گل پلازہ کی آگ کا دھواں

گل پلازہ کی آگ کا دھواں
روشن لعل
گل پلازہ کراچی میں لگنے والی آگ کے دوران بیسیوں لوگوں کی جان لینے والی آگ کا دھواں تو اپنا کام دکھا کر گم ہو گیا لیکن گل پلازہ جیسے سانحات کی آڑ میں جو گروہ عام لوگوں کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو ان دیکھے دھوئیں کے غبار میں قید کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے، اس کا کام ابھی ختم نہیں ہوا۔ اس گروہ کا حصہ صرف مخصوص سیاستدان نہیں بلکہ کچھ میڈیا ہائوسز اور پس پردہ کام کرنے والے لوگ بھی ہیں۔ اس گروہ میں شامل لوگ کسی بھی اندوہناک واقعہ کے بعد اس طرح سے گند ڈالتے ہیں کہ سانحات کے محرکات پر مثبت تنقیدی نقطہ نظر پیش کرنے کی بجائے تمام تر توانائی ڈالے ہوئے گند کو صاف کرنے میں صرف ہو جاتی ہے۔ گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے محرکات کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہے بغیر آگے نہیں بڑھا جاسکتا کہ صوبے میں آگ لگنے جیسے واقعات پر قابو پانے کے لیے سندھ حکومت اور متعلقہ محکمے اپنا کردار واجب انداز میں ادا کرنے میں ناکام رہے۔ گل پلازہ میں لگنے والی آگ جیسے واقعات روکنے کے لیے سندھ حکومت کو کیا کرنا چاہیے تھا اور وہ کیا کچھ نہیں کر سکی ، اس پر بات کرنے کی بجائے جن لوگوں نے اٹھارویں ترمیم کو ہدف تنقید بنایا اور جو لوگ کسی انتخابی شکست کے صدمے کی وجہ سے کراچی میں بسنے والے مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ان کے متعلق یہ نہیں سوچا جاسکتا کہ انہیں سانحہ گل پلازہ پر کوئی تشویش یا سانحہ کے متاثرین کا کوئی احساس ہے۔
بیرونی دنیا اور خاص طور پر ترقی یافتہ ممالک، سانحات سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات کرنے میں بلا شبہ ہم سے آگے ہیں مگر اس کے باوجود وہاں آگ لگنے جیسے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں۔ بیرونی دنیا میں آگ لگنے جیسا کوئی واقعہ رونما ہونے پر صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ جہاں آگ لگی وہاں آگ سے تحفظ کے پیشگی انتظامات کیے گئے تھے یا نہیں اور متعلقہ اداروں نے آگ لگنے کے بعد اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں کوئی کوتاہی تو نہیں برتی۔ وہاں نہ تو کوئی اٹھارویں ترمیم جیسی کسی آئینی شق کے خلاف زہر اگلتا ہے اور نہ ہی کوئی سیاسی مخالفین کو بے جا تنقید کا نشانہ بناتا ہے ۔ وکی پیڈیا کے مطابق گزشتہ دس برسوں کے دوران دنیا میں آگ لگنے کے سب زیادہ قابل ذکر واقعات متحدہ عرب امارات ، فرانس اور امریکہ میں ہوئے۔ متحدہ عرب امارات میں آگ لگنے کے آٹھ واقعات میں صرف دو لوگوں کی جانیں گئیں ، فرانس میں 5لوگ مرے جبکہ امریکہ میں اتنے ہی واقعات میں 23لوگ ہلاک ہوئے۔ آگ لگنے کے جن غیر معمولی واقعات کو وکی پیڈیا نے اپنے ریکارڈ کا حصہ بنایا ان میں اگر انسانی جانوں کا کم نقصان ہوا تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ جہاں آگ لگی وہاں آگ پر قابو پانے کے بہتر پیشگی انتظامات کیے گئے تھے۔ امریکہ ، متحدہ عرب امارات اور فرانس کے برعکس دنیا کے کچھ ایسے ملک بھی ہیں جہاں سانحات سے نمٹنے کے لیے کیے گئے انتظامات کو پاکستان سے بہتر تصور کیا جاتا مگر وہاں نہ تو کم وقت میں آگ پر قابو پایا گیا اور نہ ہی زیادہ جانی نقصان کو روکا جاسکا۔ ہانگ کانگ میں 26نومبر 2025ء کو لگنے والی جس آگ نے 168لوگوں کی جانیں لیں اس پر 44گھنٹوں بعد قابو پایا گیا تھا، برطانیہ کے گرین ٹاور میں 14جنوری 2017ء کو لگنے والی آگ کی وجہ سے 72لوگ ہلاک ہوئے اور یہ آگ 24گھنٹے تک دہکتی رہی۔ ترکیہ میں 21جنوری2025ء کو لگنے والی جس آگ پر 12گھنٹے بعد قابو پایا گیا اس نے 78لوگوں کی جان لی۔ بنگلہ دیش میں حفاظتی انتظامات کی صورتحال پاکستان جیسی ہی سمجھی جاتی ہے وہاں 29فروری2024 ء کو ڈھاکہ میں لگنے والی آگ پر قابو تو 2گھنٹوں میں پا لیا گیا لیکن اتنے کم وقت میں بھی اس آگ نے 46جانیں لے لیں۔ بیرونی دنیا میں آگ لگنے کے جن واقعات کا حوالہ دیا گیا ، ان کے رونما ہونے کے بعد وہاں کے میڈیا نے ہر گز ایسا دوہرا معیار اختیار نہ کیا کہ جس سے ملک کے مختلف علاقوں اور سیاستدانوں کے لیے ان کے رویوں کا تضاد ظاہر ہو۔ وہاں کے سیاستدانوں نے بھی آگ لگنے کی آڑ میں اپنی سیاست چمکانے کے لیے کسی آئینی ترمیم کو ختم کرنے اور کوئی نئی ترمیم لانے کی بات نہیں کی۔
اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ کراچی اور سندھ میں انتظامی اور دیگر معاملات میں بہتری کی بہت گنجائش موجود ہے لیکن کیا ملک کے دیگر علاقوں میں بہتری کے تمام اہداف حاصل کیے جا چکے ہیں۔ ہمارے میڈیا ہائوسز کراچی میں رونما ہونے والے کسی بھی سانحہ پر تبصرہ کرتے ہوئے نہ جانے کیوں یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ کراچی کی نسبت ملک کے دیگر علاقوں میں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں۔ تقریباً ہر میڈیا ہائوس کے اینکر گل پلازہ پر لگنے والی آگ کے بعد یہ دہائی دیتے پائے گئے کہ کراچی میں کسی جگہ لگنے والی آگ پر قابو پانے کے لیے شہر میں ضرورت کے مطابق فائر سٹیشن، فائر ٹرک اور دیگر سامان موجود نہیں ہے۔ ایسا بیان دیتے ہوئے انہوں نے یہ ضروری نہ سمجھا کہ اعداد و شمار کے ساتھ کسی دوسرے شہر کا کراچی سے موازنہ پیس کرتے ہوئے اپنے دعوے کو درست ثابت کیا جائے۔ مذکورہ اینکرز کا یہ دعویٰ درست یا غلط ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اگر کراچی میں آگ بجھانے کے لیے فائر سٹیشن کی تعداد 35تو لاہور میں ریسکیو فائر سٹیشن کی تعداد 18ہے، کراچی میں فائر بریگیڈ ٹرک 57اور سیڑھیوں والے ٹرک کی تعداد 6ہے تو لاہور میں فائر بریگیڈ کی قابل استعمال گاڑیوں کی تعداد26ہے۔ ہمارے ملک کے سرکاری اداروں میں کام کرنے والے چاہے لاہور میں آگ پر قابو پانے کا کام کر رہے ہوں یا کراچی میں ، ان کے رویوں میں کچھ زیادہ فرق نظر نہیں آتا۔ جن لوگوں نے گل پلازہ میں لگی آگ پر قابو پانے کے دوران کراچی فائر بریگیڈ کے عملہ کی کارکردگی پر تحفظات کا اظہار کیا ، انہیں کیا یہ علم نہیں کہ جب حفیظ سینٹر لاہور میں آگ لگی تو پنجاب کے دارالحکومت میں آگ بجھانے والوں کی کارکردگی کو بھی غیر تسلی بخش کہا گیا تھا۔ جو لوگ کراچی میں رونما ہونے والے کسی سانحہ کے بعد صوبائی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہیں، انہوں نے کبھی یہ ذکر نہیں کیا کہ ملک میں این ڈی ایم اے نام کا ایک وفاقی ادارہ بھی ہے جو دیگر صوبوں کے جنگلوں میں لگی آگ بجھانے کے لیے تو سرگرم نظر آتا ہے لیکن کراچی میں کہیں لگی آگ کی دوران کیوں کبھی دکھائی نہیں دیا۔
کسی عمارت میں ممکنہ طور پر لگنے والی آگ پر قابو پانے کا کام اس عمارت کی بنیادیں رکھنے سے شروع ہوکر فائر بریگیڈ کے عملہ کی کارکردگی تک جاتا ہے۔ وہ لوگ یہ حقیقت سمجھ کر بھی نہیں سمجھنا چاہتے جن کا مقصد آگ لگنے جیسے سانحات کو رونما ہونے سے روکنا نہیں بلکہ جان لیوا آگ کے دھویں کو لوگوں کی عقل پر پردہ ڈالنے کے لیے استعمال کرنا ہے۔





