل افغانستان میں 3500اتحادی فوجی ہلاک ہو چکے تھے، جن میں 2461امریکی جبکہ 457برطانوی فوجی تھے۔ صرف یورپ اور برطانیہ ہی نہیں مودی کے خلاف بھی ٹرمپ کا رویہ کچھ ایسا ہی ہے جبکہ گزشتہ دنوں وینزویلا پر کارروائی کر کے ٹرمپ نے اپنے اوپر دنیا بھر کے حکمرانوں اور سیاست دانوں کو اپنے اوپر تنقید کا کھلا موقع فراہم کیا ہے۔
ہم تبصرہ و کالم نگاروں کو جب تک پاکستان میں عمران پراجیکٹ روبہ عمل تھا۔ تب بھی سارا عرصہ اسی ٹرمپ کی طرح عمران پراجیکٹ کے اوٹ پٹانگ پر تبصرے کرنا پڑتے تھے۔ اب جب سے ٹرمپ آ گئے ہیں تو یہ مخصوص توجہ اب انہوں نے حاصل کر لی ہے۔ شاید اسی نفسیاتی مماثلت کی بنا پر عمران پراجیکٹ کے بعض حامی ٹرمپ کے الیکشن سے پہلے امیدیں لگائے بیٹھے تھے کہ جب ٹرمپ امریکی صدر بنے گا تو وہ اپنی وکٹری سپیچ میں ہی عمران کو رہا کر کے وزیراعظم پاکستان بنانے کا حکم جاری کر دے گا لیکن شاید ان کو یہ علم نہیں تھا کہ اس بار ٹرمپ کی ترجیحات کچھ اور ہیں اسے کیا غرض کہ ایک چلے ہوئے کارتوس کو اٹھا کر اس میں بارُود بھرنے پر اپنا قیمتی وقت ضائع کرتا پھرے۔ چلا ہوا کارتوس اس لئے کہ جسے لوکل آرمی چیف باجوہ نے اپنے چیف شپ کے دور میں ہی فارغ کر دیا ہو، واشنگٹن کو کیا ضرورت کہ وہ جھک کر اسے اٹھانے پر اپنا وقت ضائع کرے۔ ٹرمپ سے ایسی امیدیں رکھنے والے یہ بھی بھول گئے تھے کہ بھلا جو لوگ اس وقت پاکستان کے اقتدار پر قابض ہیں انہوں نے بھی کچی گولیاں نہیں کھیلی ہوئیں۔ وہ بھی پکے اور منجھے ہوئے کھلاڑی ہیں۔ ان کی کاریگری کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے ٹرمپ کو آتے ہی ایسے قابو کیا کہ اب ساری دنیا کو بھول کر ٹرمپ شب و روز انہی کو اپنا فیورٹ قرار دیتے نہیں تھکتے اور وہ بھی تو اس بڑبولے حکمران کی ہر چھوٹی بڑی خواہش کو فوری پورا کرنے پر تیار ہوتے ہیں۔ دہشت گرد پکڑ کر دینے ہوں۔ مودی کی گوشمالی کرنا ہو۔ نوبیل پرائز دیئے جانے کا مطالبہ کرنا ہو۔ یا کچھ اور وہ یک جان دو قالب کی مثال کو سچ ثابت کرنے پر کمر باندھے ہوئے ہیں۔ تازہ صورت حال ہی دیکھ لیں کہ ادھر غزہ کے لئے بنائے گئے ’’ بورڈ آف پیس‘‘ میں شمولیت کی دعوت دی گئی اور ادھر قبول کر لی گئی۔ دستخط بھی ہو گئے اور ڈیووس میں گپ شپ، ہنسی مذاق اور شریکوں کو جلانے کا کام بھی ہو گیا۔ سرگوشیاں بھی ہو گئیں اور ان سرگوشیوں پر دنیا بھر میں تبصرے بھی ہو گئے۔ اب ان سرگوشیوں سے متعلق بعض لوگ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ شہباز شریف نے شاید ٹرمپ سے یہ پوچھا تھا کہ بھائی جان! وینزویلا پر کارروائی سے کتنے ڈالر کمائے تھے۔ بہرحال اس رازونیاز اور پیار محبت کے چرچے گلی گلی نگر نگر عام ہیں۔
اب پی ٹی آئی یہ کہہ رہی ہے کہ ٹرمپ کے ساتھ غزہ ام بورڈ میں شمولیت کی یہ محبت کی نئی پینگ بڑھانے سے پہلے انہیں اعتماد میں کیوں نہیں لیا گیا حالانکہ یہ بات پورے ملک کے علم میں ہے کہ پی ٹی آئی جو کہ پہلے ہی بھارت اور افغان طالبان کا بیانیہ اپنائے ہوئے ہے۔ اسے بھلا اس خاص نوعیت کی ڈیفنس سٹریٹجی سے متعلق کیسے اعتماد میں لیا جا سکتا ہے البتہ مولانا اور مصطفیٰ نواز کھوکھر کا یہ مطالبہ ذاتی حوالوں سے تو درست ہے لیکن انہیں بھی یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اگر سعودی عرب کے ساتھ ہماری دفاعی شراکت داری کی شرائط اور ترجیحات آج تک کسی کو نہیں بتائی گئیں تو اس غزہ پیس بورڈ کی مکمل تفصیلات اور بعض ترجیحات و ضوابط بھی دنیا میں کسی طاقت یا شخصیت کے علم میں نہیں کیونکہ ایسے معاہدے مشتہر نہیں کئے جا سکتے۔ ہاں پاکستان کے اس بورڈ اور معاہدے میں شامل ہونے اور خاص طور پر چیف آف ڈیفنس فورسز آف پاکستان جنرل سید عاصم منیر کے اس بورڈ میں شامل ہونے کے بعد اس بات کی گارنٹی ہے کہ جو بھی ہو گا وہ فلسطین کے عوام اور امن و امان کے حق میں بہتر ہو گا۔ کیونکہ آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کے دور میں پاکستان حقیقت میں مرکز یقین شاد ہو گیا ہے۔ بیشک وہ غزہ پیس بورڈ کی میٹنگوں میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کے ساتھ ہی بیٹھیں گے لیکن یہ یاد رہے کہ ان کے ساتھ دنیا کے اکیاون ممالک کے پاکستان جیسے ہی تحفظات بھی ہوں گے اور معاہدے پر دستخط کرنے والے دیگر آٹھ ممالک کے تحفظات بھی سب کے پیش نظر ہوں گے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سعودی عرب بھی اس معاہدے میں ہمارے شانہ بشانہ ہو گا جس کے اب ہمارے ساتھ دفاعی مفادات مشترک ہیں لہٰذا امید یہی ہے کہ اب غزہ میں مستقل جنگ بندی کے لئے ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے جبکہ فلسطینیوں کے لئے انسانی مدد میں اضافہ اور غزہ کی تعمیر نو کی جائے گی۔ ان حالات میں اگر فلسطین میں امن اور جنگ بندی یقینی ہو جائے تو اس بورڈ میں شمولیت کے سیاسی اقدام کا نقصان کیا ہو گا جبکہ پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہہ رکھا ہے کہ پاکستان بورڈ آف پیس میں شامل ہو کر ان مقاصد کے حصول کو یقینی بنائے گا۔
دوسری جانب پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف کی ٹیم میں شامل ایک شخصیت کا کہنا ہے کہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کے حوالے سے کوئی شرائط نہیں رکھی گئیں۔ پوری دنیا جس طرح سے انگیج کر رہی ہے، پاکستان بھی وہی کر رہا ہے۔
بہرحال اس میں ہر ریاست کی نمائندگی حکومت یا ریاست کا سربراہ کرے گا اور اس میں شامل ہر ریاست کو ایک، ایک ووٹ کا حق حاصل ہو گا۔ تمام فیصلے رُکن ممالک کے اکثریتی ووٹوں کے تحت لئے جائیں گے تاہم اس کے لئے بھی چیئرمین کی منظوری درکار ہو گی۔ بین الاقوامی معاملات پر نظر رکھنے والے تجزیہ کار بھی اسلام آباد کے بورڈ آف پیس میں شمولیت پر منقسم آرا رکھتے ہیں۔ جیسا کہ ماضی میں واشنگٹن اور اقوامِ متحدہ میں بطور پاکستانی سفیر خدمات سر انجام دینے والی ملیحہ لودھی اسے غیرے دانشمندانہ فیصلہ سمجھتی ہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ پاک حکومت اس بات کو نظر انداز کر گئی کہ ٹرمپ دیگر ریاستوں کو بورڈ میں اس لئے شامل کر رہے ہیں تاکہ اپنی یکطرفہ کارروائیوں کے لئے بین الاقوامی حمایت یا حیثیت حاصل کی جا سکے۔ وہ کہتی ہیں کہ بورڈ نے اپنا دائرہ کار وسیع رکھا ہے، غزہ سے بھی آگے بڑھایا۔ شمولیت نہ کرنے کے لئے یہ وجہ بھی دیکھی جا سکتی تھی۔ ان کا ماننا ہے کہ پاکستان ایک ایسی تنظیم کا حصہ بن رہا ہے جسے ٹرمپ اقوامِ متحدہ کا متبادل سمجھ رہے ہیں اور جو ٹرمپ کی شخصیت تک ہی رہے گا اور ان کی صدارت ختم ہونے کے بعد جاری نہیں رہ سکتا۔
تاہم ہمارا تجزیہ یہ ہے کہ ہم پاکستان کی اس شمولیت کو ایک اچھا فیصلہ سمجھتے ہیں کیونکہ پاکستان اس بورڈ میں ایک سٹیک ہولڈر بن گیا ہے۔ جو کہ فلسطینیوں کے حق میں بہتر ہے۔ اس سے قبل غزہ کے لئے بین الاقوامی استحکام فورس کی بھی بات ہو رہی تھی۔ پاکستان میں افواہ یہ پھیلائی گئی کہ پاکستان اس فورس میں شامل ہو گیا ہے حالانکہ بورڈ آف پیس اور بین الاقوامی استحکام فورس دو الگ الگ چیزیں ہیں لیکن بین الاقوامی استحکام فورس بھی بورڈ آف پیس کی نگرانی میں ہی کام کرے گی اور پاکستان وہاں اپنے فوجی اہلکار بھیج سکے گا۔ خیال رہے کہ پاکستان نے تاحال بین الاقوامی استحکام فورس میں شمولیت اختیار کرنے کی حامی نہیں بھری اور متعدد سرکاری شخصیات کہہ چکی ہیں کہ اس فیصلے میں پارلیمنٹ کو شامل کیا جائے گا جبکہ بورڈ میں شامل ہونے کے بعد اب پاکستان سٹیک ہولڈر کی حیثیت سے سیاسی گفتگو میں شامل ہونے کا موقع حاصل کرے گا اور یہ مثبت بات ہے۔ اس معاملے پر پاکستان کو تنہا نہیں دیکھنا چاہیے۔ اس معاملے پر وہ عرب ممالک کے ساتھ کام کرتا ہے، جو دولت مند بھی ہیں اور ان کا اثر و رسوخ بھی زیادہ ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کا پاکستان پر اعتماد ہے۔ سادہ الفاظ میں یہی کہنا بہتر ہے کہ پاکستان کی موجودہ رجیم جس طرح سے دنیا بھر میں قدر و منزلت سمیٹ رہی ہے اور اپنی عسکری و سفارتی پالیسی میں کامیاب ہو رہی ہے۔ ان حالات میں امریکہ کی ناراضی یا پاکستان کے مفادات سے ہٹ کر کسی لائحہ عمل کی تیاری کا کوئی خدشہ نہیں۔ خاص طور پر جب تک وزیر اعظم شہباز شریف اور چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل سید عاصم منیر کے مابین ورکنگ ریلیشن شپ ہے۔

جواب دیں

Back to top button