غزہ امن بورڈ و فورس

غزہ امن بورڈ و فورس
محمد مبشر انوار
صدر ٹرمپ نے کچھ تاخیر کے بعد ہی سہی لیکن غزہ کی صورتحال پر توجہ دی ہے اور اپنے امن منصوبہ کو آگے بڑھاتے ہوئے، امن بورڈ کا اعلان کر دیا ہے۔ امن بورڈ کے اراکین پر نظر دوڑائیں تو اس میں بطور چیئرمین صدر ٹرمپ خود موجود ہیں تو ان کے ساتھ، سٹیٹ وٹلوف، مارکو روبیو کے علاوہ جیرڈ کشنر بھی اس بورڈ کا حصہ دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے علاوہ جن شخصیات کو بورڈ کا حصہ بنایا گیا ہے، ان کی اکثریت ہمیں رئیل اسٹیٹ سے متعلق شخصیات کی دکھائی دیتی ہے جس سے صدر ٹرمپ کے دماغ میں جو منصوبہ ہے، عیاں ہوتا ہے کہ وہ غزہ میں امن پلان کے پس پردہ، غزہ میں کس طرح کی ترقی چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے صدر ٹرمپ کا اولین اعلان کہ امریکہ بذات خود غزہ کا کنٹرول سنبھال کر، اسے ایک عالمی معیار کی تفریح گاہ زون میم تبدیل کرنے کا خواہشمند ہے، اس بورڈ کی تشکیل میں بھی دکھائی دے رہا ہے اور صدر ٹرمپ کے عزائم کو عیاں کر رہا ہے۔ اس بورڈ کی تشکیل کے بعد یہ سمجھنا کہ غزہ کے شہریوں یا فلسطین کے لئے ایک آزاد، خودمختار ریاست کا قیام ممکن ہو گا، مجھے خام خیالی لگتا ہے کہ اس بورڈ میں شامل شخصیات کا خلوص بہرکیف کسی بھی صورت ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام دکھائی نہیں دیتا اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ غزہ کے شہریوں کو ان کے آبائی وطن میں مزید برداشت کیا جائے بلکہ زیادہ امکان یہی ہے کہ ہر صورت غزہ کو اس کے شہریوں سے پاک کرکے، اس خطے میں عالمی معیار کی تفریح گاہ بنائی جائے، جس کا براہ راست کنٹرول خود امریکہ کے پاس ہو۔ رہی بات اسرائیل کی، تو ایسی کسی بھی تفریح گاہ، جس کا انتظام براہ راست امریکہ کے پاس، کسی بھی صورت اسرائیل کے لئے خطرہ نہیں ہو سکتی، البتہ غزہ سے متصل سمندر میں کھربوں ڈالر کے جو معدنی وسائل ہیں، ان کی تقسیم کس طرح ممکن ہو گی اور کیا اسرائیل، جو اس وقت بھی ان وسائل کو ناجائز اور بلا اختیار اپنے تصرف میں لا رہا ہے، ان سے کیسے دستبردار ہو گا، یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ رہی بات خطے کے مسلم ممالک کی کہ آیا انہیں اس خطے میں براہ راست امریکی موجودگی قبول ہو گی یا نہیں، تو میری دانست میں یہ سوال اس لئے غیر اہم ہو جاتا ہے کہ امریکہ پہلے ہی پورے خلیج میں اپنے پنجے گاڑے ہوئے ہے، تقریباً ہر ریاست میں اس کی موجودگی ہے اور تحفظ کے نام پر امریکہ، خطے کی مسلم ریاستوں کے وسائل بھرپور طریقہ سے نچوڑ رہا ہے لیکن کسی ایک ریاست کو بھی، دفاعی اعتبار سے خود کفیل بننے نہیں دیا جاتا۔ گو کہ اس میں قصور، ان ریاستوں کا بھی ہے، جنہوں نے اپنے دفاع کے لئے ایک ایسی ریاست کو منتخب کر رکھا ہے، جو تاریخی اعتبار سے کسی بھی صورت، ان کی محافظ نہیں ہو سکتی لیکن بدقسمتی سے حالات و واقعات نے ان ریاستوں کو امریکہ پر دفاعی اعتبار سے انحصار پر مجبور کر رکھا ہے یا یوں سمجھ لیں کہ امریکی چنگل میں پھنسا رکھا ہے۔
بہرکیف امن بورڈ کی تشکیل کے بعد، صدر ٹرمپ نے ایک اور اہم کارروائی یہ کی ہے کہ امن کمیٹی کے نام سے دنیا بھر کے ممالک کو اس کا حصہ بننے کی دعوت دے دی ہے، تاہم اس کمیٹی کا رکن بننے کے لئے، ہر ریاست سے، رکنیت فیس کے نام پر، ایک ارب ڈالر فیس طلب کی ہے۔ اس رکنیت فیس کے متعلق صدر ٹرمپ کا پلان یہ ہے کہ اس رقم سے، غزہ کی تعمیر نو کی جائے گی اور یہاں ترقی و تعمیر کر کے اپنے تفریح گاہ کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائیگا ۔ صدر ٹرمپ کی اس کوشش کو عالمی سطح پر دو طریقوں سے دیکھا جا رہا ہے، اولا یہ کہ امریکی معاشی حالت اس قدر دگرگوں ہو چکی ہے کہ وہ امریکہ جو اس قبل تک ، دنیا بھر میں، تعمیر و ترقی و تعمیر نو کی خاطر، امداد دینے میں سر فہرست دکھائی دیتا تھا، آج اس کی معاشی حالت اس قدر پتلی ہو چکی ہے کہ وہ اپنے خزانے سے ایسی امداد کرنے سے قاصر ہے تو دوسری طرف یہ ٹھوس رائے بھی بخوبی پائی جاتی ہے کہ امریکہ اس اقدام سے نہ صرف اپنی خستہ حال معاشی صورتحال کو بچا رہا ہے، بلکہ رکنیت فیس کے نام پر اکٹھی ہونے والی رقم سے، امریکی کمپنیوں کے لئے مزید مواقع بھی حاصل کرے گا اور اس رقم سے امریکی معیشت کو بحال کرنے کا عمل کو بھی مدد فراہم کرے گا۔ ان دونوں آراء سے قطعا انکار نہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس تنازع میں، اس امریکی کردار کی توقع تھی کہ وہ غزہ میں ہونے والی نسل کشی کا مداوا، اپنے مفادات کشید کرتے ہوئے، اتنا غیر حقیقی و غیر منصفانہ حل تجویز کرے گا؟ تجویز کردہ یہ حل، امریکی ساکھ پر صرف ایک سوالیہ نشان ہی نہیں بلکہ اس کے زوال کا سبب بھی بنے گا کہ عالمی طاقت کا ایسا رویہ کسی بھی صورت اسے، عالمی طاقت کے عہدے پر براجمان نہیں رکھ سکتا اور جلد یا بدیر اس کا انجام عبرتناک زوال کو صورت ہی سامنے آئیگا، جو قانون قدرت کے عین مطابق ہو گا، ان شاء اللہ۔
دوسری طرف، امن فورس کی تشکیل پر بہت سے سوال اٹھ رہے ہیں اور امن کمیٹی میں شامل ممالک کی فہرست میں ظالم اسرائیل کی موجودگی کسی بھی صورت امن فورس کو اس کے فرائض کی ادائیگی نہیں کرنے دے گی۔ اس کا سادہ سا اظہار اسرائیل کی ڈپٹی منسٹر ڈیوس میں اپنے ایک انٹرویو میں کر چکی ہیں اور کسی بھی صورت پاکستان، ترکی اور قطری افواج کی امن فورس میں شمولیت کو سختی سے مسترد کر چکی ہیں۔ ان کے نزدیک یہ ممالک، اسرائیل کے ساتھ نظریاتی اختلاف رکھتے ہیں لہذا اس ایک بنیادی نکتے پر، اسرائیل کو قوی گمان ہے کہ ان ممالک کی افواج کی امن فورس میں موجودگی، کسی بھی صورت حماس کو غیر مسلح کرنے میں معاون ثابت نہیں ہو گی بلکہ اس کے برعکس، حماس کو مزید مضبوط کرنے کے مترادف ہو گی۔ اس پر حکومت پاکستان کا باقاعدہ موقف بھی ایسا ہی سامنے آیا ہے کہ حکومت پاکستان نے امریکہ سے امن فورس کے مینڈیٹ کو بالکل واضح کرنے کے لئے کہا ہے تاکہ افواج پاکستان، اگر اس کا حصہ بنتی ہے تو ان کا کردار بالکل واضح ہو، نہ کہ اس میں کوئی ابہام پایا جائے، اس مینڈیٹ پر بھرپور طریقے سے عملدرآمد کروا سکیں اور کسی قسم کا کوئی تنازع کھڑا نہ ہو۔ موجودہ حالات میں حکومت پاکستان ایسا ہی موقف اختیار کرنا چاہئے تھا لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ حکومتی موقف، پس پردہ عموما ظاہری موقف سے بالکل الٹ ہوتا ہے، جس کی وجہ سے عوام ایسے کسی بھی حکومتی موقف کو پذیرائی بخشنے سے احتراز کرتے ہیں بلکہ ہمیشہ ایسے کسی بھی موقف پر شدید شکوک و شبہات رکھتے ہیں۔ ایسی ہی صورتحال اس وقت امن فورس کے حوالے سے دکھائی دیتی ہے، گو کہ عوام کسی بھی حکومتی پیشرفت کو روکنے کی طاقت نہیں رکھتے اور نہ ہی حکومتی فیصلے یا مقتدرہ اپنے لائحہ عمل سے پیچھے ہٹنے والی ہے، لیکن اس کا سراسر نقصان ریاست پاکستان اور عوام پاکستان کو ہو گا۔ گو کہ اس ضمن میں سب سے بڑا سوال، سب سے بڑی کنفیوژن اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے ہے، جس کے متعلق خبر ہے کہ امن منصوبے میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کی شرط موجود نہیں، لہذا یہ سوال فی الوقت تو سر اٹھانے سے رہا کہ پاکستان اپنے اصولی موقف پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر رہا، لیکن کیا یہ حتمی ہے یا اس کو بتدریج اسرائیل کو تسلیم کرنے تک لے جایا جائیگا ؟۔ جیسا عموما امریکی لائحہ عمل رہا ہے کہ آہستہ آہستہ مسلم ممالک کو اپنے مقاصد کے قریب قدم بقدم لایا جائے اور ان کے لئے آخر میں کوئی گنجائش ہی نہ چھوڑی جائے کہ وہ امریکی مقاصد کو تسلیم کیے بغیر رہ سکیں۔ تاحال امن بورڈ و فورس کے یہی مقاصد سامنے دکھائی دیتے ہیں کہ امریکہ ہر صورت دنیا کے مختلف خطوں پر اپنا براہ راست اقتدار دیکھنا چاہتا ہے اور اس ضمن میں غزہ اس کا پہلا ہدف دکھائی دے رہا ہے، جبکہ وینزویلا و گرین لینڈ اس کے اگلے اہداف ہیں، دیکھتے ہیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور صدر ٹرمپ اپنے ہوس اقتدار و توسیع پسند منصوبوں میں کامیاب ہوتے ہیں یا اس سے پہلے ہی اپنی مدت صدارت طے کرتے ہیں۔





