Column

راکھ پر لکھے سلگتے سوال

راکھ پر لکھے سلگتے سوال
تحریر: محمد محسن اقبال
جب آخرکار شعلے دھوئیں میں تحلیل ہو گئے تو گل پلازہ ایک عمارت نہیں رہا، بلکہ کراچی کے وجود پر ثبت ایک ایسا زخم بن گیا جو وقت کے مرہم کو بھی قبول کرنے سے انکار کر رہا ہے۔ فضا میں جلی ہوئی کپڑوں، پلاسٹک، لکڑی اور انسانی خوابوں کی تلخ بو دیر تک معلق رہی۔ یہ محض آگ کے بعد کی فضا نہیں تھی، یہ محنت، رزق اور امید کے جل جانے کی گواہی تھی۔ سیاہ پڑی ہوئی دیواریں خاموش نوحہ خواں بن کر کھڑی تھیں، اور گرے ہوئے کنکریٹ کے نیچے صرف دکانیں اور سامان نہیں، بلکہ سینکڑوں خاندانوں کے مستقبل، بچوں کی تعلیم اور گھروں کے چولہے دفن ہو چکے تھے۔ آگ بجھ چکی تھی، مگر غم کی آگ ابھی سلگ رہی تھی۔
سڑک کے ایک کنارے، راکھ سے اٹے ٹوٹے زینوں پر دو بچے خاموشی سے بیٹھے تھے۔ ان کے اردگرد شور تھا، لوگ تھے، کیمرے تھے، مگر وہ دونوں ایک ایسی دنیا میں گم تھے جہاں لفظ بھی بوجھ بن جاتے ہیں۔ نہ وہ عورتوں کی طرح بین کر رہے تھے، نہ چیخ و پکار تھی۔ ان کا غم خاموش تھا، دبا ہوا تھا، اور اسی لیے کہیں زیادہ گہرا اور خوفناک تھا۔
’’ میرے والد روز انہ علی الصبح دکان کھولتے تھے‘‘، علی نے کہا، اس کا اسکول بیگ راکھ میں اٹا پاس ہی پڑا تھا۔ ’’ وہ کہتے تھے رزق عبادت ہے، اور کاروبار نماز کی طرح، اگر ابتدا میں کوتاہی ہو جائے تو دن کی برکت چلی جاتی ہے‘‘۔ اس کی نظریں سلگتی عمارت پر جمی رہیں۔ کل بتایا گیا کہ ان کی لاش شناخت کے قابل نہیں۔ امی بار بار پوچھتی ہیں کہ کوئی انسان اپنی ہی دکان میں کیسے گم ہو سکتا ہے؟
سارہ نے سر جھکا لیا۔’’ میرے والد دوسری منزل پر کپڑے بیچتے تھے‘‘، اس نے دھیمی آواز میں کہا۔’’ انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ اپنی کمائی سے جلد مجھے نیا یونیفارم دلوائیں گے۔ گھر سے نکلتے وقت کہا تھا کہ آج گاہک زیادہ ہیں، دیر ہو جائے گی‘‘۔ اس کی آواز لرزنے لگی۔’’ انہوں نے الوداع نہیں کہا۔ اب نہ دکان ہے، نہ کپڑا، نہ وعدہ۔ کہتے ہیں کئی لوگ اب بھی لاپتہ ہیں۔ شاید کچھ زندہ ہوں، شاید صرف فہرستیں نامکمل ہوں‘‘۔
گل پلازہ محض ایک تجارتی مرکز نہیں تھا۔ وہ سیکڑوں گھروں کی روزی، وقار اور بقا کا سہارا تھا۔ اس کی تباہی کے ساتھ ہی سیکڑوں گھروں کے چولہے بجھ گئے۔ باورچی خانوں میں خاموشی اتر آئی، بچوں کی فیس ایک اذیت ناک سوال بن گئی، اور قرضے خوف کی صورت دروازوں پر دستک دینے لگے۔ اس آگ نے صرف لکڑی اور سامان نہیں جلایا، اس نے لوگوں کا اعتماد، تحفظ اور کل پر یقین بھی راکھ کر دیا۔
علی نے مٹھیاں بھینچ لیں۔ ’’ کہتے ہیں آگ اس لیے پھیلی کہ عمارت غیر محفوظ تھی، نہ ایمرجنسی راستے، نہ فائر سیفٹی انتظامات، نہ تعمیر میں کوئی نظم۔ تاریں اس طرح لٹک رہے تھے جیسے مکڑی کے جال‘‘۔ اس کی آواز میں دبی ہوئی تلخی تھی۔ ’’ اگر سب کچھ معلوم تھا تو اسے چلنے کیوں دیا گیا؟ یہ حکومت کی ناکامی تھی، انتظامیہ کی غفلت، یا ہماری اجتماعی بے حسی جو ہر خطرے کو قسمت کہہ کر قبول کر لیتی ہے؟‘‘۔
سارہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ ’’ میرے والد کہا کرتے تھے کہ سیڑھیاں سامان سے بھری رہتی ہیں‘‘، اس نے کہا ’’ وہ ہنستے ہوئے کہتے تھے کہ یہاں قانون ایک مذاق ہے‘‘۔ اس نے گہرا سانس لیا ’’ مگر سوال یہ ہے کہ ہم ہمیشہ لاشیں اٹھانے کے بعد ہی عمارتوں کا معائنہ کیوں کرتے ہیں؟ کیا زندہ انسانوں کی کوئی قیمت نہیں؟‘‘۔
سائرن خاموش ہو چکے تھے، مگر غم ہر گلی اور ہر دل میں گونج رہا تھا۔ نام پکارے جا رہے تھے اور پھر دھوئیں میں تحلیل ہو جاتے تھے۔ کئی لاشیں اس حد تک جل چکی تھیں کہ شناخت ممکن نہ رہی، اور یوں خاندانوں سے آخری دیدار کی نعمت بھی چھن گئی۔ گھروں میں مائیں شوہروں کی قمیضیں سینے سے لگائے بیٹھی تھیں، بچے ایسے الفاظ سن رہے تھے جن کے معنی وہ نہیں جانتے تھے، معاوضہ، انکوائری، کمیٹی، ایسے الفاظ جو کسی باپ کی کمی پوری نہیں کر سکتے۔
’’ میرے والد کی دکان ہمیں پالتی تھی‘‘، علی نے آہستہ کہا۔ ’’ اسی کمائی سے بہنیں پڑھتی تھیں، اسی سے دوا آتی تھی، اسی سے عزت بچی رہتی تھی‘‘۔ اس کی آواز ٹوٹ گئی۔ ’’ اب چولہا ٹھنڈا ہے۔ امی پوچھتی ہیں ہم کیسے زندہ رہیں گے۔ میرے پاس کوئی جواب نہیں‘‘۔
سارہ نے راکھ آلود ہتھیلیوں کو دیکھا۔’’ میرے والد کا کاروبار ہمارا مستقبل تھا‘‘، اس نے کہا۔’’ وہ کہتے تھے ایک دن یہ دکان ہماری پہچان بنے گی‘‘۔ اس کی سسکیاں اب ضبط سے باہر تھیں۔’’ ان کی لاش بھی نہیں ملی۔ خواب کو قبر کے بغیر کیسے دفن کیا جاتا ہے؟‘‘۔
ملبے کے درمیان اہلکار فائلیں اور کیمرے لیے آتے جاتے رہے، تحقیقات اور کمیٹیوں کے وعدے دہراتے ہوئے۔ علی نے انہیں دیکھ کر کہا،’’ یہ تحقیق کریں گے، جیسا کہ ہر سانحے کے بعد ہوتا ہے۔ مگر کیا کسی کو سزا ملے گی؟ یا یہ آگ بھی فائلوں کے نیچے دفن ہو جائے گی؟‘‘َ
یہ سوال صرف علی اور سارہ کے نہیں تھے۔ بغیر جانچ کے اجازت نامے، کبھی نہ ہونے والے معائنے، منافع کے لیے توڑے گئے قوانین اور نظرانداز کی گئی وارننگز، سب نے مل کر اس المیے کو جنم دیا تھا۔ ذمہ داری اتنی بکھر چکی تھی کہ کوئی ایک ہاتھ آگے بڑھ کر اسے تھامنے کو تیار نہ تھا۔
شام ڈھلی تو قریبی گھروں میں چراغ روشن کیے گئے، نہ خوشی کے لیے بلکہ خاموش پہرے کے طور پر۔ دسترخوان سجے مگر بھوک کسی کو یاد نہ رہی۔ بچے اندھیرے میں جاگتے رہے، بہت کم عمر میں یہ سیکھتے ہوئے کہ زندگی ایک لمحے میں بدل سکتی ہے۔ اس آگ نے صرف جانیں نہیں لیں، اس نے خاندانوں سے وقار، تحفظ اور امید بھی چھین لی۔
علی نے آہستہ سے اپنا اسکول بیگ اٹھایا۔’’ مجھے آنے والے کل سے ڈر لگتا ہے‘‘، اس نے کہا۔’’ مجھے ڈر ہے کہ میرے والد کا نام بھی ایک فہرست بن کر رہ جائے گا، اور ان کی موت کچھ نہیں بدلے گی‘‘۔
سارہ اس کے ساتھ کھڑی ہو گئی۔’’ مجھے بھی ڈر لگتا ہے‘‘، اس نے کہا۔’’ مگر شاید ہمارا درد خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ گل پلازہ کوئی حادثہ نہیں تھا، یہ آگ میں لکھی گئی ایک وارننگ تھی‘‘۔ ’’ ایوانوں میں اس سانحے پر تقریریں ہوں گی، متاثرین کے ہاتھوں میں چیک بھی تھمائے جائیں گے، مگر ہمارا ہاتھ کون تھامے گا؟ کون سر پر ہاتھ رکھے گا اور کون ہمارے مستقبل کو محفوظ کرے گا؟‘‘۔
ان بچوں کے عقب میں گل پلازہ کی راکھ بھاری اور الزام لگاتی ہوئی پڑی تھی۔ جب تک ذمہ داری قبول نہیں کی جاتی، نظم و ضبط نافذ نہیں ہوتا، اور انسانی جان کو منافع سے زیادہ قیمتی نہیں سمجھا جاتا، علی اور سارہ جیسے بچوں کی سسکیاں ان کھنڈرات سے اٹھتی رہیں گی، مدھم، ٹوٹی ہوئی اور درد سے بھری، ایسے سوال پوچھتی ہوئی جنہیں وقت بھی خاموش نہیں کر سکتا۔

جواب دیں

Back to top button