
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ میں 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کی قانون سازی کو غیر اسلامی سمجھتا ہوں۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے اسپیکر سے کہا کہ مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ آپ دباؤ میں ہیں۔
اس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ یہ ایسی کرسی ہے جس سے نہ حکومت خوش ہوتی ہے نہ اپوزیشن۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس قانون سازی کو اسلامی نظریاتی کونسل بھیجتے تو اچھا ہوتا، میں آپ کے قانون کی خلاف ورزی کروں گا، 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کی شادیاں کراؤں گا۔
انہوں نے کہا کہ میں اپنا شدید احتجاج ایوان میں ریکارڈ کرا رہا ہوں، ہم ایسے قوانین اس ملک میں نہیں چلنے دیں گے، میں آپ کے اس مائنڈ سیٹ کے خلاف ہوں جس نے یہ قانون بنایا، یہ ڈنگ ٹپاؤ کی سیاست مناسب نہیں







