کراچی میں موت کا ایک طویل سلسلہ

کراچی میں موت کا ایک طویل سلسلہ
تحریر: تجمّل حسین ہاشمی
کراچی، جو پاکستان کی معاشی حب کہلاتا ہے، گزشتہ دہائیوں سے ایسے المیوں کی لپیٹ میں ہے جو نہ قدرتی ہے، نہ ناگزیر، بلکہ مکمل طور پر انسانی غفلت، ریاستی نااہلی اور انتظامی مجرمانہ لاپرواہی کا نتیجہ ہے۔ کراچی محنت، تجارت اور روزگار کی علامت سمجھا جاتا ہے، مگر اب اس کی شناخت موت اور لاشوں سے جڑتی جا رہی ہے۔2016ء سے 2026ء تک اگر کراچی کے بڑے آتشزدگی کے واقعات کا جائزہ لیا جائے تو ایک لرزہ خیز حقیقت ہے۔ گل پلازہ، ایمپریس مارکیٹ، نعمان پلازہ، کلیفٹن شاپنگ سینٹر، ملینیم مال، آر جے شاپنگ مال، چاولہ مارکیٹ، کوآپریٹو مارکیٹ، چیز اپ ڈیپارٹمنٹل اسٹور اور دیگر تجارتی مراکز، یہ سب اب صرف کاروباری نام نہیں رہے، بلکہ ریاستی ناکامی کی علامت بن چکے ہیں۔ ہولناک سانحہ میں یہ بھی ایک بڑا واقعہ ہے ، گل پلازہ دوسری مرتبہ آگ کی لپیٹ میں آیا۔ اس ایک واقعے میں کم از کم 80قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں، جن میں ایک فائر فائٹر بھی شامل ہے۔ یہ 2012ء کے بلدیہ فیکٹری سانحے کے بعد کراچی کا سب سے بڑا آتشزدگی کا واقعہ ہے، بلدیہ فیکٹری جہاں ڈھائی سو سے زائد مزدور زندہ جل گئے تھے۔ کئی دن تک لاشیں نکالی جاتی رہیں، متعدد افراد آج بھی لاپتہ ہیں اور سیکڑوں خاندان ایسے ہیں جن کے گھروں کے چولہے ہمیشہ کے لیے بجھ گئے۔ اس سے قبل فروری 2025ء میں کلیفٹن شاپنگ سینٹر، جون 2025ء میں ملینیم مال، 2024ء میں رِمپا پلازہ کے مسلسل واقعات، دسمبر 2024ء میں ایمپریس ، نعمان پلازہ اور گلستانِ جوہر کی فرنیچر مارکیٹ کی تباہی، یہ سب محض حادثات نہیں تھے، بلکہ آنے والے سانحات کے واضح انتباہ تھے، جنہیں حکومتوں کی طرف سے حسبِ روایت نظر انداز کر دیا گیا۔ نومبر 2023ء میں آر جے شاپنگ مال کی آگ میں 11افراد ہلاک ہوئے، اکتوبر 2021ء میں چاولہ مارکیٹ اور جون 2022ء میں چیس اپ ڈیپارٹمنٹل اسٹور میں بھی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔ 2016ء میں گل پلازہ کی پہلی آگ بھی انتظامیہ کے لیے ایک وارننگ تھی، مگر اس سے کوئی سبق حاصل نہ کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار محض نمبر نہیں، یہ وہ انسانی کہانیاں ہیں، جن میں مائیں اپنے بیٹوں کا انتظار کرتی رہ گئیں، بچے اپنے باپ کی راہ تکتے رہے، اور وہ فائر فائٹر شامل ہیں جو شہریوں کی جان بچانے نکلے اور خود قربان ہو گئے۔ صرف بڑے تجارتی مراکز میں لگنے والی آگ میں دس سال کے دوران 100سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جبکہ گھروں، گوداموں اور چھوٹی دکانوں میں لگنے والی روزمرہ آگ کا کوئی مستند ریکارڈ تک موجود نہیں۔ وجوہات میں ناقص اور پرانی وائرنگ، شارٹ سرکٹ، غیر قانونی تعمیرات، فائر سیفٹی نظام کی عدم موجودگی، ایمرجنسی راستوں کا بند ہونا، اور سب سے بڑھ کر سرکاری اداروں کی مکمل ناکامی ہے۔ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، میونسپل کارپوریشن، کے الیکٹرک، فائر بریگیڈ اور ضلعی انتظامیہ سب ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال کر بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ ہر سانحے کے بعد کمیٹیاں بنتی ہیں، رپورٹس تیار ہوتی ہیں، مگر نہ کوئی سزا ہوتی ہے، نہ کوئی اصلاح ۔ کراچی کے تاجر، جو اس شہر اور ملک کا ستون ہیں، ہر چند سال بعد اپنی عمر بھر کی کمائی کو راکھ میں تبدیل ہوتا دیکھتے ہیں۔ مائوں نے اپنے بچوں کو گولیوں کھاتے دیکھا ہے۔ شہریوں کے پاس نہ ریاستی تحفظ اور نہ ہی انصاف کی امید ۔ ریاست محض تعزیتی بیانات سے آگے بڑھے کے لیے تیار نہیں۔ سخت فائر سیفٹی قوانین، باقاعدہ اور غیر جانبدار انسپیکشن، غیر قانونی عمارتوں کے خلاف عملی کارروائی، جدید فائر فائٹنگ نظام کی تنصیب اور سب سے اہم ذمہ دار افسروں اور مالکان کے خلاف فوجداری مقدمات، جب تک سزا کا خوف نہیں ہوگا، کراچی اسی طرح جلتا رہے گا۔ یہ آگ صرف دکانیں اور عمارتیں نہیں جلا رہی، یہ اعتماد، روزگار اور انسانی جانوں کو بھی نگل رہی ہے۔ اگر آج بھی آنکھیں بند رکھیں تو آنے والے دنوں میں راکھ کے ان ڈھیروں میں صرف لاشیں نہیں، کراچی کی روح بھی دفن ہو جائے گی۔ یہ شہر جل رہا ہے اور افسوس، سندھ حکومت صرف دیکھ رہی ہے۔





