Column

حکومتی اصلاحات، آئی ایم ایف کا اعتراف

حکومتی اصلاحات، آئی ایم ایف کا اعتراف
پاکستان کی اقتصادی ترقی اور استحکام کے حوالے سے وزیرِاعظم شہباز شریف کی قیادت اور اصلاحات کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جانا ایک مثبت اور حوصلہ افزا خبر ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے ( آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے وزیرِاعظم شہباز شریف کی معاشی اصلاحات کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ وزیرِاعظم کی تہہ دل سے عزت کرتی ہیں، انہوں نے حکومت پاکستان کی معاشی پالیسیوں کو قابلِ ستائش قرار دیا۔ یہ اعتراف نہ صرف پاکستان کے لیے عالمی سطح پر اعتماد پیدا کرتا ہے بلکہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ ملک کی اقتصادی صورت حال میں بہتری کی راہیں واضح ہیں۔ کرسٹالینا جارجیوا نے عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر ڈیووس میں کہا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف جب کسی کام کا عزم کرلیتے ہیں تو اسے مکمل کرنے تک پیچھے نہیں ہٹتے۔ یہ وصف ایک مضبوط قیادت کی پہچان ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں موجودہ حکومت معاشی اصلاحات پر سنجیدگی سے عمل پیرا ہے۔ معاشی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط، محصولات اور پائیدار ترقی کی کوششیں نہ صرف ملکی استحکام کے لیے اہم ہیں بلکہ ان کا اثر عالمی سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی اداروں پر بھی پڑتا ہے۔ یاد رہے کہ عالمی اقتصادی فورم کے 56ویں سالانہ اجلاس کے موقع پر وزیرِاعظم شہباز شریف اور آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کی ملاقات بھی ہوئی۔ اس ملاقات میں پاکستان کے میکرو اکنامک اشاریوں میں بہتری، عالمی اقتصادی نقطہ نظر اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان عالمی اقتصادی نظام کے ساتھ مربوط رہنے کی پالیسی پر عمل کررہا ہے اور معاشی استحکام کے لیے بین الاقوامی تعاون کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ملاقات کے دوران اقتصادی استحکام کے تحفظ میں کثیرالجہتی تعاون کی اہمیت پر بھی گفتگو ہوئی۔ یہ پہلو انتہائی اہم ہے کیونکہ عالمی اقتصادی ترقی اور سرمایہ کاری کے مواقع تب ہی ممکن ہیں جب ممالک ایک دوسرے کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے مشکلات کا حل تلاش کریں۔ پاکستان نے اس حوالے سے واضح موقف اختیار کیا ہے کہ ملکی معاشی ترقی کے لیے اصلاحات کو جاری رکھا جائے گا اور مالیاتی نظم و ضبط کو بہتر بنایا جائے گا۔ وزیرِاعظم شہباز شریف نے اس موقع پر ادارہ جاتی اصلاحات پر پیش رفت سے بھی ایم ڈی آئی ایم ایف کو آگاہ کیا اور مالیاتی نظم و ضبط، محصولات میں بہتری اور پائیدار ترقی کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ یہ اقدامات اس بات کی دلیل ہیں کہ پاکستان کے پاس طویل مدتی ترقی کی منصوبہ بندی موجود ہے اور حکومت معاشی استحکام اور مالیاتی شفافیت کے لیے سنجیدہ ہے۔پاکستان میں معاشی استحکام کے لیے اصلاحات کی ضرورت دیرینہ تھی۔ گزشتہ برسوں میں ملکی معیشت کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا جن میں مہنگائی، بجٹ خسارہ، مالیاتی عدم توازن اور کرنسی کی قدر میں اتار چڑھائو شامل ہیں۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں موجودہ حکومت نے ان مسائل کا سامنا کرتے ہوئے واضح اور مربوط اصلاحاتی پالیسی ترتیب دی ہے۔ اس پالیسی کا مقصد نہ صرف مالیاتی خسارے کو کم کرنا اور محصولات بڑھانا ہے بلکہ معاشرتی ترقی اور سرمایہ کاری کے لیے بھی ایک مستحکم بنیاد فراہم کرنا ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں کی تعریف اور مثبت ردعمل پاکستان کے لیے اقتصادی اعتبار سے اعتماد کی علامت ہیں۔ یہ عالمی سطح پر سرمایہ کاری کے مواقع کو بڑھانے اور بیرونی سرمایہ کاروں کو ملکی معیشت میں شمولیت کی ترغیب دینے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، یہ پاکستان کے بین الاقوامی تعلقات کو مضبوط بنانے اور عالمی اقتصادی فورمز میں ملک کی ساکھ کو بہتر کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ وزیر اعظم کی قیادت میں معاشی اصلاحات میں شفافیت، مالیاتی نظم و ضبط اور ادارہ جاتی بہتری کے اقدامات شامل ہیں۔ یہ اصلاحات نہ صرف موجودہ حکومت کی سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہیں بلکہ یہ مستقبل میں ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان اصلاحات کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھے اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے معاشی استحکام کو یقینی بنائے۔ آخرکار، کرسٹالینا جارجیوا کا پاکستان کی معاشی اصلاحات کی تعریف کرنا اور وزیرِاعظم شہباز شریف کی قیادت کی ستائش کرنا ایک مثبت پیغام ہے۔ یہ پیغام نہ صرف حکومتی اقدامات کی درستی کی تصدیق کرتا ہے بلکہ عوام، سرمایہ کاروں اور عالمی اداروں کے لیے بھی اعتماد کا باعث ہے۔ پاکستان کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اور عوام مل کر اقتصادی اصلاحات کی اس راہ پر قائم رہیں اور ملک کو معاشی استحکام اور ترقی کی بلند منازل تک پہنچائیں۔
برفانی تودہ گرنے سے 9افراد جاں بحق
پاکستان کے بالائی علاقوں میں حالیہ شدید برفباری نے زندگی کو مفلوج کر دیا ہے اور متعدد انسانی جانوں کو نگل لیا ہے۔ چترال کے ڈومیل میں ایک گھر پر برفانی تودہ گرنے کے نتیجے میں نو افراد جاں بحق ہو گئے، جن میں چار خواتین اور پانچ مرد شامل ہیں، جبکہ ایک بچہ زخمی ہوا ہے۔ یہ المناک واقعہ ایک بار پھر یہ واضح کرتا ہے کہ قدرتی آفات کے اثرات نہ صرف انسانی زندگی کے لیے خطرناک ہیں بلکہ انتظامی تیاری اور آگاہی کے فقدان کی صورت میں تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر چترال کے مطابق جاں بحق افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں اور ابتدائی امدادی اقدامات بروقت کیے گئے۔ تاہم، یہ صورتحال ہمیں یاد دلاتی ہے کہ بالائی علاقوں میں رہنے والے شہری اور مقامی انتظامیہ کو قدرتی خطرات کے حوالے سے مستقل تیاری کرنی ہوگی۔ ڈومیل میں پیش آنے والا سانحہ ایک ایسا واقعہ ہے جو انسانی جان کی قیمت اور قدرتی آفات کے اثرات کے بارے میں گہری سوچ کا مطالبہ کرتا ہے۔ وادی تیراہ میں شدید برف باری کی وجہ سے پھنسے ہوئے داخلی مہاجرین (IDPs)کی محفوظ مقامات پر منتقلی کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ ڈپٹی کمشنر خیبر کے مطابق انتظامیہ کی بروقت نگرانی اور اقدامات کی بدولت متاثرہ خاندان محفوظ رہے۔ یہ واضح کرتا ہے کہ اگر انتظامی نظام درست ہو اور ریسکیو ٹیمیں فعال ہوں تو انسانی جانوں کو بچایا جا سکتا ہے، لیکن یہ صرف عارضی کامیابی ہے۔ مستقل منصوبہ بندی اور احتیاطی اقدامات کے بغیر یہ اقدامات محدود اثر رکھتے ہیں۔ بالائی علاقوں میں سڑکیں بند ہونے، رابطہ کے ذرائع متاثر ہونے اور حادثات میں افراد کی ہلاکت کی خبریں عام ہوگئی ہیں۔ این۔50شاہراہ کان مہترزئی، خانوزئی اور مسلم باغ میں شدید برف باری کی وجہ سے ٹریفک شدید متاثر ہوئی اور بین الصوبائی شاہراہ پر مسافر اور مال بردار گاڑیاں پھنس گئیں۔ این۔50پر نو مختلف حادثات میں 27افراد زخمی ہوئے۔ کوعک ٹاپ پر شدید سردی کے باعث درجہ حرارت منفی بارہ ڈگری تک گر گیا، جس نے سفر کرنے والوں کی مشکلات کو بڑھا دیا۔ بلوچستان کے شمالی بالائی علاقوں میں بھی برفانی طوفان جاری رہا۔ زیارت جانے والے سیاحوں کی درجنوں گاڑیاں شاہراہ پر پھنس گئیں جبکہ چمن کے گردونواح میں سو سے زائد سیاح گاڑیوں میں محصور ہوگئے۔ میانوالی کے پپلاں میں بارش کے باعث مرغی خانے کی چھت گرنے سے سترہ سالہ عبدالرحمن جاں بحق ہوا اور دو افراد شدید زخمی ہوئے۔ لاہور سمیت پنجاب کے میدانی علاقوں میں بارش اور پہاڑوں پر برف باری سے سردی کی شدت میں اضافہ ہوا اور محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں میں تیز بارش اور شدید برف باری کا امکان ظاہر کیا ہے۔ پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مری میں شام سے وقفے وقفے سے برفباری جاری رہی اور تقریباً بارہ انچ برف ریکارڈ کی گئی۔ دیگر علاقوں جیسے مانسہرہ، بالائی گلیات، شانگلہ، لوئر دیر، مہمند، کالام، اورکزئی، چترال اور خیبر پختونخوا کے بالائی اضلاع میں بھی شدید برف باری ہوئی، جس سے ہزاروں گاڑیاں سڑکوں پر پھنس گئیں اور متعدد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ یہ صورتحال نہ صرف انسانی زندگی کے لیے خطرناک ہے بلکہ روزمرہ زندگی، ٹریفک، تجارت اور تعلیم پر بھی برا اثر ڈال رہی ہے۔ اس کے پیش نظر ضروری ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے بروقت آگاہی مہمات، ریسکیو آپریشنز اور حفاظتی اقدامات کو یقینی بنائیں۔ عوام بھی غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں اور موسم کی شدت کے دوران حفاظتی تدابیر اختیار کریں۔ قدرتی آفات کے اثرات سے بچا صرف حکومتی اقدامات سے ممکن نہیں۔ ہر شہری کو اپنی حفاظت، محتاط رویہ اور متوقع خطرات کے بارے میں آگاہی ضروری ہے۔ برف باری اور بارش کے دوران بروقت احتیاط نہ صرف جانیں بچا سکتی ہے بلکہ معاشرتی نظام کو بھی بہتر اور مستحکم رکھ سکتی ہے۔

جواب دیں

Back to top button